تحریر ؛۔ ڈاکٹر تصور حسین مرزا
اکثر ہم سنتے ہیں بچہ اور کبھی جوان سوتے سوتے ڈر جاتا ہے کچھ لوگ جن بھوت کا سائیہ قرار دیتے ہیں. عموماً ہم سب زندگی کے کسی نہ کسی حصہ میں اس کیفیت سے ضرور گزرے ہونگے. میڈیکل میں اس کو (Sleep Paralysis) یا عارضی فالج کہتے ہیں یہ ایک خوفناک اور حیرت انگیز ہے۔ انسان خود کو ہوش میں تو محسوس کرتا ہے مگر اپنے جسم کو حرکت نہیں دے سکتا۔ عارضی فالج تب نمودار ہوتا ہے جب انسان ابھی سویا ہو یا نیند سے بیدار ہونے کے قریب ہو۔ عارضی فالج کے دوارن انسان کا دم گُھٹتا ہے اور سینے پر وزن محسوس ہوتا ہے۔ یہ حالت چند سیکنڈز سے چند منٹس تک ہو سکتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق صدمے، اضطراب اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے عارضی فالج ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ عاضی فالج تب ہوتا ہے جب انسان REM سائیکل ختم ہونے سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے۔ . REM is short for rapid eye movement , the
stage of sleep when your eyes move back and forth under your closed eyelids and you have dream.
REM نیند کی ایسی حالت ہے جس میں دماغ بہت فعال ہوتا ہے اور خواب بھی اسی حالت کے دوران آتے ہیں۔ REM کے دوران جسم کے مسلز بنیادی طور پر ریلیکس ہو جاتے ہیں اور کام کرنے کی صلاحت نہیں رکھتے تا کہ آپ اپنے خواب کے مطابق حرکت کرتے ہوئے خود کو نقصان نہ پہنچا لیں۔ عارضی فالج (سلیپ پیرالائسز) تب ہوتا ہے جب ہمارا دماغ تو REM فیز سے باہر آ چکا ہوتا ہے لیکن جسم ابھی بھی ا حالت میں ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے جسم کے پٹھے (مسلز) ابھی بھی غیر فعال ہوتے ہیں۔ اس دوران لوگ سحر انگیزی کی کیفیت سے گزرتے ہیں کیونکہ ہمارا دماغ ابھی بھی خواب کی سی حالت میں ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حالت سے گزرتے ہیں وہ عارضی فالج کے دوران غیرمعمولی اور عجیب مخلوق (جن، جنات بھوت یا سائیہ) کو دیکھتے ہیں۔ عارضی فالج میں انسان مختلف اقسام کے دھوکے میں آ جاتا ہے۔ان میں سے ایک انٹروڈر فینومینن (intruder phenomenon) کہلاتا ہے جس میں انسان محسوس کرتا ہے کہ ان کے پاس کمرے میں کوئی ہے۔ جبکہ ایک دوسرے مظہر کو انکیوبس فینومینن (incubus phenomenon) کہتے ہیں جس میں انسان نیند کے دوران خود پر دباؤ محسوس کرتا.. یہ بیماری عام طور پر دس سے پچیس سال کی عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری جینیاتی بھی ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کو عموماً نارکولپسی (Narcolepsy)سے جوڑا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حالت جس میں غنودگی چھائی رہتی ہے۔ بلکل سیدھا لیٹ کر سونے سے عارضی فالج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجوہات میں بے خوابی یا نیند میں بے قاعدگی بھی ہو سکتی ہیں۔ عارضی فالج کا کوئی خاص علاج تو نہیں ہے۔ مگر اس کی شدت میں اینٹی ڈیپریسینٹ ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ عارضی فالج پر قابو پانے میں مختلف قسم کی تھیراپیز بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔میرے ایک دوست مجھے بتایا دوست کی زبانی سنیئے وہ کہتا ہے کہ ایک صبح دوران نیند میں نے محسوس کیا کہ میرے سینے پر کوئی بھاری مخلوق چڑھ کر مجھے دبوچ رہی ہے، وہ میرا گلہ دبا کے مجھے مارنا چاہتی ہے، میں نے اس مخلوق سے خود کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کی اور پھر کچھ مزاحمت کے بعد بالآخر میں کامیاب ہوگیا، اور وہ مخلوق ہوا میں کہیں اڑ کر غائب ہوگئی، میں نے اپنی آنکھیں کھولیں، لیکن اس وقت تک میرا جسم مفلوج ہوچکا تھا، میں نے سوچا کہ جس سے میں نے مزاحمت کی کیا وہ بھوت کا سایہ تھا؟ یا محض ڈراؤنا خواب یا پھر کچھ اور؟ میں بندہ ناچیز ڈاکٹر تصور حسین مرزا نے اس کو بتایا کہ آپ کی طرح اکثر لوگوں کو صبح اٹھنے سے پہلے دوران نیند کچھ ایسی ہی مزاحمت کرنی پڑتی ہے اور انہیں بھی اپنا جسم مکمل مفلوج محسوس ہوتا ہے، اوراس کیفیت کے دوران ان کے جسم کے تمام مسلز حرکت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور مفلوج ہوجاتے ہیں،اس کے علاوہ اکثر لوگوں کو دوران نیند اپنے سینے پر بہت بھاری پن محسوس ہونے لگتا ہے، اور اپنے بستر سے اٹھنے کی ہمت تک نہیں ہوتی۔یہ سب ( Sleep Paralysis ) ہے اور کچھ نہیں
آخر میں اتنا کہنا چاہتا ہوں اگر ہم یا اپنے عزیزوں کو پر سکون نیند سے ہمکنار کرنا چاہتے اور (sleep Paralysis)سے بچنے کیلئے اور بچوں کو نیند میں ڈر لگنے سے بچانے کیلئے سونے کے لیے لیٹنے کا سنت طریقہ پر عمل کرنا ہوگا یعنی دائیں کروٹ پر قبلہ کی طرف رخ کرکے لیٹ جائیاور دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھ کر سوجائے۔ اگر مکمل وقت اسی کیفیت سے سونا مشکل ہو توکم از کم سونے کے لیے لیٹتے وقت اس ہیئت پر لیٹ جائے۔ اور سوتے وقت آیت الکرسی یا کم از کم سونے کی دعا پڑھ کر سونا چاہیے سب سے اچھی بات باقاعدہ وضو کر کے سونے سے کسی قسم کا ڈر وغیرہ نہیں ہوگا




