تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج پھر حسبِ معمول اپنے قدموں کو بےاختیار ایک پرانے ریلوے اسٹیشن کی سمت لے گئے۔ وہی اسٹیشن جو کبھی زندگی کی دھڑکنوں سے گونجتا تھا، جہاں سیٹی بجاتی ریل گاڑیاں وقت کے سینے پر اپنی رفتار کے دستخط چھوڑتی گزرتی تھیں، جہاں پلیٹ فارم پر لوگوں کے چہروں کی چمک، بچھڑنے والوں کی آنکھوں کی نمی اور ملنے والوں کی مسکراہٹیں ایک مکمل داستان ہوا کرتی تھیں۔ مگر آج یہاں ایک عجیب سا اجاڑ پن اپنی خاموش سلطنت قائم کیے بیٹھا تھا۔پلیٹ فارم کی ٹوٹی ہوئی بنچیں یوں محسوس ہوتی تھیں جیسے برسوں سے کسی اپنے کے انتظار میں پتھرائی بیٹھی ہوں۔ زنگ آلود پٹریاں دور افق تک خاموشی کا ماتم اوڑھے پڑی تھیں جیسے وقت نے ان کے سینے سے سفر کی تمام صدائیں چھین لی ہوں۔ ہوا جب سنسان پلیٹ فارم سے گزرتی تو یوں لگتا جیسے کسی پرانی داستان کے بوسیدہ اوراق آہستہ آہستہ پلٹ رہے ہوں۔ بندن میاں نے ایک گہرا سانس لیا اس سانس میں ماضی کی مہک بھی تھی اور حال کی ویرانی کا کرب بھی۔اسٹیشن کی عمارت کے شکستہ در و دیوار پر شام کی دھندلی روشنی اس طرح پھیل رہی تھی جیسے کوئی اداس مصور اپنے کینوس پر تنہائی کے رنگ بکھیر رہا ہو۔ دور کہیں ایک بوسیدہ سگنل اپنی خاموش سرخی کے ساتھ کھڑا تھا گویا برسوں سے کسی ایسی ریل کا منتظر ہو جو شاید اب کبھی نہ آئے۔ گرد میں لپٹے ہوئے بورڈ پر اسٹیشن کا نام بھی مدھم پڑ چکا تھا جیسے وقت نے اس کی شناخت بھی دھیرے دھیرے مٹا دی ہو۔
اسی عالمِ سکوت میں اچانک دور سڑک سے گزرتے ہوئے ایک ٹرک کی آواز نے بندن میاں کو چونکا دیا۔ ٹرک کے ساتھ بندھا لاؤڈ اسپیکر فضا میں ایک درد بھرا نغمہ بکھیر رہا تھا،
شبِ غم مجھ سے مل کر ایسے روئی
ملا ہو صدیوں بعد جیسے کوئی
یہ بول سن کر بندن میاں کے قدم جیسے وہیں تھم گئے۔ دل کے کسی نہاں خانے میں برسوں سے دبی ہوئی یادوں نے یکایک سر اٹھا لیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ماضی کے دریچے کھلنے لگے۔ یہی تو وہ اسٹیشن تھا جہاں کبھی صبحوں کا آغاز چائے والوں کی آوازوں سے ہوتا تھا، جہاں کولیوں کی پکار، مسافروں کی بےتاب نظریں اور روانگی کی سیٹی مل کر زندگی کا ایک زندہ سمفنی ترتیب دیتی تھیں۔آج وہ خود بھی تو برسوں بعد اس اسٹیشن پر لوٹے تھے۔ یوں محسوس ہوا جیسے یہ اجڑا ہوا پلیٹ فارم ان سے شکوہ کر رہا ہو جیسے زنگ آلود پٹریاں خاموش زبان میں پوچھ رہی ہوں کہ بندن میاں اتنے برس کہاں رہے؟اور واقعی، شبِ غم بھی آج ان سے مل کر ایسے ہی روئی تھی جیسے صدیوں بعد کوئی اپنا مل جائے۔
بندن میاں نے آہستہ سے پلیٹ فارم کی ایک پرانی بنچ پر بیٹھتے ہوئے دور تک پھیلی پٹریوں کو دیکھا۔ ان کے دل میں ایک عجیب سا خیال ابھرا کہ شاید جگہیں بھی انسانوں کی طرح یاد رکھتی ہیں۔ یہ اسٹیشن بھی انہیں پہچان گیا تھا۔ اس کی خاموشی میں ایک مانوسیت تھی اس کی ویرانی میں ایک پرانی رفاقت کا لمس تھا۔ جیسے برسوں بعد دو پرانے دوست ملے ہوں اور الفاظ کے بغیر بھی ایک دوسرے کا حال جان گئے ہوں۔
ہوا کے ایک نرم جھونکے نے گرد کو ذرا سا اٹھایا تو بندن میاں کو یوں لگا جیسے ماضی کی کوئی ریل اب بھی انہی پٹریوں پر دھیرے دھیرے چل رہی ہو۔ اس کے ڈبوں میں یادیں بیٹھی ہوں، کھڑکیوں سے جھانکتے چہرے ماضی کے ہوں اور ہر سیٹی دل کے کسی زخم کو تازہ کر رہی ہو۔وہ دیر تک اسی خاموشی میں بیٹھے رہے۔ کبھی پلیٹ فارم کو دیکھتےکبھی آسمان کی طرف اور کبھی اپنے اندر اترتی ہوئی اس اداسی کو محسوس کرتے۔ آج اس ویران اسٹیشن نے ان کے دل کے اجڑے ہوئے گوشوں کو بھی آواز دے دی تھی جیسے باہر کا سنّاٹا اندر کے سکوت سے ہم کلام ہو گیا ہو۔
بندن میاں کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی مگر آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ انہوں نے دل ہی دل میں کہا کچھ جگہیں صرف اینٹ پتھر نہیں ہوتیں وہ انسان کی عمر کا ایک حصہ اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔اور واقعی آج یہ اسٹیشن صرف ایک ویران عمارت نہ تھا ،بلکہ بندن میاں کی یادوں، جدائیوں، خوابوں اور بیتے زمانوں کا ایک خاموش مزار بن چکا تھا۔
بندن میاں زیر لب ایک بار پھر اس گیت کو گنگناتے ہیں ،شب غم مجھ سے مل کے ایسے روئی ملا ہو صدیوں بعد جیسے کوئی ، اور گویا ہوتے ہیں ارے بھائی یہ مصرع محض ایک ادبی فقرہ نہیں بلکہ انسانی دل کی ایک گہری کیفیت کا بیان ہے کیونکہ جب انسان اپنی مصروف زندگی کے ہنگاموں میں گم ہو جاتا ہے تو اسے اپنے ہی دل سے ملاقات کا موقع بہت کم ملتا ہے اور جب کبھی ایسا لمحہ آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں بعد کوئی اپنا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو بندن میاں اکثر کہا کرتے ہیں کہ انسان کی اصل ملاقات دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے دل سے ہوتی ہے اور یہ ملاقات عموماً رات کے سناٹے میں ہوتی ہے جب دن کی چکا چوند ماند پڑ جاتی ہے اور انسان اپنے باطن کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب شب غم انسان سے مل کر رو پڑتی ہے اور انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے صدیوں بعد کوئی بچھڑا ہوا دوست لوٹ آیا ہو بندن میاں کے نزدیک اس مصرع میں زندگی کی ایک بڑی حقیقت پوشیدہ ہے کیونکہ انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے دکھوں کا بھی صحیح شعور نہیں رہتا دن کے وقت دفتر کی فائلیں افسران کے احکامات اور بابوؤں کی بے جان رپورٹیں انسان کے گرد ایک ایسا حصار قائم کر دیتی ہیں جس میں دل کی آواز دب کر رہ جاتی ہے مگر رات جب اپنی خاموشی کا دامن پھیلاتی ہے تو یہی دل آہستہ آہستہ بولنا شروع کر دیتا ہے بندن میاں کہا کرتے تھے کہ انسان کی زندگی ایک سمندر کی طرح ہے جس کے اوپر لہریں شور مچاتی ہیں مگر اس کی گہرائیوں میں ایک عجیب سکون اور سچائی پوشیدہ ہوتی ہے اور رات کا سناٹا دراصل انسان کو انہی گہرائیوں تک لے جاتا ہے جہاں وہ اپنے اصل وجود سے آشنا ہوتا ہے یہی وہ لمحہ ہے جب شب غم انسان کے سامنے آتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں بعد کوئی اپنا حال سنانے آیا ہو بندن میاں نے اپنی زندگی کے طویل تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ انسان کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ سچائی رات کے وقت محسوس ہوتی ہے کیونکہ دن کے شور میں ہم اپنی کمزوریوں کو چھپا لیتے ہیں مگر رات کا سناٹا ہمیں آئینہ دکھا دیتا ہے بندن میاں کہا کرتے تھے کہ جب انسان رات کے وقت تنہا بیٹھتا ہے تو اسے اپنے ماضی کی وہ سب تصویریں نظر آنے لگتی ہیں جنہیں وہ دن کے وقت بھولنے کی کوشش کرتا ہے کبھی اسے کسی دوست کی بے وفائی یاد آتی ہے کبھی کسی وعدے کی ٹوٹ پھوٹ اس کے دل کو چبھتی ہے کبھی کسی محکمے کی ناانصافی اس کے سینے میں درد کی لہر پیدا کرتی ہے اور کبھی گھر کے کسی لمحے کی خاموشی اسے اندر تک ہلا دیتی ہے یہی وہ کیفیت ہے جس میں شب غم انسان کے سامنے آ کر بیٹھ جاتی ہے اور اس سے ہم کلام ہو جاتی ہے بندن میاں کے مطابق انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ ان لمحوں سے کیا سبق حاصل کرتا ہے کیونکہ دکھ صرف رونے کے لیے نہیں آتا بلکہ سمجھنے کے لیے آتا ہے اگر انسان اس سے سمجھ حاصل کر لے تو یہی دکھ اس کی طاقت بن جاتا ہے بندن میاں کہا کرتے تھے کہ درد انسان کو توڑتا نہیں بلکہ اسے جگاتا ہے یہ انسان کو اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرتا ہے اور اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ کہاں غلطی کر گیا کہاں اس نے کسی کا دل توڑا کہاں اس نے کسی حق کو نظر انداز کیا اور کہاں وہ اپنی ذمہ داری سے غافل ہو گیا بندن میاں کا ماننا تھا کہ زندگی میں اکثر لوگ خوشی کے لمحوں میں بہت مطمئن نظر آتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ خوشی انسان کو کم ہی کچھ سکھاتی ہے اصل استاد تو دکھ ہوتا ہے جو انسان کے اندر ایک نئی بصیرت پیدا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب شب غم انسان سے ملتی ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے صدیوں بعد کسی نے اس کے دل کی بات سنی ہو بندن میاں کہتے تھے کہ انسان کی زندگی میں ایسے بہت سے لمحے آتے ہیں جب اسے لگتا ہے کہ دنیا میں کوئی اس کا دکھ نہیں سمجھتا مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے خود اپنے دل کو سمجھنا چاہیے کیونکہ جب انسان اپنے دل کی آواز سننا سیکھ لیتا ہے تو اسے دوسروں کی بے حسی اتنی تکلیف نہیں دیتی بندن میاں اکثر کہا کرتے تھے کہ اس دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونا تو پسند کرتے ہیں مگر ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے دفتر میں بیٹھے ہوئے افسران بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے فیصلوں کے پیچھے چھپے انسانی درد کو کوئی محسوس نہیں کرتا فائلوں کے ڈھیر میں دبے ہوئے مسائل دراصل انسانوں کی زندگیاں ہوتے ہیں مگر کاغذ پر لکھی ہوئی تحریریں کبھی دل کی دھڑکن کو بیان نہیں کر سکتیں بندن میاں اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے اسی لیے وہ کہا کرتے تھے کہ جب انسان رات کے وقت اپنے آپ سے سوال کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ساری مصروفیات کتنی عارضی ہیں بندن میاں کی نظر میں زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہ تھی کہ انسان کو اپنے دل کی آواز سننی چاہیے کیونکہ یہی آواز اسے صحیح راستہ دکھاتی ہے شب غم دراصل اسی آواز کو جگانے آتی ہے وہ انسان کو اس کی کمزوریوں کا احساس دلاتی ہے اور اسے یہ یاد دلاتی ہے کہ وہ محض ایک مشین نہیں بلکہ ایک حساس دل رکھنے والا انسان ہے بندن میاں نے اپنی زندگی میں بے شمار لوگوں کو دیکھا جو دن کے وقت ہنستے بولتے اور کامیاب نظر آتے تھے مگر رات کے وقت تنہائی میں ٹوٹ جاتے تھے کیونکہ ان کے دل میں بہت سے ان کہے دکھ چھپے ہوتے تھے بندن میاں کہا کرتے تھے کہ انسان کو اپنے دکھ سے بھاگنا نہیں چاہیے بلکہ اسے سمجھنا چاہیے کیونکہ یہی دکھ انسان کی شخصیت کو گہرا بناتا ہے یہی دکھ انسان کو دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کے قابل بناتا ہے یہی دکھ انسان کو انسان بناتا ہے بندن میاں کے نزدیک ملا ہو صدیوں بعد جیسے کوئی کا مطلب صرف ایک ادبی کیفیت نہیں بلکہ انسانی روح کی وہ کیفیت ہے جب انسان اپنے ہی دل سے دوبارہ ملتا ہے جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے بہت دور چلا گیا تھا اور اب واپس لوٹ آیا ہے یہی لوٹنا دراصل انسان کی اصل کامیابی ہے کیونکہ جو شخص اپنے دل سے جڑ جاتا ہے وہ دنیا کے ہر دکھ کا سامنا کرنے کی طاقت پیدا کر لیتا ہے بندن میاں کہا کرتے تھے کہ رات کی خاموشی انسان کے لیے ایک نعمت ہے کیونکہ اسی خاموشی میں وہ اپنے دل کی آواز سن سکتا ہے اسی خاموشی میں وہ اپنے ماضی کی غلطیوں کو سمجھ سکتا ہے اور اسی خاموشی میں وہ اپنے مستقبل کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کر سکتا ہے بندن میاں کے مطابق زندگی کا حسن یہی ہے کہ انسان ہر دکھ سے ایک سبق حاصل کرے اور ہر رات کے بعد ایک نئی امید کے ساتھ صبح کا استقبال کرے کیونکہ رات ہمیشہ قائم نہیں رہتی اور دکھ ہمیشہ باقی نہیں رہتا ہر شب کے بعد ایک نیا دن طلوع ہوتا ہے اور ہر آنسو کے بعد ایک نیا حوصلہ جنم لیتا ہے بندن میاں کا دل ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ انسان کو زندگی کے ہر لمحے سے سیکھنا چاہیے کیونکہ یہی لمحے اسے سمجھدار بناتے ہیں یہی لمحے اسے نرم دل بناتے ہیں اور یہی لمحے اسے انسانیت کے قریب لے جاتے ہیں اور جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو شب غم بھی اس کے لیے ایک نعمت بن جاتی ہے کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ ہر درد کے پیچھے ایک حکمت ہے ہر آنسو کے پیچھے ایک سبق ہے اور ہر رات کے پیچھے ایک نئی صبح چھپی ہوئی ہے یہی وہ حقیقت ہے جسے بندن میاں نے اپنی زندگی میں سمجھا اور یہی وہ پیغام ہے جو وہ ہر اس انسان کو دینا چاہتے تھے جو زندگی کی دوڑ میں اپنے دل کی آواز سننا بھول جاتا ہے کیونکہ جب انسان اپنے دل کی آواز سن لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ زندگی کا اصل حسن دولت یا عہدوں میں نہیں بلکہ احساس اور انسانیت میں ہے اور یہی احساس وہ چراغ ہے جو شب غم کی تاریکی میں بھی روشنی پیدا کر دیتا ہے اور انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر دل زندہ ہو تو کوئی رات ہمیشہ اندھیری نہیں رہتی اور اگر انسان سچائی کو پہچان لے تو دکھ بھی اس کے لیے روشنی کا دروازہ بن جاتا ہے۔




