یہ کوئی کہانی نہیں… یہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ماں سے ملاقات ہوئی۔ چہروں پر وقت کی لکیریں، اور لہجے میں عجیب سا خوف۔ باتوں ہی باتوں میں وہ ایک ایسا جملہ کہہ گئی جو دل میں تیر کی طرح لگا:
"اب ہم اولاد کے محتاج ہیں انکی کمائی کھاتے ہیں… اس لیے ڈرتے ہیں کہ اگر کچھ کہہ دیا تو خرچہ بھی بند نہ کر دیں۔”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا… ایک پورا دکھ تھا، ایک پوری زندگی کی محنت کا صلہ تھا، ایک بے بسی کی آواز تھی۔
یہ وہی ماں باپ ہیں جو کبھی اپنی اولاد کے لیے ڈھال بنے کھڑے رہے۔ جنہوں نے اپنی نیندیں قربان کیں، اپنی خواہشات مٹا دیں، اپنی خوشیاں بچوں کے نام کر دیں۔ صرف اس لیے کہ اولاد ایک بہتر زندگی گزار سکے،،،، مگر آج… وہی ماں باپ اپنی ہی اولاد کے سامنے محتاجی اور خاموشی کی تصویر بن گئے ہیں۔
افسوس کی بات یہ نہیں کہ اولاد خرچہ دے رہی ہے…
افسوس یہ ہے کہ خرچے کے بدلے ماں باپ اپنی زبان، اپنی عزت اور اپنا حق بھی گروی رکھ دیتے ہیں،،،
ماں باپ اب اپنی ضرورت بھی زبان پر نہیں لاتے۔
وہ دوائی ختم ہونے پر بھی چپ رہتے ہیں…
وہ کپڑے پرانے ہونے پر بھی خاموش رہتے ہیں…
وہ صرف اس لیے کچھ نہیں کہتے کہ کہیں وہ بوجھ نہ سمجھ لیے جائیں،
یہ کیسا رشتہ رہ گیا ہے؟
جہاں محبت کی جگہ حساب نے لے لی ہے…
اور ادب کی جگہ خوف نے۔
اولاد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ماں باپ کبھی مانگتے نہیں۔
وہ صرف انتظار کرتے ہیں…
اپنی اولاد کی توجہ کا، ان کے احساس کا، ان کے ایک پیار بھرے سوال کا۔
اگر ماں باپ کو اپنی ہی اولاد سے ڈر لگنے لگے…
تو یہ صرف ایک گھر کا نہیں، پورے معاشرے کا المیہ ہے۔
آج ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا:
کیا ہمارے والدین بھی ہم سے کچھ کہتے ہوئے ہچکچاتے ہیں؟
کیا وہ بھی اپنے حق کے لیے خاموش ہیں؟
اگر جواب "ہاں” ہے… تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔
کیونکہ وقت گزر جاتا ہے… مگر پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔
یاد رکھیں…
ماں باپ کو صرف خرچہ نہیں، احساس چاہیے ہوتا ہے۔
اور جو اولاد یہ احساس دے دیتی ہے… وہی اصل کامیاب ہوتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں والدین کی قدر کرنے والا ، انکا خیال رکھنے والا انکے دلوں کو سکون دینے والا بنائے آمین۔




