تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج حسب معمول محلے کے نکڑ پر اپنی پرانی مگر وفا دار سائیکل کے ہینڈل پر کہنی ٹکائے یوں کھڑے تھے جیسے زمانہ اپنی پوری داستان لے کر ان کے سامنے مودب کھڑا ہو اور وہ اس کے ماتھے پر لکھی ہوئی سطروں کو خاموشی سے پڑھ رہے ہوں۔ ہوا میں ایک عجیب سی بوجھل خاموشی تھی مگر اس خاموشی کے اندر دنیا بھر کے ایوانوں کی سرخوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔ روم سے لے کر لندن تک پیرس سے لے کر میڈرڈ تک اور واشنگٹن سے لے کر مشرق وسطیٰ کے جلتے ہوئے افق تک ایک نئی صف بندی کے آثار نمایاں تھے۔ اٹلی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خو دکار تجدید معطل کرنے کا اعلان محض ایک سفارتی کاغذی کاروائی نہیں بلکہ عالمی سیاست کی بساط پر ایک ایسا مہرہ ثابت ہو رہا ہے جس نے بہت سے پرانے نقشوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے واضح طور پر کہا کہ موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی خود کار تجدید روک دی گئی ہے اور یہ اعلان عالمی سطح پر ایک گہری سیاسی اور اخلاقی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
بندن میاں نے اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے کہا کہ دنیا آخر کب تک خون کے دھبوں کو سفارتی قالینوں کے نیچے چھپاتی رہے گی۔ جب جنگ کے شعلے سرحدوں سے نکل کر انسانیت کے ضمیر تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر محض معاہدے نہیں ٹوٹتے بلکہ خاموشیاں بھی ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اٹلی کا یہ فیصلہ دراصل اس عالمی بے چینی کا اظہار ہے جو غزہ ،لبنان اور پورے خطے میں جاری تباہی کے بعد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ کل تک جو ممالک محض رسمی بیانات پر اکتفا کرتے تھے آج وہ اپنے دفاعی اور سفارتی تعلقات پر نظر ثانی پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے بندن میاں تاریخ کے موڑ کا نام دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے بھی زیادہ معنی رکھتا ہے کہ اٹلی ماضی میں ان یورپی ممالک میں شمار ہوتا تھا جو اسرائیل کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ لیکن جب لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کے قریب گولیاں چلنے لگیں اور شہری آباد یوں پر حملوں کی خبریں مسلسل آنے لگیں تو سیاسی دوستیوں کے رنگ پھیکے پڑنا شروع ہو گئے۔ یہ محض ایک ریاستی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا اشارہ ہے کہ اب عالمی طاقتوں کے اندر بھی اضطراب بڑھ رہا ہے۔
بندن میاں نے گہری سانس لی اور کہا کہ دنیا میں امن صرف نعروں سے قائم نہیں ہوتا۔ امن کے لیے طاقت کے نشے میں چور ریاستوں کو واضح پیغام دینا پڑتا ہے کہ بین الاقو امی قانون کوئی کاغذی کھلونا نہیں اور انسانی جانیں کسی جغرافیائی مفاد سے کم قیمت نہیں۔ اگر آج اٹلی نے یہ قدم اٹھایا ہے تو کل فرانس ،سپین، ہالینڈ ،بیلجئم اور دیگر ممالک بھی اپنے تعلقات کا از سرنو جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ برطانیہ کی جانب سے اس سے پہلے 350 میں سے 30 اسلحہ لائیسنس معطل کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا جس نے واضح کر دیا تھا کہ دنیا مکمل خاموشی کے موڈ میں نہیں رہی۔
بندن میاں کی آواز میں اب وہی چبھتا ہوا سچ در آیا جو ہمیشہ ان کے لہجے کی پہچان رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اب انسانی جانوں کی حرمت کو مفادات کی سیاست پر فوقیت دینے جا رہی ہے۔ اگر یہ تبدیلی واقعی اخلاقی بنیادوں پر ہے تو یہ ایک خوش آئند آغاز ہے لیکن اگر یہ سب کچھ صرف ووٹ بینک داخلی دباؤ یا وقتی سیاسی مصلحتوں کا نتیجہ ہے تو پھر یہ مرہم زیادہ دیر زخموں کو نہیں بھر سکے گا۔
بندن میاں نے اپنی سائیکل کے ہینڈل کو تھپتھپایا اور کہا کہ امریکہ کو بھی اب اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنا ہو گی۔ دھمکی آمیز پیغامات اور طاقت کے مظاہرے دنیا کو مزید جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ آج دنیا جنگ و جدل سے تنگ آ چکی ہے۔ عام انسان چاہے وہ یورپ میں ہو مشرق وسطیٰ میں ہو ایشیا میں ہو یا امریکہ میں خود وہ امن چاہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے سکون چاہتا ہے۔ وہ بازاروں میں بارود نہیں بلکہ زندگی کی رونق دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر واشنگٹن نے اپنی زبان اور حکمت عملی میں نرمی نہ لائی تو یہ خطرہ موجود ہے کہ امریکہ بھی عالمی سفارتی تنہائی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔
بندن میاں نے کہا کہ طاقت کا مطلب صرف ہتھیار نہیں ہوتا بلکہ تحمل بھی طاقت ہے اور انصاف بھی طاقت ہے۔ امریکہ اگر واقعی عالمی قیادت کا دعویدار ہے تو اسے جنگی بیانیے کے بجائے امن کے بیانیے کی قیادت کرنا ہو گی۔ اسے ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنا ہو گا جو دنیا کو مزید تقسیم کریں۔ دنیا کو اس وقت شٹ اپ کال کی ضرورت صرف ایک ریاست کو نہیں بلکہ ہر اس طاقت کو ہے جو آگ پر تیل ڈال رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو بھی اب واضح اور سخت سفارتی پیغام دینا وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک اگر واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بین الاقو امی قوانین کے مطابق عملی دباؤ ڈالنا ہو گا۔ اقتصادی تعلقات دفاعی تعاون اور سیاسی حمایت کو انسانی حقوق اور بین الاقو امی قانون سے مشروط کرنا ہو گا۔ یہی وہ نکیل ہے جس کے بغیر امن کا خواب محض خواب ہی رہے گا۔
بندن میاں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشتوں کو بھی کھا جاتی ہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں عالمی تجارت متاثر ہوتی ہے سمندری راستے خطرے میں آتے ہیں اور پھر اس کا بوجھ عام آدمی کے چولہے تک پہنچتا ہے۔ آج اگر آ بنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو ہلا دیتے ہیں۔انہوں نے نہایت کرب اور بے چینی کے ساتھ کہا کہ دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ امن کے ساتھ کھڑی ہے یا طاقت کی اندھی اور بے حس سیاست کے ساتھ۔ اب مزید خاموشی کسی مصلحت کا نام نہیں بلکہ انسانیت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس نازک گھڑی میں بھی بر وقت اور دو ٹوک کردار ادا نہ کیا تو یہ آگ سرحدوں اور خطوں کی قید سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور پھر کوئی شہر، کوئی معیشت، کوئی خاندان اور کوئی مستقبل محفوظ نہیں رہے گا۔ امن صرف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب انصاف کو بنیاد بنایا جائے، طاقت کے ہر مرکز کو قانون کے تابع کیا جائے اور ہر فریق کو بین الاقو امی اصولوں اور انسانی اقدار کے دائرے میں جواب دہ بنایا جائے۔
بندن میاں کے لہجے میں اس لمحے ایک فرد کا درد نہیں بلکہ پوری انسانیت کی اجتماعی فریاد بول رہی تھی۔ انہوں نے بھاری دل اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا کہ باقی ممالک کو بھی اس صورتحال پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنی چاہیے۔ خاموش رہنا اب غیر جانبداری نہیں رہا بلکہ بعض اوقات یہ ناانصافی کی خاموش تائید بن جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں چین ،روس ،برطانیہ ،جرمنی ،فرانس اور دیگر با اثر ممالک کو اب محض رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک واضح اور مضبوط امن فریم ورک تشکیل دینا ہو گا جس میں فوری جنگ بندی، انسانی راہداریوں کی بحالی، زخمیوں اور متاثرین تک امداد کی رسائی اور با معنی سفارتی مذاکرات کو اولین ترجیح دی جائے۔ یہی وہ وقت ہے جب عالمی قیادت کو اپنے ضمیر اور اپنی ذمہ داری دونوں کا امتحان دینا ہے۔
بندن میاں نے نہایت دکھ اور اضطراب کے عالم میں یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کو دنیا کی طرف سے ایک بھر پور، واضح اور دو ٹوک پیغام دیا جانا چاہیے کہ طاقت کے نشے میں انسانیت کو روندنے کی روش مزید قابل قبول نہیں۔ دنیا اب جنگی دھمکیوں، اشتعال انگیز بیانات اور طاقت کے مظاہروں سے تنگ آ چکی ہے۔ واشنگٹن کو یہ سمجھنا ہو گا کہ عالمی قیادت دھمکی سے نہیں، حکمت، انصاف اور امن پسندی سے قائم ہوتی ہے۔ اگر امریکہ نے اپنی پالیسیوں اور اپنے لہجے پر نظر ثانی نہ کی تو یہ سفارتی تنہائی کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، اور وہ خود بھی ایک ایسی عالمی بے اعتمادی کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات دور رس ہوں گے۔
آخر میں بندن میاں نے گہرے دکھ اور بوجھل دل کے ساتھ کہا کہ دنیا اب تھک چکی ہے۔ مائیں اپنے بچوں کے لیے امن چاہتی ہیں، باپ اپنے گھروں کے لیے سکون چاہتے ہیں اور نوجوان اپنے مستقبل کے لیے امید کے چراغ روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر عالمی قیادت نے اب بھی جنگی جنون کو لگام نہ دی تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اٹلی کا فیصلہ شاید ایک آغاز ہے ایک ایسی طویل خاموشی کے ٹوٹنے کا آغاز جو بہت عرصے سے انسانیت کے زخموں پر مسلط تھی۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا طاقت کے شور، دھمکیوں کے غرور اور جنگی جنون کے اندھیرے سے نکل کر انسانیت، انصاف اور امن کی آواز کو سنے اور ہر اس قوت کو واضح پیغام دے جو دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے کہ اب بس، اب انسانیت کو زندہ رہنے دیا جائے۔
یہ صرف بندن میاں ہی کی خواہش نہیں بلکہ ہر اس بیدار ضمیر انسان کے دل کی صدا ہے جس کے اندر ابھی انسانیت زندہ ہے، جس کی آنکھیں جنگ کے شعلوں میں جھلستے ہوئے گھروں کو دیکھ کر نم ہو جاتی ہیں، جس کا دل معصوم بچوں کی سسکیوں سے لرز اٹھتا ہے اور جس کی روح ہر اس ماں کے آنسوؤں سے زخمی ہوتی ہے جو اپنے لخت جگر کو بارود کے دھوئیں میں کھو بیٹھی ہو۔ یہ محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک بیدار ضمیر کی پکار، ایک زخمی انسانیت کی فریاد اور ایک ایسے زمانے کے نام کھلا خط ہے جو جنگ کے شور میں امن کی صدا سننے سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اس درد کی آواز ہے جو ہر جلتے ہوئے گھر، ہر اجڑے ہوئے شہر، ہر سہمے ہوئے بچے اور ہر اشک بار ماں کی آنکھ سے اٹھ کر عالمی ایوانوں کے دروازوں پر مسلسل دستک دے رہی ہے کہ دنیا کو اب بارود نہیں، بصیرت چاہیے، تصادم نہیں، تدبر چاہیےاور امن کے قیام کے لیے ہر اس قوت کی لگام کھینچنا ناگزیر ہے جو انسانیت، انصاف اور عالمی سکون کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہے۔
بندن میاں تو محض اس اجتماعی احساس کے ترجمان ہیں جو آج دنیا کے ہر حساس دل میں موجزن ہے۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ دراصل ان بے شمار دلوں کی دھڑکن ہے جو جنگ کے اس طویل اور تھکا دینے والے شور سے عاجز آ چکے ہیں۔ آج ہر با شعور انسان یہی محسوس کر رہا ہے کہ زمین مزید لاشوں کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں رہی، آسمان مزید دھوئیں کے بادل برداشت نہیں کر سکتا اور انسانیت کے دامن پر مزید خون کے دھبے کسی بھی مہذب دنیا کے لیے باعث شرم ہیں یہ وہ صدا ہے جو صرف کسی ایک خطے یا ایک قوم تک محدود نہیں رہی بلکہ مشرق سے مغرب تک ہر اس شخص کی آواز بن چکی ہے جو امن کو زندگی کی بنیاد سمجھتا ہے۔ چاہے وہ کسی اجڑے ہوئے شہر کے ملبے تلے دبے خواب ہوں، یا کسی پناہ گزین کیمپ میں بھوک اور خوف سے سہمی ہوئی آنکھیں، یا کسی ماں کی وہ خاموش دعا جو اپنے بچے کے محفوظ مستقبل کے لیے آسمان کی طرف اٹھتی ہے۔سب ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ دنیا کو اب طاقت کے اندھے مظاہرے نہیں بلکہ دانش، انصاف اور رحم کی ضرورت ہے یہی وہ لمحہ ہے جہاں بندن میاں کی آواز ایک فرد کی آواز نہیں رہتی بلکہ ایک عہد کی آواز بن جاتی ہے۔ ایک ایسا عہد جو دنیا کے حکمرانوں، عالمی طاقتوں اور سفارتی ایوانوں سے یہ سوال کر رہا ہے کہ آخر کب تک مفادات کی سیاست انسانیت کی چیخوں پر غالب رہے گی۔ کب تک بارود کی بو انسانی اقدار کو دباتی رہے گی۔ کب تک طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ معصوم جانوں کے زیاں کو محض اعداد و شمار کی صورت میں دیکھتے رہیں گے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا اس فریاد کو محض ایک تحریر نہ سمجھے بلکہ اسے اپنے اجتماعی ضمیر کی بازگشت کے طور پر سنے۔ کیونکہ امن کسی ایک شخص کی خواہش نہیں یہ پوری انسانیت کی ضرورت ہے۔ اور جب انسانیت زخمی ہو تو خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ہر وہ قوت جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دے رہی ہے اسے عقل، انصاف اور عالمی قانون کی مضبوط گرفت میں لایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ، پُرامن اور مہذب دنیا میں سانس لے سکیں ۔یہی بندن میاں کی آواز ہے، یہی ہر بیدار ضمیر دل کی صدا ہے اور یہی اس زمانے کے نام وہ کھلا خط ہے جسے اب پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔




