اپریل 17, 2026

سفید پوش انسان ڈیفالٹ ھوگیا۔۔!!

کالمکار : جاوید صدیقی

موجودہ دور میں اسلام کے داعی، رہبر و رہنما، معلمین و اسکالرز، مبلغین و مفکرین، دانشور و ادیب، صحافی و لکھاری، فلاح و بہبود اور خیراتی ادارے و تنظیمیں اور سب سے بڑھ کر حکومتی ذمہداران وزیر و مشیران نے جس قدر نااہلی، خودغرضی، بےحسی و لاپرواہی کا وہ تاریخی عملی مظاہرہ پیش کیا جارھا ھے جس کی آج تک کوئی مثال نہیں ملتی، اس ماحول کے ھم سب براہ راست ذمہدار بھی ھیں اور مجرم بھی، ان میں وہ خاص کر ہیں جو بناء تحقیق اپنے عطیات ان گروہی مافیاء کے سپرد کردیتے ھیں جو حقدار تک پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام اور نامراد رہتے ھیں، اسکی سب سے بڑی وجہ انکی تشہیر پر پوری توجہ اور ریاکاری و منافقت کا عمل شامل ھے۔ میرے تمام مشاہدات و تجربات کی حقیقت جاننے کیلئے تمام معزز قارئین آزادانہ انداز سے آگاہی حاصل کرسکتے ھیں اور حرف بہ حرف اپنے مشاہدے اور تجربہ میں لاسکتے ھیں۔ میں نے کئی بار اپنے کالموں اور خبروں میں زور دیا کہ ہر اس ادارے، تنظیم، گروہ اور مراکز کا کھلا سالانہ احتساب و آڈٹ کا سلسلہ جاری کیا جائے تاکہ جائزہ بھی لیا جائے کہ عطیاتی رقوم کس مد میں اور کس طرح خرچ کی جارہی ھیں۔ اس طرح عطیات دینے والی کی رقمیں سفید پوش افراد تک پہنچ سکیں گی اور ساتھ ساتھ ادائیگی طریقہ بھی جدید خطوط کے مطابق صاف و شفاف مرتب کیا جاسکے گا تاکہ کوئی ایک بھی حق دار محروم نہ رہ سکے۔ اس پلاننگ میں یہ بھی طے کیا جائیگا کہ جس کا شناختی کارڈ جس اصل پتہ کا ھوگا وہ اسی مقام سے مالی سہولت حاصل کرسکے گا یہ ہرگز نہیں ھونا چاہئے کہ ایک شہر میں کڑوروں کی تعداد میں جوق در جوق گداگیر بھیکاری اور دیگر مافیاء بھر بھر کے روز کی بنیاد پر آتے رہیں اور لوٹ و کھسوٹ کر روانہ ھوجائیں یہ لوٹنے کا عمل فوری بند کرنا ھوگا۔ اب میں اپنے معزز قارئین کرو توجہ دلاؤنگا کہ ایک سفید پوش بلخصوص کراچی کا سفید پوش کس قدر متاثر اور ڈیفالٹ ھوچکا ھے کراچی کا ذکر اس واسطہ کیا کہ یہاں کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، ایف بی آر سمیت تھانوں کا عمل سب سے زیادہ مہنگا ھے۔ نیپرا کراچی کے متعلق آنکھ اور کان بند کرلیتا ھے گویا آزادی ھے ان محکموں کو کہ جس قدر لوٹنا چاہتے ھو لوٹ لو۔ کبھی اپنی ٹیم پر مشتمل گروہ بندی کرکے جائزہ نہیں لیا گیا کہ آیا حکومتی ادارے بھاری یوٹیلیٹی بلز کی مد میں رقوم وصول کرتے چلے آرھے ھیں اسی قدر سہولیات سے بھی کبھی آراستہ کیا۔ ھماری عدلیہ گویا اپنی جسم کا سودا لگانے کیلئے حسن بازار میں کھڑی رہتی ھے اور حرام کی رقم وصول کرکے غیر منصفانہ فیصلے صادر کرکے اللہ ﷻ اور رسول خدا ﷺ کی حکم عدولی کی عادی بن چکی ھے، مانا کہ ھمارے پارلیمینٹرین اور اسٹبلشمنٹ خود کو اللہ ﷻ و رسول اللہ ﷺ سے خود کو آزاد سمجھتی ھے تب ہی ایسے حالات رونما ھوتے چلے جارھے ھیں، ان حالات میں سب سے زیادہ سفید پوش طبقہ بے انتہا سفر ھورھا ھے اور شدید اذیت و کرب میں مبتلا ھے۔ اب ذرا سفید پوش پر نظر ڈالتے ھیں ۔۔۔معزز قارئین!! سفید پوش طبقہ کی تنخواہ چار سال پرانی والی، اور مکان کا کرایہ تقریباً دوگنا ھے۔ اسکول کی فیسں میں اسی فیصد زیادہ اضافہ ھوگیا جبکہ ہزار والی کاپیاں کتابیں پچپن ہزار روپے ہوگئی، تین سو والا گیس بل ساڑھے چار سو روپے ہوگیا، جبکہ دو ہزار والا بجلی کا بل پندرہ ہزار روپے تک پہنچ گیا، آٹھ سو والا آٹا بائیس سو روپے، اور ڈیڑھ سو والا گھی چھ سو روپے تک پہنچ گیا، چھ روپے والی روٹی پچیس روپے تک، اور دس والا نان تیس روپے اور پچاس والی چنے کی پلیٹ ڈیڑھ سو روپے، بائیس سو والا موٹر سائیکل ٹائر ٹیوب اور رم چھ ہزار روپے میں فروخت رھا ھے، ڈیڑھ سو والا پٹرول تین سو روپے لیٹر، جبکہ بیس والا چنگچی کرایہ پچاس روپے ہوگیا، پندرہ سو والی شلوار قمیض اب تین ہزار روپے سے بھی تجاوز کرگئی ھے، ڈاکٹروں کی فیس پچیس سو اور پانچ ہزار روپے تک پہنچ چکی ھے، ڈیڑھ سو والی دوا چھ سو روپے میں فروخت کی جارہی ھے، یہ سب ہوگا تو سفید پوش پچاس سے اسی ہزار کمانے والا کیا کریگا ایک اندازے کے مطابق بہت ہاتھ کھینچ کر بھی ماہانہ متوسط سفید پوش کا ماہانہ گھر کا خرچہ ڈیڑھ سے دو لاکھ بنتا ھے، کہاں جائیگا یہ سفید پوش طبقہ؟ مکمل تباہی یقینی لگنے لگی ہے۔ یقین جانیے ملک کا کم از کم ساٹھ فیصد سفید پوش طبقہ ڈیفالٹ کر چکا ہے۔ صدقہ زکواۃ فطرہ اور راشن وغیرہ، جھگیوں میں بیٹھے نشئی اور جرائم پیشہ ٹبروں کو نہیں بلکہ پردہ داری کے ساتھ سفید پوشوں کے گھروں میں پہنچائیں. یہ ہر صاحب ثروت صاحب استطاعت اور ان تمام فلاحی تنظیموں گروہ اور مراکز کی اخلاقی و دینی ذمہداری عائد ھوتی ھے اگر یہی نظام تقسیم درست ھوجائے تونہ کوئی بھکاری نظر آئیگا نہ مافیاء جنم لے سکے گی۔ اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم اور رحم فرمائے۔ آمین یارب العالمین