تحریر: قاضی محمد فضل عثمان
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ……..عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
الیکشن کا دور تھا ۔ غالبا ششم یا ہفتم کا طالبعلم تھا ۔ الیکشن کا بگل بجا تو مجھے بھی گھر میں اخبارات کی ورق گردانی کیوجہ سے کچھ الیکشن سے دلچسپی ہوگئی تھی ۔ والد گرامی علیہ الرحمہ کے تعلق خاطر کی وجہ سے مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی سے ایک قلبی تعلق پیدا ہوچکا تھا ۔ ان کی جماعت کی طرف سے ہمارے قومی اسمبلی کے حلقے میں پیر افضل قادری صاحب جے یو پی کے گروپ کے امیدوار بنے ۔انتخابی نشان ٹریکٹر تھا ۔ میں نے ان کے اشتہار اکٹھے بھی کئے ،جہاں تک ممکن ہوسکا لگائے بھی اس الیکشن مہم نے گجرات کے چوہدری خاندان کی کرسی کو ہلادیا تھا ۔ پھر خفیہ ہاتھ سرگرم ہوا ۔ پیر صاحب کو بوجوہ بٹھا دیا گیا ۔ لوگوں نے باتیں بھی بنائیں لوگوں کا تو کام ہی یہی ہے ۔ بہرحال پیر صاحب نے اپنی جرات رندانہ سے اپنا لوہا منوا لیا ۔ اس کے بعد کوئی بھی مسئلہ مذہبی یا مسلکی گجرات کے آس پاس ہوتا یا کہیں بھی تو صرف پیر صاحب کا اعلان ہی کافی ہوتا ۔ جرءات وبہادری کا یہ سفر عزیمت جاری رہا ۔
میری پہلی باقاعدہ ملاقات جناب پیر صاحب سے گجرانوالہ ہوئی جہاں ان کے برادر خورد مولانا محمد مسعود قادری کے ساتھ استاذ الفضلا شیخ الحدیث مولانا محمد نواز صاحب علیہ الرحمہ کے زیر سایہ ادارے میں راقم الحروف بھی زیر تعلیم تھا -۱۹۹۴ کی بات تھی ۔ ایک پروگرام سے واپسی پر پیر صاحب سے تعارف ہوا ، والد گرامی کی وجہ سے بہت شفقت فرمائی ، اعزاز کے ساتھ اپنے ساتھ گاڑی میں گجرات تک لفٹ عطا فرمائی – باتوں باتوں میں ذکر ہوا کہ میں عمارات کی نقشہ نویسی کی تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھتا ہوں تو مجھے فرمایا کہ ہمارے ادارے میں ہم ایک لائبریری بنانے جارہے ہیں ہمیں اس کا نقشہ بنا دو ۔ میں نے کچھ دنوں تک آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ کر ان کو بھیج دیا ۔ اس کے بعد فالو اپ نہیں ہوسکا –
لیکن اس دوران پیر صاحب تدریس کے ساتھ ساتھ تحریر ، تقریر، فتویٰ نویسی ، باطل فرقوں کی بیخ کنی اور تحریکی میدان میں پوری جانفشانی کے ساتھ مصروف کار رہے ۔
پیر صاحب کی تحریکی سرگرمیوں کی خبریں آتی رہیں ، ان میں سب سے بڑی خبر ان کی اتحاد اہلسنت کے لئے کوشش تھی ۔ اپنی اس کوشش کے وجہ سے مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد الستار نیازی کو اکتوبر ۱۹۹۵ میں پیر صاحب نے موچی گیٹ میں منعقدہ سنی کانفرنس کے سٹیج پر اکٹھا کردیا ۔ اس پروگرام میں ہم بھی ڈنگہ سے قافلہ لیکر استاذ محترم مولانا محمد رضاءالمصطفی رحمہ اللہ کی قیادت میں حاضر ہوئے تھے ۔
پورا پروگرام سنا ،مزا آگیا ، قائدین کو اتنے قریب سے دیکھنا ہمارے لئے عیاشی سے کم تھا ۔ پیر صاحب سمیت سب کے خطابات سنے روح سرشار ہوگئی ۔ مولانا حامد سعید کاظمی کا خطاب پہلی بار سنا ، خوبصورت لفاظی ، استعارات کا استعمال محفل کا لطف دوبالا ہوگیا ۔ نیازی صاحب کا گھن گرج والا بیان اور مولانا نورانی کا حلاوت بھرا بیان آج بھی سماعت میں تازہ ہے ۔ اس پروگرام کے بیانات یوٹیوب پر دستیاب ہیں ۔
اس کے کچھ عرصہ تعلیمی مصروفیات اور۔ تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
کے مصداق تھوڑا سا تعطل پیدا ہوا ۔ لیکن پھر یہ سلسلہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کی والدہ محترمہ کے ختم قل شریف پر پھر بحال ہوا ۔ پیر صاحب کو اسی گھن گرج میں سنا اور انہوں زور دیکر کہا اگر سنیوں نے کچھ منوانا ہے تو ان کے پاس جواں سال قائد ڈاکٹر جلالی کی شکل میں موجود ہے ، اس کے پیچھے چل پڑیں سب کچھ بہتر ہوجائیگا ۔
غازی ممتاز قادری کی شہادت ، جنازہ ، چہلم ، دھرنوں میں پیر صاحب کا قائدانہ کردار سب پہ عیاں ہے ۔ جس طرح جرات کے ساتھ ہر جگہ اپنا موقف پیش کیا ۔ اور تمام امتحانات میں سرخرو لوٹے ۔ اہل سنت کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ۔ امیر المجاہدین ، پیشوائے اہل سنت اور قائد اہل سنت ان لوگوں کی مثلث نے باطل قوتوں کی نیندیں حرام کردیں ۔ پھر خفیہ ہاتھ سرگرم ہوا ، لاہور کے ایک بہت بڑے پروگرام کے بعد ان کو اکٹھا دیکھنا نصیب نہ ہوا ۔ وائے حسرت وائے ناکامی کہ متاع کارواں جاتا رہا ۔
قائدین کی آپس میں علیحدگی کے بعد بھی سب لوگ اپنے اپنے محاذ پر سرگرم رہے ۔ دھرنے ، جلوس ، تحریک تحفظ ناموس رسالت ، دیگر تمام معاملات میں ایک توانا آواز اپنے حصے کا کام کرتی رہی ۔ مزاج کی سختی کی وجہ سے صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ لیکن اپنے آقا کی ناموس کا جب بھی مسئلہ آیا ۔ پیر صاحب کو ہمیشہ صف اول میں پایا ۔ ایسے توانا اور بھرپور تحریکی زندگی گزارنے کے بعد ۱۳ مارچ ۲۰۲۴ رمضان کریم کی مقدس ساعات میں درود پاک کا ورد کرتے ہوئے پیر افضل قادری اپنے مالک کے حضور حاضر ہوگئے ۔ اللہ کریم ان کی جملہ حسنات کو اپنے بارگاہ میں قبول فرماکر بہترین اجر سے نوازے ۔ آمین




