تحریر:رزاق غفاری
گجرات ایک قدیم ضلع ہے اور گجرات میں سیوریج کے مسائل کے حل کے حوالہ سے شروع سے ہی بہتر پلاننگ کی گئی لیکن جب پاکستان کا وجود عمل میں آیا تو یہ ساری پلاننگ کھوہ کھاتے چلی گئی ماضی میں گجرات میں مختلف بڑے بڑے گندے نالے موجود تھے جن سے سیوریج اور نکاسی آب میں بے پناہ مدد ملتی تھی اگر ہم ماضی قریب میں دیکھیں تو گجرات کے مختلف علاقوں میں نالے اپنے مقررہ رستوں سے ہوتے ہوئے مختلف برساتی نالوں میں مل جاتے تھے جن میں بھمبر نالہ‘ بھنڈر نالہ‘ ساروکی نہر‘ دریائے چناب شامل تھے ایک نالہ چوہدری ظہور الٰہی کی کوٹھی کے قریب سے شروع ہوتا تھا جو کہ فتوپورہ سے ہوتا ہوا چاہ ترہنگ‘ کالوپورہ‘ کالرہ سے ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ دریائے چناب میں جا گرتا تھا ایک نالہ جی ٹی ایس چوک سے شروع ہوتا تھا جو کہ ریلوے روڈ پکی گلی‘ نور پور پڈھے‘ چاہ کھولے سے ہوتا ہوا ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چاہ ترہنگ والے نالے سے جا ملتا تھا‘ ایک نالہ ہسپتال حیوانات سے شروع ہو کر محلہ رنگ پورہ سے ہوتا ہوا جی ٹی روڈ مرکزی نالے میں شامل ہوتا تھا لیکن ناقص حکمت عملی کی وجہ سے یہ تمام نالے جزوی طور پر بند کر دئیے گئے ان نالوں پر تعمیرات کر دی گئی جس سے گجرات شہر میں سیوریج کے مسائل میں بدترین اضافہ ہوا اور خصوصا بارشوں کے دنوں میں سارا شہر زیر آب آ جاتا ہے جن میں ڈی سی ہاؤس‘ ڈسٹرکٹ جیل‘ میونسپل کارپوریشن‘ ضلع کونسل کے دفاتر سمیت کوٹھی نواب صاحب اور کوٹھی ظہور پیلس بھی شامل ہیں حکومت ہر بار بارشوں سے قبل نالوں کی صفائی کے دعوے کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے ان پر عمل نہیں ہوتا صرف شہر کے ارد گرد چند مقامات سے صفائی کر کے پٹرول کے نام پر پیسے ہضم کر لئے جاتے ہیں گزشتہ روز گجرات کے تاریخی گاؤں کالرہ لائن والا جانے کا اتفاق ہوا تو یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ پندرہ سال قبل جی ٹی روڈ سے ریلوے لائن تک نالے کو پختہ تعمیر کیا گیا مگر نالے کی صفائی کا کبھی بھی انتظام نہیں کیا جاتا نالے کے اختتام پر مسجد بدر منیر بھی واقع ہے اس مقام پر نالہ بند پڑا ہے اور کبھی بھی کارپوریشن کا عملہ صفائی کیلئے نہیں آتا پانی ارد گرد کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے خصوصاً نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ڈپٹی کمشنر گجرات سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کرے کہ نالے کی صفائی ممکن ہو اور شہریوں کو سہولت مل سکے۔ نالوں میں پانی کی وجہ ڈینگی و دیگر امرض کی افزائش ہو رہی ہیں





