کالمکار : جاوید صدیقی
دنیا میں ممالک و ریاستوں میں جنگیں بھی ہوتی ہیں اور اندرون ملک و ریاستوں میں خانہ جنگی بھی لیکن سمجھدار دیانتدار ایماندار قابل اور دردِ دل رکھنے والے حاکم اپنی قوم کو مالی طور پر دبوچتے نہیں انہیں بے سرو ساماں چھوڑتے نہیں ااور ظالم و جابر خودغرض کمزور اور نااہل ممالک و ریاست حالات کی سنگینی اور بگاڑ پر تمام تر بوجھ اپنی ہی کمزور عوام پر لاد دیتے ہیں۔ دنیا میں ایسے بھی ممالک اور ریاستیں ہیں جو آس پڑوس کی جنگ سے براہ راست بناء متاثر ہوئے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا ڈھونگ رچاکر عوام کو خوب بیوقوف بناتے ہیں اور مہنگائی کرکے ٹیکس بڑھاکر اپنی عیاشیوں اور تعیش میں اضافہ کرتے ذرا بھر شرم محسوس نہیں کرتے۔ حالیہ عرصہ میں جاری امریکہ اسرائیل کے مابین ایران سے جنگ جس سے مشرق وسطیٰ متاثر ہوا لیکن سینٹرل ایشیاء میں واقع پاکستان کی حکومت نے خوب اپنی عوام کو الو بناکر مہنگائی کو پڑوان چڑھایا۔ اب جب دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی کی گئی ھے تو پیٹرول اور ہر شئے میں کمی کیلئے بھی ہفتوں تاخیر کی جائیگی تاکہ زیادہ سے زیادہ عیاشیوں اور تعیش کیلئے رقوم جمع کی جاسکیں چاہے عوام مرتی رہے دوسری جانب جب ھم ایران کی جانب دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ھے کہ ہمسایہ ملک ایران جو تقریباً لگ بھگ ایک مہینہ پانچ دن سے زائد سامراج سے جنگ لڑ رہا تھا اس کے اندرونی حالات کچھ یوں رھے:
1- اس وقت تک تقریباً اڑتیس روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی
2- کھانے پینے کی اشیاء کیلئے اپیل نہیں کی
3- ادویات کی اپیل نہیں کی
4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی، پٹرول اور ڈیزل مفت کردیا گیا
5- تقریباً ایک مہینہ سے زائد جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کیلئے واپس آرہے ہیں
6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شائد معلوم ہی نہ ہو
7- بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگادیا کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا
8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک رہے
9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کرتے رہے
یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ سینتالیس سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ہے۔
کیونکہ:
1- نئے سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا نہ خرید سکے
2- ملکی قانون کے مطابق وزراء اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پابندی ہے
3- ملکی قانون کے مطابق حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے اور نہیں رکھ سکتے ہیں
4- ملکی قانون کے مطابق کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ہے اور نہ ہی خرید سکتا ھے
5- سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہے
6- ملکی قانون کے مطابق مخلوط ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے قائم نہیں ہیں
7- ملکی قانون کے مطابق امریکن یا یورپین اسکول کالجز نہیں ہیں
8- ملکی قانون کے مطابق تعلیم مفت ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر ؛ پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا
9- رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے پھر سپریم لیڈر نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اس لئے سال میں ایک آدھی مرتبہ دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کے بجٹ سے عوام کو ریلیف دے دیا جاتا ہے
10- ملکی قانون کے مطابق گھر میں روٹی پکانا منع ہے جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں
11- ملکی قانون کے مطابق ڈیلیوری کیسز فری ہیں بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم بیس ہزار روپیہ والدہ کے اکاؤنٹ میں گفٹ بھی ٹرانسفر کیا جاتا ہے
12- علاج میں ستر فیصد حکومت ادا کرتی ہے تیس فیصد مریض
13- ملکی قانون کیمطابق چوری ڈکیتی نہیں ہے
14- ملکی قانون کے مطابق شاہی کلچر نام کی کوئی چیز نہیں اور نہ ہی کسی کا پروٹوکول
15- ملکی قانون کے مطابق کوئی ایک بھکاری نہیں ملے گا اور بھیک پر سخت سزا بھی ھے
16- بے نمازی ہونا عیب سمجھا جاتا ہے
17- سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ہے
18- جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی گیا تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ہے جس کی سیلری اس کے گھر بھیجی جاتی ہے تاکہ اس کی فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو۔
19- ملکی قانون کے مطابق امام جمعہ کا مقام گورنر سے بالاتر ہوتا ہے تاکہ انتظامیہ من مانی نہ کرسکے۔ جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جاتی ہے
20- وزراء اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں
21- چھوٹے بڑے خاندان کا تصور نہیں ہے سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ہے
22- ملکی قانون کے مطابق معلم سر کا تاج ہوتا ہے اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جاسکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتے
23- نوکر رکھنے کا رواج نہیں ہے
24- ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے
معزز قارئین!! آیت اللہ خمینی ؒ کے انقلاب سے شروع ہونے والا ایران ”مملکت اسلامی ایران“ سے ابھرنے والا آج بھی شریعت پر کاربند ھے سب سے بڑی بات یہ ھے کہ ایک طویل عرصہ دنیا کی مالی پابندیوں کے باوجود آجتک سود سے پاک نظام مالیت جاری ھے جو ہمارے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ھے ھم اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھتے ہیں ہمارا ملک نہ تو عملی طور پر جمہوری ھے اور نہ ہی عملی طور پر اسلامی گویا ھم چوں چوں کا مربع ہوگئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ھے کہ ھم من حیث القوم اینگلو مسلمان ہیں رنگ برنگے جس میں یہود عیسائی کمیونسٹ اور بت پرست کی آمیزش والا اسلام ھے دیکھا جائے تو پاکستانی قوم انتہاء کی منافق فاجر و فاسق اور بدترین مسلم قوم ھے کیونکہ ھم قبیلوں ذات پات مسالک کی تقسیم کو ہی دین سمجھتے ہیں یہی سبب ھے کہ ھم نہ تو آج تک ایک قوم بن سکے اور نہ ہی ایک امت۔ افسوس ہوتا ھے کہ ھم کس قدر جاہل مطلق ہیں۔۔۔۔!!




