نومبر 6, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستانی فارمولا

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​کیا پاکستان دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے والا امن کا مسیحا بننے جا رہا ہے؟ جب پوری دنیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے دیکھ کر خوفزدہ تھی، تب اسلام آباد کی خاموش دیواروں کے پیچھے ایک ایسا منصوبہ تیار ہو رہا تھا جس نے واشنگٹن سے تہران تک سب کو حیران کر دیا ہے، یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ پاکستان کی اس خفیہ سفارت کاری کی کہانی ہے جس نے سمندری راستوں کی بندش اور میزائلوں کی گھن گرج کے درمیان امن کی میز سجا دی ہے، آئیے جانتے ہیں کہ آرمی چیف، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی اس تکون نے کیسے ناممن کو ممکن بنانے کی کوشش کی اور کیوں آج پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد معاہدے پر لگی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی زمین اور سمندری راستوں پر منڈلاتے جنگ کے بادلوں کے درمیان، بین الاقوامی خبروں نے ایک ایسی ہلچل مچا دی ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف موڑ دی ہے جہاں عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کو ایک مکمل امن منصوبہ پیش کیا ہے، جسے اب عالمی میڈیا ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ (Islamabad Accord) کے نام سے پکار رہا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بڑی طاقتیں اور پڑوسی ملک آپس میں لڑے، دنیا نے کسی نہ کسی تیسرے ملک کی طرف دیکھا لیکن اس بار پاکستان کا کردار محض ایک عام مددگار کا نہیں بلکہ ایک ماہر منصوبہ ساز کا نظر آ رہا ہے جس نے خود آگے بڑھ کر دونوں ملکوں کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلانے کا ذمہ اٹھایا ہے جبکہ رائٹرز کے دعووں کے مطابق، اس مجوزہ ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی باتیں بہت ٹھوس اور عمل کرنے کے قابل ہیں، جس کے تحت اگر دونوں فریق اس منصوبے پر مان جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ہر جگہ فوری طور پر جنگ رک جائے گی بلکہ عالمی تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے سمندری راستے ’آبنائے ہرمز‘ کو بھی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور اس بڑے سفارتی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے اسلام آباد میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی جہاں ایران کے اعلیٰ سطح کے سرکاری وفود اور امریکی دفتر خارجہ کے خاص نمائندوں سمیت خلیجی ملکوں کے اہم گروہوں نے پاکستان کا دورہ کیا، ان کوششوں کی کامیابی میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی انتظامی مہارت اور سیاسی سوجھ بوجھ کے ذریعے ملک کے تمام اداروں کو ایک ساتھ لے کر چلے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنی تجربہ کار سفارت کاری کے ذریعے معاشی اور سیاسی فائدوں کا نقشہ تیار کر کے عالمی وفود کو پاکستان کے مخلصانہ کردار پر بھروسہ دلایا، تاہم اس پورے منظر نامے میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کردار سب سے اہم رہا جنہوں نے اپنی فوجی سفارت کاری کے ذریعے ایران اور امریکہ کے فوجی اور پالیسی ساز حلقوں میں وہ اعتماد دوبارہ پیدا کیا جو اس سے پہلے ختم ہو چکا تھا، اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں محض تھوڑے وقت کی خاموشی نہیں بلکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک بڑے اور پکے امن معاہدے کو آخری شکل دینے کا وقت بھی طے کیا گیا ہے جو اس بات کو صاف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں ہمیشہ کا امن چاہتا ہے نیز عالمی سطح پر پاکستان کے لیے یہ صورتحال بہت نازک ہے جہاں ایک طرف امریکہ کے ساتھ پرانے تعلقات کا توازن برقرار رکھنا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھائی چارے اور پڑوسی ہونے کے رشتے کو نبھانا ہے، ایسے میں اسلام آباد کی جانب سے دونوں ملکوں کو ایک ہی میز پر لانے کی یہ کوشش اس نئی پالیسی کا ثبوت ہے جہاں پاکستان اب کسی ایک کا ساتھی بننے کے بجائے امن کا ساتھی بن کر سامنے آیا ہے، اس پیش رفت کو امریکہ سے لے کر چین تک بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جہاں عرب ممالک سمندری راستے کھلنے کی خبر کو اپنی معیشت کے لیے بڑی زندگی قرار دے رہے ہیں، وہیں چین اور روس جیسے بڑے ملک بھی اس حل کو علاقے میں امریکی فوجی مداخلت کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور رائٹرز کے یہ دعوے اگر سچ ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی اور عالمی سطح پر پاکستان کی عزت کا اعتراف ہوگا، یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ پاکستان اب بھی اسلامی دنیا اور باقی ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے، اب تمام نظریں ایران اور امریکہ پر لگی ہیں کہ کیا وہ پاکستان کے اس نیک نیتی پر مبنی امن فارمولے کو قبول کر کے دنیا کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کا موقع دیں گے، دعا ہے کہ باری تعالیٰ پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کو بارآور فرمائے، ہمارے ملک کو عالمی امن کا گہوارہ بنائے اور انسانیت کو جنگ و جدل کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھ کر پوری دنیا میں امن و سلامتی کی فضا قائم فرمائے۔ آمین