کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
کہتے ہیں کہ "مرتا کیا نہ کرتا” لیکن موجودہ معاشی حالات میں تو غریب مرنے کے لیے بھی حکومت سے این او سی لینے پر مجبور کر دیا گیا ہے کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے، جہاں پٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے کی حد عبور کر چکا ہے، عوامی چیخیں نکال دی ہیں۔ اس کا پہلا زوردار جھٹکا ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 65 فیصد اضافے کی صورت میں لگا ہے جس نے عام آدمی کی نقل و حرکت بھی محال کر دی ہے؛ اب لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 3000 سے بڑھ کر 4000، پشاور کا 4600، سرگودھا کا 2550، فیصل آباد کا 2350 اور لاہور سے کراچی کا کرایہ 8600 سے چھلانگ لگا کر 12000 روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس قیامت خیز مہنگائی کے دور میں حکومت نے غریب بائیک سواروں کے لیے 100 روپے کے جس "براہِ راست ریلیف” کا مژدہ سنایا ہے وہ ریلیف کم اور "زخموں پر نمک پاشی” کا بہانہ زیادہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس ریلیف کو پانے کے لیے جو کڑی شرائط رکھی گئی ہیں انہیں دیکھ کر قدیم داستانوں کے وہ مشکل امتحان یاد آ جاتے ہیں جو شہزادے کسی ناممکن مہم کو سر کرنے کے لیے دیا کرتے تھے۔ حکومتی پالیسی سازوں کے مطابق یہ سو روپے تب ملیں گے جب بائیک آپ کے نام ہو، لائسنس اور ہیلمٹ موجود ہو، نادرا، ایکسائز اور پولیس کے تصدیق نامے ہوں، آپ نے زندگی میں کبھی لڑائی نہ کی ہو اور کم از کم پانچ چھ بچے یونین کونسل میں رجسٹرڈ ہوں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 100 روپے بچانے کے لیے ایک غریب دیہاڑی دار مزدور اس نام نہاد ریلیف کے چکر میں اپنا کام چھوڑ کر نجانے کتنے روز ڈی سی آفس کے چکر لگائے اور دو گواہ ڈھونڈتا پھرے؟ اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ "نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے” یعنی عوام کو ریلیف بھی نہ دینا پڑے اور واہ واہ بھی ہو جائے، یہاں تو نقد بھی غائب ہے اور غریب کی سکت بھی ختم ہو چکی ہے کیونکہ حقیقت میں یہ "ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور” والا معاملہ ہے جہاں ریلیف کے نام پر بیوروکریسی کا ایسا جال بن دیا گیا ہے کہ عام آدمی تھک ہار کر اپنے حق سے خود ہی دستبردار ہو جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت "آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا” والی پالیسیاں ترک کرے اور غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے بجائے اپنی شاہ خرچیوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے ان بڑے بڑے افسران اور حکومتی شخصیات کا مفت پٹرول مکمل طور پر بند کرے جن کی پرتعیش گاڑیوں میں پٹرول کی گنگا بہہ رہی ہے کیونکہ جن کی تنخواہیں لاکھوں میں ہیں وہ مہنگا پٹرول افورڈ کر سکتے ہیں، لہٰذا اصل ریلیف تو تب ملے گا جب اشرافیہ کی مراعات ختم کر کے وہ پیسہ غریب کی جھولی میں ڈالا جائے اور تمام غیر ضروری میگا پراجیکٹس کو روک کر ان کا فنڈ عوامی سبسڈی کے لیے وقف کیا جائے کیونکہ "پہلے پیٹ پوجا، پھر کام دوجا” کے مصداق جب تک بیوروکریسی کے بند کمروں میں بیٹھ کر غریب کی تذلیل والے فیصلے ہوتے رہیں گے، تب تک "اندھیر نگری چوپٹ راج” ہی رہے گا، اور یاد رکھیے کہ جب "صبر کا پیمانہ لبریز” ہوتا ہے تو پھر کوئی کاغذی کارروائی عوامی غیظ و غضب کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم فرمائے، حکمرانوں کو ہدایت دے اور غریب عوام کے حال پر اپنا خصوصی کرم فرمائے، آمین




