اپریل 16, 2026

حکمران پہلے اپنی مراعات ختم کریں، پھر عوام پر بوجھ ڈالیں: جاوید صدیقی

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری سمیت چیئرمین سینیٹ و اسپیکر قومی اسمبلی اور تمام وفاق و صوبائی پارلیمنٹیرین اور تمام صوبائی وزیراعلیٰ سے سوال کیا ھے اور مشورہ بھی دیا ھے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر مالی کمزور ترین اور غریب ترین عوام پر مہنگائی اور بھاری بھاری ٹیکسوں کے انبار ڈھالنے سے مسائل جوں کے توں ہی رہ جاتے ہیں ہونا تو یہ چاہئے کہ جب تک پاکستان مقروض ھے اس وقت تک تمام سرکاری اداروں، محکموں، شعبہ جات، وزرات، اور کیبنٹ سے ایئر کنڈیشن کا خاتمہ فوری کردیا جائے، تمام سرکاری سربراہان سے لگژری گاڑیاں و فیول و مرمت بشمول وزیراعظم، صدر مملکت، چیئرمین اسپیکرز، چیئرمین اسمبلی، ججز و جسٹس اور تمام عسکری تھری تا فور اسٹارز سے بھی لگژری گاڑیوں کا استعمال ختم کردیا جائے۔ صرف عسکری جنگی گاڑیوں اور سامان کو متثنیٰ قرار دیا جائے۔ افواج پاکستان کا معاملہ الگ ھے کیونکہ انکی ضروریات کی تکمیل ہی وطن عزیز کی سلامتی و بقاء ھے۔ یہی عمل نجی اداروں، انڈسٹریز، کمپنیوں اور شعبہ جات میں بھی لاگو رکھیں تاکہ ایندھن اور پیٹرول و ڈیزل کی کھپت مناسب اور کم رھے۔ دوسرا یہ کہ اکاؤنٹینٹ جنرل آف پاکستان سمیت اس ادارے کو مکمل بااختیار، آزاد اور شفاف بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں تاکہ یہ محکمہ جو وزرات مالی امور کے تحت کام کررھا ھے بناء ماتحت خودمختاری اور بناء کسی دباؤ مالی صورتحال پر ماہانہ ، سہہ ماہی ، ششماہی اور سالانہ اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرسکے تاکہ عوام سے حاصل کردہ ٹیکس و محصولات کی تفصیل سامنے آسکیں اس عمل سے ایک جانب کرپشن، لوٹ مار، بدعنوانی، رشوت ستانی کا خاتمہ ممکن بن سکے گا تو دوسری جانب قومی خذانے کو بھاری وافر مقدار میں عوامی ٹیکس و محصولات کے بجائے دیگر ذرائع سے آمدن بھی ظاہر ہوسکے گی اور پاکستان ایک جانب ترقی کی جانب تیزی سے بڑھتا ھوا دکھائی دیگا تو دوسری جانب عوام پر سے بھی بوجھ کم ہوتا نظر آئیگا اور ہر سو خوشحالی نظر آئیگی۔ تمام وزیراعلیٰ کے جہاز پہلی فرصت میں فروخت کردیئے جائیں وہ بھی ملکی ایئر لائن سےسفر کریں۔ میڈیا مالکان و ایکنرز اور بڑے بڑے صحافی و رپورٹرز کا بھی مالی احتساب کرنا وقت کی اشد ضرورت ھے۔ ھم اُس وقت سنبھل سکتے ہیں جب ایلیٹ طبقہ ، نوکر شاہی طبقہ ، ٹائیکون طبقہ ، ججز و جسٹس طبقہ ، پارلیمینٹیرین طبقہ ، دینی مراکز طبقہ اور تاجران طبقہ سے احتسابی عمل پہلے شروع جائے پھر بھی اگر ملک کی مالی صورتحال نہ سنبھلے تب عوام پر ہلکا مناسب بوجھ لاد سکتے ہیں وگرنہ آپ جمہوریت نہیں آمریت کررھے ہیں اوّل نمبر کے جوٹے، منافق، فاسق، دھوکہ باز، عیار و مکار اور بدترین دماغ بدترین کردار کے مالک ہیں اور یہ سب تباہی آپ ہی کی وجہ سے وجود میں آرھی ہیں پہلے خود کو سنواریں سدھاریں پھر عوام کی جانب دیکھیں یہی سچائی ھے یہی حقیقت بھی ۔۔۔۔۔!!