اپریل 17, 2026

امریکہ، اسرائیل و عرب امارات کا کردار

کالمکار: جاوید صدیقی

تاریخ، شعور اور ہر آزاد ذہن کیلئے لازم ھے کہ وہ مسلم ریاستوں کے ماضی قریب کے واقعات کو بالغور توجہ سے مطالعہ کرے۔ ھم دیکھتے ہیں کہ چند برسوں میں امریکہ اسرائیل اور نیٹو کی مسلم ریاستوں پر جنگ سے تباہی و بربادی اور رجیم چینج کا عمل رکھا گیا اس سارے اسلام مخالف قوتوں اور غیر مسلم ممالک میں سب سے زیادہ وہ امیر کبیر ممالک نے مالی اور جنگی مکمل معاونت کیں جو مذہبی رشتے سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور مذہبی طور پر مسلمان بھی، دنیا کے مال و متاع غرور و تکبر نے انہیں دین سے دور کردیا۔ یاد کیجئے کہ ˝آپریشن ڈزرٹ اسٹرام“ میں جب امریکی قیادت میں عراقی فوج کے خلاف جنگ ہوئی تو مصر نے بیس ہزار فوجیوں کے ساتھ حصہ لیا، شام نے چودہ ہزار فوجی بھیجے، مراکش نے تیرہ ہزار ، کویت نے نو ہزار، عمان نے چھ ہزار تین سو، متحدہ عرب امارات نے چار ہزار تین سو اور قطر نے دو ہزار چھ سو فوجی بھیجے۔ ”آپریشن اوڈیسی“ میں جب نیٹو کی قیادت میں لیبیا کے خلاف کارروائی کی گئی تو قطر نے چار جنگی طیاروں کے ساتھ حصہ لیا، متحدہ عرب امارات نے چھ ایف-سولہ طیارے اور چھ میراج طیارے بھیجے، جبکہ اردن نے چار جنگی طیارے فراہم کیے۔ انہی ممالک نے زمینی لڑائی کیلئے خصوصی دستے بھی بھیجے، اور خلیجی ریاستوں نے لیبیا پر نیٹو کی جانب سے گرائے جانے والے ہر میزائل اور بم کی قیمت ادا کی، جو تقریباً ایک ملین ڈالر تھی۔ اس کے نتیجے میں لیبیا تباہ ہوگیا، اس کے لوگ بے گھر ہوگئے اور اس کی دولت لوٹ لی گئی۔ ”آپریشن فیصلہ کن طوفان“ میں جب امریکہ اور برطانیہ کی ہدایات کے تحت یمن کے خلاف جنگ کی گئی تو سعودی عرب نے سو لڑاکا طیاروں اور ایک لاکھ پچاس ہزار فوجیوں کے ساتھ حصہ لیا۔ متحدہ عرب امارات نے تیس لڑاکا طیارے، کویت نے پندرہ، بحرین نے پندرہ، قطر نے دس اور اردن نے چھ لڑاکا طیارے فراہم کئے۔ مراکش نے چھ لڑاکا طیارے دیئے اور سوڈان نے پانچ لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ مدد کی۔ مصر نے بھی اس جنگ کی حمایت کی اور آپریشن روم کا حصہ بنا، اور اس کارروائی میں اپنی فضائی اور بحری افواج کی تیاری کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح شام کے خلاف بھی، امریکی حکم پر اردن اور ترکی میں دو آپریشن روم قائم کئے گئے تاکہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور بحرین کی مالی مدد اور اسلحے کے ذریعے ساٹھ ہزار جنگجوؤں کو داخل کروایا جاسکے۔ یہ وہ چند تفصیلات ہیں جو تاریخ نے مختلف عرب ممالک کی جنگوں کے بارے میں درج کی ہیں، جن میں انہوں نے بے شرمی کے ساتھ اپنے جیسے دوسرے عرب ممالک یعنی عراق، لیبیا، یمن اور شام کو تباہ کیا جبکہ صہیونی ریاست کے قتلِ عام کے سامنے سب کھڑے دیکھتے رہے۔ وہ ایک راستہ بھی نہ کھول سکے کہ خوراک اور دوا پہنچا سکیں، کیونکہ امریکہ نے اجازت نہیں دی۔ یہ کتنی بڑی شرمندگی اور رسوائی ہے۔ کیا اب آپ سمجھتے ہیں کہ جنگیں کون چلاتا ہے؟ کس کے فائدے کیلئے؟ کس کے حکم پر فوجیں حرکت کرتی ہیں؟ مکمل طور پر فنڈڈ اور خریدی ہوئی میڈیا بھی اس جاری ذہنی برین واشنگ میں شریک ہے تاکہ ان تباہ کن جنگوں کو جائز قرار دیا جاسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ عراق میں یہ آزادی کیلئے تھا، لیبیا میں شہریوں کے تحفظ کیلئے، یمن میں قانونی حکومت کیلئے، اور شام میں جمہوریت کیلئے جبکہ فلسطین میں وہ سب خاموش کھڑے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اپنے دو سو دن کے حملوں میں بیالیس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کردیا، جن میں سے اڑتیس ہزار عام شہری تھے، جن میں دس ہزار سے زیادہ خواتین اور پندرہ ہزار سے زیادہ بچے شامل تھے اسکے باوجود ہزاروں لاشیں اب بھی ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں جنہیں مردہ تصور کیا جارہا ہے۔ یہ تاریخ ایک ناقابلِ فراموش شعور ہے اور غفلت میں سوئے ہوئے لوگ اب جاگ جائیں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایسی تاریخی پیش رفتوں کو بار بار ایک دوسرے کو آگاہی فرمائیں۔ اب ذرا حالیہ دنیا کے واقعات کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو سنہ دو ہزار چھبیس کی ابتدائی مہینوں کی شروعات ہی اسرائیل امریکہ کی ایران کیساتھ جنگ سے ہوئی پھر سعودی عرب اور بلخصوص عرب امارات کا کردار سابقہ کفار و مشرکین، یہود و ہنوذ اور نصاریوں کیساتھ محبت، عشق، بھائی چارگی، دوستی اور وفاداری ایران کے مدِمقابل رہی ہیں یہ وہی عصبیت و مسلکیت کا زہر ھے جو یہود و ہنوذ و نصاریٰ نے مسلم امت کو پاش پاش کرنے اور نااتفاقیاں پیدا کرنے کیلئے مسلمانوں کے درمیان سے منافقوں و دھریوں اور گمراہ کن بھٹکے لوگوں کو چن چن کو منتخب کرکے نفاق، نفرت، تعصب، لسانیات، عصبیت، اقربہ پروری اور حق تلفیوں کو پڑھوان چڑھاتے ہوئے نہ امت رہنے دی نہ ایک قوم۔ یہ بدعقل مسلمان یہود و ہنوز و نصاریٰ کی اس گھناؤنی سازشوں کو سمجھنا بھی نہیں چاہتے یہی سبب ھے کہ کئی سو سالوں سے مسلمان بکھرے ہوئے ہیں جبکہ شدید اختلاف کے باوجود اور گروہ بندی ہونے کیساتھ ساتھ مسلمانوں اور دینِ محمدی ﷺ کی مخالفت میں متحد ہوجاتے ہیں اس عمل کی آپ ﷺ نے اپنے دور میں ہی بتادیا تھا اور انکی چالوں سے بچنے کا حل بھی۔ اللہ نے اپنے مسلمان بندوں کیلئے لازم احکام جاری کیا کہ ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔“ٓ معزز قارئین!! موجودہ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ میں پاکستان اور ترکیہ کا کردار سفارتی لحاظ سے بہتر تو رھا۔ معزز قارئین!! امریکہ و اسرائیل کی دنیا میں بڑھتی غنڈہ گردی بدمعاشی اور بدترین انسان دشمنی نے دنیا کو تہہ بالا کر رکھا ھے اب وقت آچکا ھے کہ دنیا کی طاقت کا توازن متوازن ہونا ناگزیر ھے لیکن عرب امارات اور سعودیہ اپنی دنیاوی عیاشیاں اور امریکی غلامی سے باہر نکلنے کیلئے تیار نہیں دکھتے اگر سعودی عرب اور عرب امارات نے مسلم بلاک کو مضبوط کرلیا تو دنیائے اسلام سب سے مضبوط ہوکر ابھرے گی وگرنہ ان یہود و ہنوذ و نصاریٰ کے ہاتھوں اپنی بربادی کا ماتم ہی کرسکیں گے اور گستاخ نافرمان اللہ سبحان تعالیٰ و محمد الرسول اللہ ﷺ کے مجرم ٹھہریں گے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ھے جس سے امت مسلمہ کو ناتلافی نقصان مسلم ریاست سے ہی مل رھا ھے۔۔۔۔!!