تحریر:طار ق فاروق سیکرٹری جنرل مسلم لیگ آزاد جموں و کشمیر
جمہوری نظام کی اصل طاقت بیلٹ باکس سے زیادہ سیاسی جماعتوں کی فکری، تنظیمی اور اخلاقی ساخت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ریاستیں آئین سے چلتی ہیں، مگر آئین کو عملی شکل دینے والی قوت سیاسی جماعتیں ہی ہوتی ہیں۔ یہی جماعتیں قیادت پیدا کرتی ہیں، قومی ترجیحات طے کرتی ہیں اور ریاست کے قانونی، انتظامی، دفاعی اور معاشی ڈھانچے کو سمت دیتی ہیں۔ جہاں سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں وہاں جمہوریت محض نظام نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرتی رویہ بن جاتی ہے۔سیاسی جماعتیں نظریات کی نرسری ہوتی ہیں۔ وہ گراس روٹ سطح پر کارکن تیار کرتی ہیں، سیاسی تربیت دیتی ہیں اور ایسی قیادت سامنے لاتی ہیں جو ریاستی معاملات کو سمجھنے اور سنبھالنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ جلسے، جلوس، سیمینار، مباحثے اور میڈیا مہمات محض نمائشی سرگرمیاں نہیں بلکہ عوامی شعور کی تعمیر کے اوزار ہوتے ہیں۔ ایک صحت مند جمہوری کلچر میں سیاسی وابستگی جذباتی ہجوم نہیں بلکہ فکری وابستگی کا اظہار ہوتی ہے۔بدقسمتی سے جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر جیسے خطوں میں سیاسی حقیقت ایک پیچیدہ تضاد کی تصویر پیش کرتی ہے۔ جمہوری ڈھانچے موجود ہیں، مگر ان کی روح کمزور دکھائی دیتی ہے۔ فلاحی ریاست کے تصور کے مقابلے میں سیکیورٹی اسٹیٹ کا بیانیہ زیادہ غالب ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی ترجیحات میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ کمزور معاشی حکمتِ عملی، ادارہ جاتی بد نظمی اور انتظامی کمزوریوں نے سیاسی عمل کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔اس فضا میں نظریاتی سیاست بتدریج شخصی سیاست میں تبدیل ہو گئی ہے۔ جماعتیں ادارہ جاتی قوت کے بجائے شخصیات کے گرد مرکوز ہو جاتی ہیں۔ فرد ہی نظریہ بن جاتا ہے اور سیاسی مکالمہ فکری مباحثے کے بجائے شخصی وفاداریوں میں گم ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان جمہوری روح سے متصادم ضرور ہے، مگر عملی سیاست میں اس کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں۔بڑھتی ہوئی آبادی، معاشی دباؤ اور سماجی بے چینی نے معاشروں کو مختلف شناختی تقسیموں میں الجھا دیا ہے۔ مذہبی، لسانی، علاقائی اور قومیتی جذبات اکثر سیاسی بصیرت پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسا عوامی ہجوم جنم لیتا ہے جو منظم سیاسی شعور کے بجائے وقتی ردِعمل اور جذباتی تحریکات کا مظہر ہوتا ہے۔ پالیسی سازی اکثر اصولوں کے بجائے دباؤ کے تابع ہو جاتی ہے۔سیاسی جماعتوں کی تنظیمی کمزوری اس بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔ ٹریڈ یونینز، طلبہ یونینز اور بلدیاتی نظام جیسے جمہوری تربیت کے اہم ستون یا تو کمزور کر دیے گئے ہیں یا اپنی اصل روح کھو بیٹھے ہیں۔ بلدیاتی نظام، جو شہری حقوق اور مقامی جمہوریت کی بنیاد ہے، اکثر غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ طلبہ سیاست تربیت کے بجائے تصادم کی علامت بن چکی ہے۔ڈیجیٹل میڈیا اور یوٹیوب صحافت نے ایک نئی طاقت کے طور پر جنم لیا ہے۔ یہ رجحان اپنی جگہ اہم ہے، مگر جب سیاسی جماعتیں اپنی فکری سمت کے بجائے بیانیاتی دباؤ کے تابع ہونے لگیں تو سیاست حکمتِ عملی سے زیادہ ردِعمل کا کھیل بن جاتی ہے۔ جلسے، جو کبھی عوامی وابستگی کی علامت تھے، اب کئی مواقع پر مالی ترغیب اور وقتی جوش کا نتیجہ دکھائی دیتے ہیں۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں قومی سلامتی، دفاع اور طویل المدتی ریاستی استحکام کے حوالے سے واضح، مربوط اور سنجیدہ ایجنڈا پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ مکالمہ کمزور ہے، پالیسی ریسرچ محدود ہے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی اکثر پسِ منظر میں چلی جاتی ہے۔اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آگے کا راستہ کیا ہے؟ جواب پیچیدہ ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے اساسی کردار کی طرف لوٹنا ہوگا۔ تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانا ہوگا، داخلی جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا اور پالیسی سازی کو علمی، معاشی اور عالمی حقائق کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ جامد نعروں اور فرسودہ بیانیوں کے بجائے جدید افکار، عملی حکمتِ عملی اور سماجی حقیقت پسندی اپنانا ہوگی۔نئی نسل تبدیلی چاہتی ہے، کردار چاہتی ہے، سمت چاہتی ہے۔ اس کے اندر توانائی بھی ہے اور بے چینی بھی۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ اس قوت کو تصادم کے بجائے تعمیری راستہ فراہم کیا جائے۔ آنے والی تبدیلی محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی، فکری اور معاشی نوعیت کی ہوگی۔اقبال نے برسوں پہلے جس حقیقت کی نشاندہی کی تھی، وہ آج بھی اتنی ہی بامعنی ہے:
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
سیاسی بصیرت، ادارہ جاتی سنجیدگی اور فکری دیانت ہی وہ عناصر ہیں جو ہمیں انتشار سے استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں




