اپریل 19, 2026

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ ، 2 مرحلوں میں مکمل کرنیکا فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف نے خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کو حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے اس عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزرا، نجکاری سے متعلق مشیر، چیئرپرسن نجکاری کمیشن اور اعلیٰ حکومتی افسران نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قومی ائیر لائن کی نجکاری اس عمل کی شروعات ہے اور آنے والے دنوں میں مزید خسارے میں چلنے والے اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا تاکہ قومی معیشت پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے نجکاری کمیشن میں اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کرنے اور ادارے کی کارکردگی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نجکاری کمیشن میں نجی شعبے اور مارکیٹ سے وابستہ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کو شفاف طریقے سے تعینات کیا جائے، جبکہ پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبوں کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنے اور نجکاری کے تمام منصوبوں کا عالمی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس کے دوران نجکاری کمیشن میں جاری اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مضبوط گورننس، ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ، شفاف رابطے اور اسٹریٹیجک نظم و ضبط اصلاحاتی عمل کی بنیاد ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حیدرآباد اور سکھر کی بجلی کمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی۔