اپریل 19, 2026

جنگ کے دہانے پر دنیا، پاکستان میدان میں

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں آج غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ اپنے کمرے کے کونے میں رکھی اس پرانی میز کے سامنے بیٹھے تھے جس پر وقت کی دھول بھی جیسے تاریخ کے بوجھ کی گواہی دے رہی تھی مدھم بلب کی زرد روشنی میں اخبارات کے پھیلے ہوئے صفحات کسی عام دن کی خبر نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی تصویر پیش کر رہے تھے جہاں دنیا بظاہر ترقی کی بلندیوں پر کھڑی ہے مگر اندر سے عدم استحکام کی دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے بندن میاں نے اپنی عینک کو درست کیا اور ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر کے جیسے خود سے سوال کیا کہ کیا انسان نے واقعی ترقی کی ہے یا صرف اپنے تباہی کے ہتھیاروں کو زیادہ مہذب نام دے دیے ہیں
انہوں نے پہلا اخبار اٹھایا تو سرخی ایران امریکہ اسرائیل کشیدگی پر تھی مگر بندن میاں جانتے تھے کہ سرخی ہمیشہ پوری کہانی نہیں ہوتی بلکہ اکثر کہانی کا سب سے سادہ حصہ ہوتی ہے اصل پیچیدگی اس کے پس منظر میں چھپی ہوتی ہے انہوں نے آہستہ سے کہا کہ یہ کوئی نئی جنگ نہیں بلکہ پرانے مفادات کا نیا روپ ہے ایران اپنے نظریاتی دائرے کو وسعت دینے کی کوشش میں ہے امریکہ اپنے عالمی اثر کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسرائیل اپنی بقا کو ہر قیمت پر یقینی بنانا چاہتا ہے مگر ان تینوں کے بیچ جو کشمکش ہے وہ براہ راست میدان میں کم اور پردے کے پیچھے زیادہ لڑی جا رہی ہے جہاں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور اثرات کھلے میدانوں میں نظر آتے ہیں
لبنان کا ذکر آیا تو بندن میاں کی آواز میں ایک درد شامل ہو گیا انہوں نے کہا کہ یہ سرزمین بار بار عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان بنی ہے آج جو جنگ بندی کی بات ہو رہی ہے وہ دراصل تھکے ہوئے ہاتھوں کا ایک وقفہ ہے نہ کہ دلوں کی آمادگی حزب اللہ اور اسرائیل دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط ہیں مگر دونوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ مکمل جنگ کا مطلب صرف سرحدوں کی تبدیلی نہیں بلکہ نسلوں کی تباہی ہے اس لیے وقتی خاموشی اختیار کی گئی ہے مگر یہ خاموشی کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی ہے کیونکہ اعتماد وہ چیز ہے جو یہاں سب سے کم ہے
انہوں نے اپنی نگاہ اسرائیل کی موجودہ کیفیت پر مرکوز کی اور کہا کہ طاقت کا ہونا ہمیشہ سکون کی ضمانت نہیں ہوتا اسرائیل آج عسکری طور پر مضبوط ضرور ہے مگر سیاسی اور اخلاقی دباؤ کا شکار بھی ہے عالمی سطح پر اس کی پالیسیوں پر سوال اٹھ رہے ہیں اور اندرون ملک بھی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں نیتن یاہو ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر فیصلہ ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کر سکتا ہے وہ ایک طرف سختی دکھانے پر مجبور ہیں تاکہ اپنی قیادت کو برقرار رکھ سکیں اور دوسری طرف انہیں عالمی برادری کے دباؤ کو بھی نظر انداز نہیں کرنا
بندن میاں نے ایک لمحے کے لیے رک کر پانی کا گھونٹ لیا اور پھر گویا ہوئے کہ اگر ہم اس پوری صورتحال کو صرف جنگی زاویے سے دیکھیں گے تو ہم آدھی حقیقت ہی سمجھ پائیں گے کیونکہ اصل جنگ معاشی اور نفسیاتی بھی ہے آبنائے ہرمز کی مثال لے لیجیے یہ وہ مقام ہے جہاں دنیا کی معیشت سانس لیتی ہے اگر یہاں رکاوٹ پیدا ہو تو صرف ایک خطہ نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے ایران اس حقیقت کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے مگر وہ خود بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا اس لیے جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل بندش نہیں بلکہ ایک محتاط دباؤ ہے جس کے ذریعے پیغام دیا جاتا ہے کہ طاقت کا توازن ابھی بھی تبدیل ہو سکتا ہے
پھر بندن میاں نے گفتگو کا رخ پاکستان کی طرف موڑا اور ان کی آواز میں ایک خاص وقار پیدا ہو گیا انہوں نے کہا کہ پاکستان اس پورے منظر نامے میں ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے آیا ہے جو نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ سفارتی اعتبار سے بھی ایک پل بن سکتا ہے پاکستان کی قیادت نے حالیہ دنوں میں جس احتیاط اور توازن کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل توجہ ہے وزیر اعظم کی سطح پر رابطے ہوں یا عسکری قیادت کی طرف سے استحکام کے پیغامات یہ سب ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے
انہوں نے خاص طور پر پاکستان کی عسکری قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور دور اندیش فیلڈ مارشل صرف جنگی حکمت عملی نہیں بناتا بلکہ وہ امن کی راہیں بھی تلاش کرتا ہے ایسی قیادت ملک کے وقار کی علامت ہوتی ہے جو نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اعتماد بھی پیدا کرتی ہے بندن میاں نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہوں تو کوئی بھی ملک بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کر سکتا ہے اور یہی وہ عنصر ہے جو پاکستان کو اس وقت ایک منفرد حیثیت دیتا ہے
اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی بات آئی تو بندن میاں نے نہایت متوازن انداز میں کہا کہ یہ امید ضرور ہے مگر اسے حقیقت کا روپ دینے میں ابھی وقت درکار ہے دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ضرور ہیں مگر یہ نظریں حتمی فیصلے کی نہیں بلکہ امکانات کی ہیں سفارتکاری کا عمل ایک طویل سفر ہوتا ہے جس میں ہر قدم اہم ہوتا ہے اور ہر ملاقات ایک نئی سمت کا تعین کرتی ہے اس لیے ہمیں اس عمل کو جذبات کے بجائے حقیقت کے پیمانے پر پرکھنا ہوگا
اسی دوران انہوں نے بھارتی میڈیا کے رویے پر بات کی اور کہا کہ وہاں جو شور سنائی دے رہا ہے وہ محض خبر نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے بھارت خود کو ایک بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے مگر جب کوئی اور ملک سفارتی میدان میں نمایاں ہو جائے تو یہ بات اسے بے چین کر دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں کے میڈیا میں ایک اضطراب اور بے چینی نظر آتی ہے جو بعض اوقات حقیقت سے زیادہ جذبات پر مبنی ہوتی ہے بندن میاں نے کہا کہ اس شور کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے پیچھے چھپے خوف کو دیکھنا ہوگا کیونکہ اکثر اوقات بلند آوازیں کمزوری کو چھپانے کے لیے اٹھائی جاتی ہیں
انہوں نے اپنی گفتگو کو مزید گہرائی دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت مکمل جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ ہر فریق جانتا ہے کہ ایک بڑی جنگ کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف بیانات میں سختی ہے اور دوسری طرف پس پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں یہ تضاد دراصل اسی کوشش کا حصہ ہے کہ کشیدگی کو کنٹرول میں رکھا جائے
بندن میاں نے اخبارات کو بند کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خبر مکمل سچ نہیں ہوتی اور ہر خاموشی مکمل جھوٹ نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی رائے کو جذبات کے بجائے حقیقت کی بنیاد پر قائم کریں پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی اگر وہ اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کرے تو وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے
انہوں نے کرسی سے ذرا سا پیچھے ہوتے ہوئے کہا کہ قیادت کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ لکھی جاتی ہے پاکستان کی قیادت اگر بصیرت اور دیانت کے ساتھ آگے بڑھی تو وہ نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اندرونی استحکام کو بھی یقینی بنائیں کیونکہ ایک کمزور بنیاد پر مضبوط عمارت نہیں کھڑی کی جا سکتی
بندن میاں نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں ایک گہری سنجیدگی کے ساتھ کہا کہ یہ دور صرف طاقت کا نہیں بلکہ شعور کا بھی ہے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم شور کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا سچ کی تلاش میں نکلنا چاہتے ہیں کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں درست فیصلہ کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ امن ایک خواب ضرور ہے مگر اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ہمیں خود بھی بدلنا ہوگا
اور پھر بندن میاں خاموش ہو گئے مگر ان کی خاموشی میں ایک مکمل داستان تھی ایک ایسا پیغام جو الفاظ سے زیادہ اثر رکھتا تھا کہ دنیا ابھی بھی ایک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک قدم ہمیں تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے اور ایک قدم ہمیں امن کی طرف مگر یہ انتخاب ہمیں خود کرنا ہوگا کیونکہ تاریخ نہ شور کو یاد رکھتی ہے نہ دعووں کو بلکہ صرف فیصلوں کو یاد رکھتی ہے اور یہی فیصلے آنے والی نسلوں کا مقدر طے کرتے ہیں۔