اپریل 19, 2026

جنگ کے سائے میں انسانیت اور امن کی تلاش

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں آج پھر اسی پرانی سی کرسی پر بیٹھے تھے جس کی بانہوں میں وقت کی تھکن بھی بسی ہوئی تھی اور یادوں کی نمی بھی فضا میں ہلکی ہلکی خنکی تھی مگر ان کے چہرے پر موسموں سے زیادہ خبروں کی گرمی تھی ہاتھ میں چائے کا کپ تھا اور سامنے موبائل کی اسکرین جس پر دنیا کے نقشے ہر لمحہ بدلتے دکھائی دے رہے تھے کبھی کسی دارالحکومت سے بیان آتا کبھی کسی جنگی محاذ سے دھواں اٹھتا اور کبھی کسی امن معاہدے کی امید جگمگاتی مگر وہ امید بھی اکثر اگلے لمحے کسی دھماکے کی خبر میں گم ہو جاتی بندن میاں نے گہری سانس لی جیسے وہ صرف خبر نہیں پڑھ رہے بلکہ پوری دنیا کا وزن اپنے اندر اتار رہے ہوں اور پھر آہستہ سے گویا ہوئے کہ جناب آج کل دنیا میں ایک عجیب سا منظر ہے ہر طرف بیانات کی بارش ہے تعریفوں کے فوارے ہیں اور قیادتوں کے گرد امیدوں کے ہالے بنائے جا رہے ہیں کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں کسی نئے توازن کی تلاش میں ہیں مگر یہ توازن کاغذوں پر نہیں بلکہ میدان سیاست اور جنگ کے سائے میں لکھا جا رہا ہے وہ لمحہ بھر خاموش ہوئے جیسے الفاظ کو اندر سے سنبھال رہے ہوں پھر بولے کہ امریکی سیاست ہو یا عالمی اسٹیج وہاں بات صرف تعریف یا تنقید کی نہیں ہوتی وہاں مفادات بولتے ہیں حکمت عملی چلتی ہے اور فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ قومی ترجیحات سے جنم لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی ایک رہنما کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کسی دوسرے ملک کی قیادت کے سحر میں ہے بات کو سادہ بنا دینا ہے حالانکہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تہہ دار ہوتا ہے بندن میاں نے چائے کا ایک گھونٹ لیا اور نظریں دور کہیں فضا میں جما دیں جیسے وہ صرف موجودہ لمحہ نہیں بلکہ پورا عالمی نقشہ دیکھ رہے ہوں پھر انہوں نے گفتگو کو ذرا قریب لاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت کا ذکر آئے تو بھی بات صرف شخصیات تک محدود نہیں رہتی یہاں ریاستی ادارے معاشی دباؤ سفارتی تعلقات اور داخلی چیلنجز سب ایک ساتھ چل رہے ہوتے ہیں کبھی امیدیں بڑھتی ہیں کبھی سوالات جنم لیتے ہیں مگر اصل حقیقت ان سب کے درمیان ایک نازک توازن تلاش کرنے میں چھپی ہوتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست جذبات سے نکل کر ریاستی بقا کی زبان بولنے لگتی ہے پھر ان کی آواز میں ایک اور سنجیدگی اتر آئی جیسے موضوع کا دائرہ اب زمین سے اٹھ کر پورے خطے پر پھیل گیا ہو اور وہ بولے کہ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب صرف ایک خطے کی کہانی نہیں رہی غزہ ہو یا لبنان یا ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی یہ سب ایک ایسے زخم کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کے ضمیر پر محسوس کیے جا رہے ہیں انسانی جانوں کا ضیاع بچوں کی چیخیں ملبے کے نیچے دبے ہوئے خواب اور شہروں کی وہ خاموشی جو دھماکوں کے بعد باقی رہ جاتی ہے یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جسے صرف خبر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بندن میاں نے لمحہ بھر کے لیے خاموشی اختیار کی جیسے وہ الفاظ نہیں جذبات کو ترتیب دے رہے ہوں پھر دھیرے سے کہا کہ مگر یہاں بھی بات اتنی سادہ نہیں کہ سب کچھ ایک ہی شخص یا ایک ہی حکومت کے سر ڈال دیا جائے عالمی سیاست ایک ایسا جال ہے جس میں طاقتیں مفادات اور تاریخی تنازعات سب ایک ساتھ الجھے ہوتے ہیں اور ہر فیصلہ کسی نہ کسی بڑی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے پھر وہ ذرا جھکے جیسے قاری سے براہ راست سوال کر رہے ہوں اور بولے کہ سوال یہ ہے کہ جب میڈیا اس پورے منظر نامے کو دکھاتا ہے تو ہم کیا دیکھتے ہیں ہم دھواں دیکھتے ہیں ہم تباہی دیکھتے ہیں ہم نعروں کو دیکھتے ہیں ہم بیانیے سنتے ہیں مگر کیا ہم اس کے پیچھے چھپی انسانی کہانی کو بھی محسوس کرتے ہیں میڈیا کبھی ہمیں قریب لے آتا ہے کبھی ہمیں اتنا دور کر دیتا ہے کہ درد بھی ایک اسکرین کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے اور پھر خبر اگلی خبر میں دفن ہو جاتی ہے بندن میاں نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور انگلی سے ہلکا سا دائرہ بناتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ اب دنیا میں خبر بہت زیادہ ہو گئی ہے مگر احساس کم ہوتا جا رہا ہے ہر تصویر فوری ردعمل تو پیدا کرتی ہے مگر دیرپا سوچ کو جگہ نہیں دیتی پھر انہوں نے گفتگو کو اس نکتے پر جوڑا جو پہلے جملے میں کہیں ادھورا نہیں بلکہ پس منظر میں موجود تھا اور کہا کہ جب عالمی طاقتیں بیانات دیتی ہیں جب رہنما ایک دوسرے کے بارے میں امید یا خدشے کا اظہار کرتے ہیں تو عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی دنیا کسی حل کی طرف جا رہی ہے یا صرف بیانات کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور اسی سوال کے سائے میں مشرق وسطیٰ کی آگ اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جہاں غزہ کے ملبے لبنان کے خوف اور خطے کی بے یقینی ایک ہی تصویر کے مختلف رنگ بن جاتے ہیں بندن میاں نے ایک گہری سانس کے ساتھ کہا کہ اصل کرب یہ ہے کہ وہاں نہ گھر مکمل بچے ہیں نہ محفوظ چھتیں نہ مستقل پانی ہے نہ مسلسل بجلی ہے نہ اسپتالوں میں سکون ہے بلکہ ہر چیز ایک ہنگامی حالت میں سانس لے رہی ہے اور زندگی خود ایک انتظار بن چکی ہے پھر انہوں نے ایک لمحہ توقف کیا جیسے وہ اس پورے بیان کو ایک مرکزی سوال میں سمیٹنا چاہتے ہوں اور بولے کہ سوال یہ نہیں کہ کون کس کے قریب ہے یا کون کس کے خلاف ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت اس پورے کھیل میں اپنی جگہ برقرار رکھ پا رہی ہے یا وہ صرف اعداد و شمار اور خبروں کے درمیان کہیں گم ہو چکی ہے اور جب دنیا کے بڑے بڑے رہنما فیصلے کرتے ہیں تو کیا اس فیصلے کے نیچے دبے ہوئے عام انسان کی آواز بھی کہیں سنائی دیتی ہے یا نہیں پھر بندن میاں نے آہستگی سے کہا کہ تاریخ ہمیشہ طاقت کے فیصلے لکھتی ہے مگر وقت ان فیصلوں کے اثرات انسانی دلوں پر رقم کرتا ہے اور شاید اصل امتحان یہی ہے کہ آنے والی نسلیں جب یہ صفحات پڑھیں تو کیا وہ ہمیں انصاف کرنے والوں میں شمار کریں گی یا خاموش تماشائیوں میں اور پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے جیسے گفتگو ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک لمبی سوچ کی شروعات ہو گئی ہو اور گلی کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولے کہ کاش دنیا میں فیصلے نقشوں پر نہیں بلکہ انسانوں کے چہروں پر لکھے جاتے اور کاش طاقت کا ہر قدم کسی بچے کے آنسو کو گرانے سے پہلے رک جائے مگر بندن میاں ابھی مکمل خاموش نہیں ہوئے تھے وہ دوبارہ بیٹھ گئے جیسے دل کے اندر ابھی کچھ باقی ہو انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جناب اگر ہم اس سارے منظر کو صرف ایک لمحے کے لیے روک کر دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ یہ صرف جنگوں کی کہانی نہیں بلکہ انسان کے اندر کے تضاد کی کہانی ہے ایک طرف وہ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے دوسری طرف وہی انسان اپنے ہی جیسے انسان کو مٹی میں ملانے کے طریقے ایجاد کر رہا ہے ایک طرف وہ چاند پر قدم رکھتا ہے اور دوسری طرف زمین پر بستیاں اجاڑ دیتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی ہے یا تضاد کا عروج بندن میاں نے کہا کہ جب میڈیا کسی تباہ حال شہر کی تصویر دکھاتا ہے تو ہمیں صرف ٹوٹی ہوئی عمارتیں نظر آتی ہیں مگر اس کے پیچھے کتنی زندگیاں ٹوٹی ہوتی ہیں یہ کوئی نہیں دیکھتا ایک دیوار کے گرنے سے صرف اینٹیں نہیں گرتیں بلکہ ایک خاندان کا سہارا گرتا ہے ایک چھت کے اڑ جانے سے صرف سایہ نہیں جاتا بلکہ تحفظ کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے اور جب پانی رک جاتا ہے تو صرف پیاس نہیں بڑھتی بلکہ زندگی کی امید بھی کم ہونے لگتی ہے پھر انہوں نے ایک اور سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کے طاقتور ممالک واقعی امن چاہتے ہیں یا وہ صرف اپنے مفادات کے مطابق امن کی تعریف بدلتے رہتے ہیں اگر امن واقعی مقصد ہوتا تو کیا اتنی تباہی ممکن تھی کیا اتنے بچے یتیم ہوتے کیا اتنی مائیں خالی گود لیے بیٹھی ہوتیں بندن میاں نے آہ بھری اور کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا نے طاقت کو حق سمجھ لیا ہے اور حق کو کمزوری بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ مظلوم کی آواز اکثر دب جاتی ہے اور ظالم کا بیانیہ غالب آ جاتا ہے پھر انہوں نے دھیرے سے کہا کہ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچ کبھی مکمل طور پر ہارتا نہیں وہ وقتی طور پر دب ضرور جاتا ہے مگر آخرکار ابھر کر سامنے آتا ہے بندن میاں نے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف دیکھنے والے نہ بنیں بلکہ سوچنے والے بنیں ہم صرف سننے والے نہ رہیں بلکہ سمجھنے والے بنیں اور ہم صرف تبصرہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنے والے بنیں انہوں نے آخر میں گہری سنجیدگی کے ساتھ کہا کہ امن صرف حکومتوں کے فیصلوں سے نہیں آتا بلکہ معاشروں کے رویوں سے جنم لیتا ہے اگر ہم اپنے دلوں میں نفرت کو جگہ دیں گے تو دنیا میں کہیں نہ کہیں جنگ ضرور ہوگی اور اگر ہم اپنے اندر انصاف اور ہمدردی کو زندہ رکھیں گے تو شاید کہیں نہ کہیں امن کی شروعات ہو جائے گی بندن میاں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا کہ سچ کے ساتھ کھڑے رہنا آسان نہیں مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے مظلوم کے ساتھ جڑنا مشکل ضرور ہے مگر یہی وہ رشتہ ہے جو ضمیر کو زندہ رکھتا ہے اور اپنی ذمہ داری نبھانا بوجھ نہیں بلکہ وہ فریضہ ہے جس سے ایک بہتر دنیا کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے اور یوں بندن میاں کی آواز دھیرے دھیرے مدھم ہو گئی مگر ان کا پیغام فضا میں باقی رہ گیا کہ اگر ہم نے آج بھی سچ کو نہ تھاما مظلوم کا ساتھ نہ دیا اور اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیا تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور اگر ہم نے ہمت کر کے انصاف کا ساتھ دیا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں ایک بہتر دنیا کا معمار کہیں گی۔
بندن میاں نے ذرا سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ اگر اس تمام ہنگامہ خیز عالمی منظر نامے میں کسی کردار کو دیانت داری سے دیکھا جائے تو پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششیں ایک اہم پہلو کے طور پر سامنے آتی ہیں کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے وسائل اور جغرافیائی حیثیت کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کی فضا قائم کرنے کی بات کی ہے خواہ وہ اقوام متحدہ کے فورمز ہوں یا علاقائی سفارتی رابطے پاکستان کا مؤقف مسلسل یہ رہا ہے کہ مسائل کا پائیدار حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے اور یہی وہ اصولی بنیاد ہے جس پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کھڑی نظر آتی ہے بندن میاں نے دھیرے سے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نہ صرف فلسطین کے مسئلے پر ایک واضح اور تاریخی مؤقف رکھتا ہے بلکہ وہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھی تحمل اور توازن کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جہاں ایک طرف انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھائی جاتی ہے وہیں دوسری طرف کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے عالمی برادری کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کی حمایت کی جاتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت سفارتی سطح پر بیانات سے آگے بڑھ کر عملی رابطوں اور عالمی پلیٹ فارمز پر مسلسل یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر دنیا کو مزید تباہی سے بچانا ہے تو طاقت کے استعمال کو روک کر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا اور یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امن کی ضمانت بن سکتا ہے بندن میاں نے آخر میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے پاس عالمی طاقتوں جیسی قوت نہیں مگر اس کے پاس ایک واضح اخلاقی مؤقف اور امن کی خواہش ضرور ہے اور بعض اوقات یہی اخلاقی وزن بڑے بڑے ہتھیاروں سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔