اسرائیل کے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، اور اسی تناظر میں جرمنی نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کو غزہ میں استعمال ہونے والا فوجی ساز و سامان فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔جرمن چانسلر نے ایک بیان میں واضح کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائی کی حکمت عملی اور اس کے ممکنہ نتائج کو سمجھنا مشکل ہے، اس لیے فی الحال ایسے کسی بھی دفاعی ساز و سامان کی برآمد پر پابندی عائد کی جا رہی ہے جو غزہ میں استعمال ہو سکتا ہے۔جرمنی کے بعد دیگر ممالک کی جانب سے بھی اسرائیل کے منصوبے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے:ڈنمارک نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ پر قبضے کا منصوبہ فی الفور ترک کرے، اور اس اقدام کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔سعودی عرب نے بھی اسرائیلی عزائم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر قبضہ ناقابل قبول ہے۔اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یکطرفہ قبضے کا ارادہ ترک کرے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ قدم غزہ میں مزید خونریزی کو جنم دے سکتا ہے، لہٰذا اسرائیل فوری طور پر فیصلے پر نظرثانی کرے۔ترکیہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھائے تاکہ یہ منصوبہ روکا جا سکے۔آسٹریلیا نے بھی اسرائیل کو متنبہ کیا کہ غزہ پر فوجی قبضہ ایک خطرناک اور غیر ضروری اقدام ہوگا۔
اسرائیلی مؤقف اور نئی حکمت عملی
ان تمام عالمی تحفظات کے باوجود، اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے پیش کردہ غزہ پر عسکری قبضے کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔ نیتن یاہو نے ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ:
"ہم غزہ پر حکمرانی نہیں چاہتے، لیکن اپنی سیکیورٹی کے لیے پورے غزہ کا کنٹرول سنبھالنا ضروری ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی قبضے کے بعد غزہ کو ایک سویلین حکومت کے سپرد کیا جائے گا، مگر عالمی برادری کو یہ وضاحت مطمئن نہیں کر پا رہی۔





