تحریر: محمد مظہررشید چودھری 03336963372
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کنسیٹیونٹ کالج دیپالپور اوکاڑہ میں پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی ہدایت پر پرنسپل ڈاکٹر طاہر منیر بٹ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کنسیٹیونٹ کالج دیپالپور اوکاڑہ کی زیر قیادت تین ستمبر2024، جمعرات کو غلام رسول پاکستانی سوشل ورکر کے تعاون سے 5000 سے زائد پودوں کی شجر کاری کی گئی، شجر کاری مہم میں اسسٹنٹ پروفیسر میڈم ڈاکٹرسدرہ اقبال،یونیورسٹی کے تمام فیکلٹی ممبران اور طلباوطالبات نے بھرپور حصہ لیا اس کے ساتھ ساتھ سیاسی وسماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے مہم کو کامیاب بنایا، ریسکیو 1122کی ٹیم، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، محکمہ ماحولیات اور ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین نے بھی شرکت کی،سانچ کے قارئین کرام!اس موقع پر پرنسپل ڈاکٹر طاہر منیر بٹ سے راقم الحروف(محمدمظہررشیدچودھری) نے سوال کیا کہ بتائیے گا کہ ٓاپ نے بہت بڑی تعداد میں یہاں پر پودے لگائے ہیں،اب ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کے سلسلے میں اپ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ڈاکٹر طاہر منیر بٹ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اوکاڑہ کی سرزمین خاص طور پر کینال ویو اور کینال روڈ اوکاڑ ہ شہر تک گرین بیلٹ ہو جائے اور یہ ہمارا آغا ہے،ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد کنسیٹونٹ دیپالپور اوکاڑہ کالج انشاء اللہ پوری بیلٹ کو گرین کرے گا، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن رینالہ خورد ڈاکٹر عطاء محمد ظہیر نے راقم الحروف (محمدمظہررشید چودھری) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکنسٹیونٹ دیپالپور اوکاڑہ میں اکٹھے ہوئے ہیں آپ دیکھیں اس وقت کلائمیٹ اتنی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے تو ہمیں قوم کے اندر شعور کی بیداری کی ضرورت ہے کہ ہم زیادہ تعداد میں پودے لگائیں اور سب سے خوش قسمتی کی بات ہماری ملک کی یہ ہے کہ ہم تو یہاں پہ کوئی پودا لگاتے ہیں تو زمین اتنی زرخیز ہے کہ وہ پودا فوری طور نشو نما پانے لگتا ہے آپ عرب ممالک میں چلے جائیں یقین کریں کہ ایک پودے کو سنبھالنے کے لیے بچے سے زیادہ کیئر کرنی پڑتی ہے تو یہ اللہ کا ہمارے اوپر کرم ہے دوسرا جو میسج میں دینا چاہتا ہوں پودے ہم کو زیادہ سے زیادہ لگانے ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم پھلدار پودے لگائیں تو ہمیں ڈبل فائدہ ہو سکتا ہے آپ کچھ ممالک میں دیکھیں کہ انہوں نے زیتون کے باغ لگائے ہیں سڑکوں پہ ہر جگہ پہ اگر ہم بھی پھل دار پودے لگاتے جائیں گے تو ہمیں دو فائدے ہوں گے پھل بھی ملے گا لوگوں کی صحت بھی اچھی ہوگی کلائمیٹ بھی اچھا ہوگا تیسری بات جو میں ریکویسٹ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پودے کے بارے میں علم ہونا چاہیے کہ کون سا پودا لگانا ہے کچھ لوگ ایسے پودے لگا دیتے ہیں جیسے سفیدے کے درخت ہیں جن کے نقصانات زیادہ ہیں

اور چوتھی بات بڑی اہم ہے آپ دیکھیں بیماریاں بڑھ رہی ہیں،آپ اپنے گھروں میں چھتوں پہ اپنی زمینوں پہ سبزیاں اُگائیں اور اس وطن کو خوشحال کریں یہ ہماری ذمہ داری ہے، آخری میسج یہ ہے ساری قوم کے لیے جو شخص ایک پودا لگاتا ہے اس کی آبیاری کرتا ہے لوگ جب تک اس سے فائدہ لیتے ہیں اس کے لیے صدقہ جاریہ ہے اگر ہم دنیا سے اللہ کے پاس بھی چلے جائیں جتنے پودے ہم لگائیں گے قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ پودے بھی اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے صدقہ جاری ہیں پودا لگائیں گے تو دنیا میں بھی فائدے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے بخشش کا رحمت کا برکتوں کا ثواب ہوگا، راقم الحروف! نے تحصیل پاپولیشن آفیسر رینالہ خورد جاوید اقبال گجر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد کے سب کیمپس دیپال پور اوکاڑہ میں پودے لگانے کی مہم میں شریک ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اس وقت یہاں پرپانچ ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں اس میں آپ نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر ہونا چاہیے لیکن ہمارے وطن عزیز پاکستان میں اس وقت کل رقبے کا تقریبا چار فیصد کے قریب درخت ہیں اگر میں 1988 کی بات کروں تو یہ تعداد کل رقبے کا دو فیصد کے قریب تھی گزشتہ 35 سے 38 سال کے درمیان اس میں اضافہ ہوا صرف دو فیصدکا یہ بہت کم اضافہ ہے، اب جیسے زرعی یونیورسٹی نے یہ قدم اٹھایا ہے اور اس طرح ہی دیگر تمام ادارے بھی اپنا اپنا حصہ ڈالیں تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا اس تعداد کو مناسب حد تک بڑھایا جا سکتا ہے،جاوید اقبال گجر نے کہا کہ پہلے تو میں یونیورسٹیوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے یہ قدم اُٹھایا، تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو سات ایسی بڑی سلطنتیں تھیں جو اس وجہ سے تباہ ہو گئی کہ ان کی آبادی بڑھ گئی اور آبادی نے وہاں کے جنگلات کو کھا لیا، اوور پاپولیشن ان کی بڑی وجوہات میں سے ایک تھی مایا سیویلائزیشن کا آپ نے نام سنا ہوگا یہ صرف اس وجہ سے تباہ ہوئی کہ ان کی آبادی نے ان کے جنگلات کو کھا لیا یہاں پہ اگر آپ لوئر باری دوآب کے دونوں اطراف میں دیکھیں تو آج سے 20 سال 25 سال پہلے یہاں بڑے گھنے جنگلات تھے، لیکن اب یہ تقریبا َ خالی ہو چکے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم مسلسل اپنی کاوش جاری رکھیں اور پودے لگاتے رہیں جتنے پودے ہم لگائیں گے ہماری آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ ہوگا، ہم نے دونوں دور دیکھے ہیں کہ درخت بھی دیکھے ہیں اور پھر ان کی کٹائی بھی، اب ہم نے یہ کرنا ہے کہ ہم نے پودے لگانے ہیں جتنے پودے ہم لگا سکیں ہم نے لگانے ہیں میرا تو پیغام یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ایک پودا لگا لیں اور اس کی بھر پور دیکھ بھال کر یں، آپ کو ہفتے،10 دن بعد اس سے اتنی محبت ہو جائے گی کہ پھر آپ اس کو چھوڑنا نہیں چاہیں گے، سانچ کے قارئین کرام! راقم الحروف نے ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)شعبہ خواتین اوکاڑہ مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ نے اپنے حصے کا پودا لگایا ہے اپ کیسا محسوس کر رہی ہیں؟ مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ نے کہا کہ پرنسپل کو خراج تحسین بھی پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے شجرکاری کے حوالہ سے قدم اٹھایا ہے، خاص طور اسسٹنٹ پروفیسر میڈم ڈاکٹرسدرہ اقبال نے سینکڑوں طالبات (بچیوں) کے ساتھ شجر کاری میں حصہ لیا وہ قابل تعریف ہے اور دوسرا آج یہاں پر معززین شہر کو دعوت دی گئی ہے انکی گفتگو سے پتا چلتا ہے کہ ہم سب اپنے ملک کو خوشحال اور سرسبز دیکھنا چاہتے ہیں،انشااللہ ہمارا ملک مزید سر سبز ہوگا اور ہمیں چاہیے کہ ہم ہر شعبے اورادارے کے سربراہان اور پرنسپلز شجر کاری میں حصہ لیں، جب ہم پودوں کی حفاظت اپنے بچوں کی طرح کریں گے تو ملک سرسبز ہوگا درخت ایسے ہی حفاظت مانگتا ہے جیسے بچہ،ہم اپنی ذمہ داری کو نبھائیں صرف کام کرنا اصل بات نہیں ہے اس کو مکمل ذمہ داری کے ساتھ نبھانا اصل بات ہے۔





