سرائے عالمگیر (ڈاکٹر تصور حسین مرزا) 1973 کے آئین پاکستان میں یہ چیز واضح طور پر بیان کر دی گئ کہ آئین کے آرٹیکل 25 A کے تحت 5 تا 16 سال نرسری تا میٹرک ریاست کی ذمہ داری ہے کیا ریاست اپنی یہ ذمہ داری پوری کر رہی ہے ان خیالات کا اظہار چوہدری راشد محمود گجر ضلعی صدر پنجاب ٹیچر یونین جہلم نے کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر تعلیم موصوف ایک طرف کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میں اساتذہ کا سپاہی ہوں اور دوسری طرف اساتذہ کو ان کے سکولوں سے ہی بے دخل کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیاوزیر تعلیم صاحب 2018سے لیکر اب تک جو وزیر تعلیم تھے اور اب آپ نے ایک ٹیچر بھی بھرتی نہیں کیا ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد اساتذہ کرام اور ہیڈز کی سیٹیں خالی ہیں ناقص پالیسیوں سیاسی مداخلت کیوجہ سے تبادلوں کیوجہ سے بوائیز سکولوں میں خواتین اساتذہ اور گرلز ماڈل سکولوں میں مرد اساتذہ رہ گئے ہیں پرائمری مڈل سکولوں کی اکثریت کو ایک یا دو اساتذہ پڑھارہے ہیں ہائی اور ہائیر سکینڈری سکولوں کی اکثریت ہیڈز کے بغیر چل رہے ہیں سکولوں میں بنیادی سہولیات پوری نہیں ایس ٹی آر 40 طالب علم کے حساب سے بھی 80 تعداد والے اسکولوں کو جہاں دو ٹیچرز ہیں آپ نیلام کر رہے ہیں۔
وزیر تعلیم سے سوال ہے کہ سکولز کو اساتذہ اور سہولیات کس نے مہیا کرنا تھیں ؟: چوہدری شبیر حسین
چوہدری شبیر حسین چیئرمین PTU جہلم نے کہا ہمارا آپ سے سوال ہے اساتذہ اور سہولیات کس نے مہیا کرنا تھیں اگر یہ زمہ داری اساتذہ کرام کی ہے جو دو بندے چھ کلاسزپڑھا رہے ہیں این ایس بی اور کسی فنڈز کے بغیر تو محترم وزیر صاحب آپ اور دیگر زمہ داران کا اس محکمے میں کیا کام ؟آپ پروٹوکول اور تنخواہ الاونسز انجوائے کرنے آئے ہیں کیا؟۔
وزیر تعلیم اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے سکولز کو پرائیویٹ کرکے غریب عوام کے بچوں سے تعلیم کا حق چھیننا چاہتے ہیں؛ منظور نظامی
جنرل سیکرٹری منظور نظامی نے کہا کہ سکولوں میں طلباء وطالبات کی تعداد کے مطابق اساتذہ اور سہولیات آپ نے فراہم کرنی ہیں آپ اپنی زمہ داری پوری کرنے کی بجائے سکولوں کو پرائیویٹ کرکے غریب عوام کے بچوں سے تعلیم کاحق چھیننا چاہتے ہیں واہ کیا کمال کا حل نکالا ہےلیکن یاد رکھیں اساتذہ کرام عوام کیساتھ مل کر ایسا نہیں ہونے دینگےچوہدری افضال گجر میڈیا سیکرٹری کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ ہم نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بخوبی کرنا جانتے ہیں۔جیسا کہ آپ اور ہم سب بخوبی جانتے ہیں 1973کے آئیں آرٹیکل 25Aکےںتحت 5تا16سال نرسری تامیٹرک مفت تعلیم ریاست کی زمہ داری ہے۔کیا ریاست اپنی زمہ داری ایسے پورا کرے گی؟؟جو ہوتا ہے ہو جائے ریاست کی زمینیں کسی سرمایہ دار سیاست دان کے باپ دادا کی وراثت نہیں جو اپنے چہیتے میں بانٹ لو گے تاریخ گواہ ہے جس نے بھی اساتذہ،طلباء وطالبات کا برا سوچا ذلت ورسوائی اسکا مقدر بن گئی آپ لوگوں کو جو لائے ہیں وہ اٹھا کر باہر بھی دے ماریں گے اس لئے تعلیم کش رویہ مت دکھائیں۔ اس موقع پر ملک محمد افضل امیر سینیئر نائب صدر پنجاب نے کہا کہ غریب بچوں کے اسکولز پرائیویٹ کرکے ان سے تعلیم کاحق نہ چھینیں۔آپ سے پہلے وزیر تعلیم مراد راس نہ رہا آپ بھی نہیں رہیں گے اچھے کام کروائیں تاکہ تاریخ آپ کو اچھے لفظوں سے یاد کرے۔آخر میں چوہدری وحید حیدر گجر جنرل سیکرٹریPTU پنجاب کا کہنا تھا پنجاب سرکاری سکولوں ،کالجز کی نجکاری کافیصلہ فوری واپس لیں آساتذہ وپروفیسرز اینڈ لیکچرارز کو پے اینڈ سروس پروٹیکشن تاریخ تقرری سے مستقل کریں ۔لیو انکیشمنٹ پینشن میں ترمیم کے نوٹیفکیشن کو فوری واپس لیں خواتین اساتذہ کو گرلز سکولوں میں اور مرد اساتذہ کو مردانہ سکولوں میں بھیجیں اساتذہ وہیڈز کی خالی سیٹوں پر مستقل بنیادوں پر بھرتی کی خائے۔وفاقی وصوبائی محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں الاونسز میں 💯 فیصد تفریق ثکی جائے ۔اساتذہ کی تنخواہیں ترقی یافتہ ممالک کے برابر کریں۔





