یورپ میں 2 دن کے اندر 8 مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی فرضی اور جھوٹی دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث متعدد ہوائی اڈوں پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی اور فضائی آپریشنز میں شدید خلل پیدا ہوا۔
تفصیلات کے مطابق، 2 نومبر کو اس لہر کا آغاز اس وقت ہوا جب لندن سے صوفیہ جانے والی وز ایئر کی پرواز کو بم کی دھمکی ملنے پر ہنگری کے جنگی طیاروں کے حصار میں بڈاپسٹ ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ فلائٹ ڈیٹا کے مطابق پولینڈ (وارسا) سے لندن جانے والی ایل او ٹی پولش ایئرلائنز کی پرواز کو وارسا موڈلن ایئرپورٹ منتقل کیا گیا، جبکہ کوپن ہیگن سے وارسا، اسپین سے مانچسٹر، اٹلی اور ڈبلن سے روم جانے والی پروازوں سمیت صوفیہ، تل ابیب اور برگامو کی پروازوں کو بھی ای میلز کے ذریعے بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔
اسپین سے مانچسٹر پہنچنے والی ریان ایئر کی پرواز کو لینڈنگ کے فوراً بعد خالی کروا کر اینٹی ٹیررازم اسکواڈ نے گھیرے میں لے لیا، جبکہ اٹلی انے والی پروازوں کو اطالوی فضائیہ کے جیٹس نے اپنی نگرانی میں لینڈ کروایا۔ صوفیہ ایئرپورٹ پر کمانڈوز نے طیاروں کی تفصیلی تلاشی لی۔
خوش قسمتی سے تمام طیارے محفوظ رہے اور تلاشی کے دوران کہیں بھی بارودی مواد نہیں ملا۔ سکیورٹی اداروں نے واضح کیا کہ یہ تمام الرٹس فرضی اور جھوٹی افواہیں (ہوکس) تھیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے مختصر وقت میں متعدد ممالک کی پروازوں کو بیک وقت نشانہ بنانا یورپی ہوائی سفر کے نظام کو مفلوج کرنے کی ایک منظم مہم یا ہائبرڈ سکیورٹی خطرہ ہو سکتا ہے۔ یورپی ممالک کے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے اور پولیس دھمکی آمیز ای میلز اور کالز کے پیچھے ملوث عناصر کی تحقیقات کر رہے ہیں۔





