ایک امریکی پروفیسر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران کی ایٹمی تنصیبات پر جوہری حملہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں پھیلنے والی تابکاری پاکستان اور افغانستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
امریکی پروفیسر رابرٹ پیپ نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین (کوہ کولنگ) پر ممکنہ ایٹمی حملے کے اثرات سے متعلق ایک نقشہ جاری کیا ہے۔ شائع کردہ نقشے اور تجزئے کے مطابق، ایٹمی حملے کے بعد تابکاری پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقوں بشمول بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض حصوں تک پھیلنے کا قوی امکان ہے۔ پروفیسر کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بھی ایران سے ملحقہ علاقوں سمیت مختلف حصے اس سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ خبرداری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے شدید دباؤ پر ایران پر جوہری حملہ کر سکتے ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ اسرائیلی الیکشن کے نتائج اور اندرونی مشکلات سے بچنے کے لیے نیتن یاہو کو دوبارہ ٹرمپ اور جنگ کی ضرورت ہے، اور وہ حملے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے قریبی اتحادیوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران میں پہاڑ کے اندر موجود محفوظ سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے امریکی روایتی ہتھیار ناکافی ہیں، جس کے باعث جوہری حملے کا آپشن زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔





