کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ ہمیں حقائق کے مطابق قومی بیانیے کو فروغ دینے اور کشمیر کے حوالے سے اپنائی جانے والی پالیسیوں پر نظر ثانی اور دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی سطح اور بالخصوص پوری دنیا کی جامعات میں آوازاُ ٹھانے کی ضرورت ہے جس طرح ویتنام نے اپنی جنگ یورپ اور امریکہ کی جامعات میں لڑی، اب فلسطین کی جنگ بھی یورپی اور امریکی جامعات تک پہنچ چکی ہے اور آج پوری دنیا فلسطین کیلئے آواز اُٹھارہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں کشمیر کیلئے پوری دنیا میں آواز اُٹھائی جاسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ”یوم استحصال: کشمیر کا بحران“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے مزید کہا کہ دنیا ہماری بات اس وقت سنے گی جب ہم بات سنانے والا ملک بنیں گے اور ہم غلامی سے آزاد معیشت کے مالک ہوں گے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آئی ایم ایف طے کرتا ہے اور ہمیں قرض دینے کیلئے دیگر ممالک کی ضمانتیں دینی پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک ماہ قبل اپنے زیر تسلط کشمیر سے سیاحوں کے نکلنے کا اعلان کرچکا تھا۔ وہاں کی اسمبلیاں توڑی گئیں، وہاں کی قیادت کو گرفتار اور انٹرنیٹ تک بند کیا جاچکا تھا جبکہ ہمیں پانچ اگست کے بعد پتہ چلا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس کو باقاعدہ بھارت کی ریاست بنادیا گیا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کی آواز اُٹھانے کیلئے سیاستدانوں اور پارلیمنٹرین کا متحدہ ہونا ناگزیر ہے۔ بھارت آرٹیکل تین سو ستر منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو کئی دفع اور بالخصوص نائن الیون حادثے کے بعد ایسے مواقع میسر آئیں جس میں وہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیساتھ ساتھ کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق اس کو مستقل حل کرواسکتا تھا مگر بدقسمتی سے ہم نے وہ تمام مواقع گنوادیئے اور شائد ہم نے اپنے بیانیے کے بجائے معاشی فوائد کو ترجیح دی اور اسی وجہ سے مسئلہ کشمیر آج تک حل نہیں ہوسکا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ عصر حاضر میں اپنی بات منوانے اور ایک آزاد و خود مختیار حیثیت حاصل کرنے کیلئے مضبوط معیشت ناگزیر ہے کیونکہ اس کے بغیر اہداف کا حصول محض ایک خواب ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حق خود ارادیت، انصاف اور انسانی حقوق کا ہے، کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی اور کو نہیں بلکہ خود کشمیریوں کو کرنا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کے کونے کونے تک آپ کو اپنی آواز پہنچانے کی سہولت فراہم کردی ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کشمیر کی آواز کو کہاں کہاں تک پہنچاتے ہیں۔ سابق سفیر جمیل احمد خان نے کہا کہ پانچ اگست انسانی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے جب بھارت نے کشمیر میں ایک نئی جارحیت کی شروعات کی اور اپنے آئین کے آرٹیکل تین سو ستر کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور اس کو باقاعدہ بھارت کی ریاست بنادیا جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ کشمیر کی حیثیت ایک مقبوضہ علاقے کی ہے جس پر بھارت نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اسکی عوام کو حق رائے دہی اور منصفانہ ریفرنڈم کے حق سے محروم کیا ہوا ہے جس کے تحت کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ ان حالات کے ساتھ کشمیری عوام پر آزادی کی جدوجہد فرض ہوجاتی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے قرارداد منظور کی ہے مگر بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو بھی نہیں مانا، خطے کی ریجنل تنظیموں کے پاس بھی یہ مینڈیٹ ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر میں اپنا رول ادا کریں مگر بھارت نے بین الاقوامی کمیونٹی کو یہ پالیسی دی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دو طرفہ ہے اور وہ کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں جو اس کی ہٹ دھرمی ہے۔ شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی کی سابق چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد نے کہا کہ بھارت نے آئین کے آرٹیکل تین سو ستر کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور اس کو باقاعدہ بھارت کی ریاست بنادیا، بھارت نے عملی طور پر نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اپنے آئین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ اب سیکولر نہیں رہا کیونکہ یہ مسلمانوں اور سکھوں کو اقلیت کے طور پر ڈراتا ہے۔ صحافیوں، میڈیا، مواصلات اور بین الاقوامی قانون اور انصاف کے متفقہ اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے اب یہ ایک فعال جمہوریت نہیں ہے۔ ڈاکٹر تنویر خالد نے مزید کہا کہ عالمی برادری، دنیا بھر کے مسلمانوں اور پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کا اخلاقی اور قانونی دفاع کریں۔ نئی دہلی اب تک کثیر الجہتی فورمز پر پاکستان کو تنہا کرنے میں کافی حدتک کامیاب ہوچکا ہے۔ ہمیں ایک مضبوط بیانیے کے ذریعے مغربی دنیا میں بھارت کے معاشی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے جس کے خلاف عوام تو سڑکوں پر نکل آئی ہے لیکن فیصلہ ساز اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ فلسطین میں اتنا ظلم ہونے کے باوجود دنیا اور بالخصوص فیصلہ ساز طاقتیں اس کیلئے آواز اُٹھانے کو تیار نہیں کیا کشمیر کیلئے دنیا آواز اُٹھائے گی؟





