اپریل 17, 2026

یا جہالت تیرا ہی آسرا

تحریر: راجہ شہزاد احمد(کھاریاں)

ایک اور ان پڑھ نے پوسٹ لگائی کہ پاک فوج کی تعداد اتنی ہے لیکن کچے کے ڈاکو قابو نہیں آ رہے ؟
ان عقل کے اندھوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ کچے کا علاقہ جنوبی پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں پھیلا ہوا ہے اور ان کی سرکوبی کرنا پنجاب پولیس ، سندھ پولیس ، بلوچستان پولیس نیز بلوچ لیوی کی زمہ داری ہے اور یہ ادارے محکمہ داخلہ کے ماتحت ہیں محکمہ دفاع کے ماتحت نہیں ہیں اب زہر جتنا کڑوا سچ یہ ہے کہ اس محکمہ داخلہ کو شریفوں ، بھٹووں اور نیازیوں کی حکومت میں سول لوگ ، سیاستدان کنٹرول کرتے تھے اور انہوں نے کوئ کاروائ نہیں کی بلکہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ پر ڈاکوؤں سے یاری دوستی اور تعلقات کا الزام بھی ہے آج بھی ایک عوامی سیاستدان ہی محکمہ داخلہ کو کنٹرول کر رہا ہے۔ وہ کیا کر رہا ہے ؟ اس کی کارکردگی کیا ہے ؟ کروڑوں کی مراعات اور ہزاروں کی نفری جدید اسلحے سمیت کدھر ہے ,؟ اب تو پولیس کے پاس بکتر بند گاڑیاں بھی ہیں نیز کروڑوں کا بجٹ ہوتا ہے اور جدید اسلحہ بھی ، کیا ان کا کام صرف وزیروں مشیروں کی گاڑیوں کے آگے ہوٹر بجانا ہی رہ گیا ہے ؟

فوج کی کوئ زمہ داری نہیں ہے۔ لیکن تعصب کے مارے ہوئے پوسٹیں لگا رہے ہیں کہ فوج ڈاکوؤں پر قابو کیوں نہیں پاتی ؟
جب بھی فوج کو بلایا جائے گا ، فوج نے موثر کاروائی کرنی ہے اور یہ ان سیاسی جماعتوں کے ڈاکو پرور راہنماؤں کو منظور نہیں ہے کیونکہ انہوں نے بھتہ بھی لینا ہوتا ہے اور ان کی بدمعاشی سے دیہاتیوں سے زور زبردستی ووٹ بھی لینے ہوتے ہیں
ان تک اسلحہ کیسے پہنچتا ہے ؟ یہ جاننے کے لیے محکمہ کسٹم کے دو چار وڈیرے افسروں کو ،طالبان میتھڈ سے ، پھانسی سے لٹکاو ان تک اسلحہ پہنچنا بند ہو جائے گا ان تک خوراک کیسے پہنچتی ہے؟ اور دوائیاں کیسے پہنچتی ہیں ؟متعلقہ سول افسروں کو لٹکاو سب درست ہو جائے گا

لیکن انہوں نے بدنام تو فوج کو کرنا ہے ۔اس لیے ایک ہی نعرہ ہےان کا۔ یا جہالت۔ تیرا ہی آسرا

ایک اور بزرجمہر بولا کہ فوج ٹی ٹی پی پر قابو کیوں نہیں پاتی ! ان buut دماغوں والوں کو کوئ بتائے کہ فوج نے انتہائ کامیابی سے وادی سوات سے ان کو نکالا ہے ضلع بونیر اور ضلع دیر سے بھی پاک کیا ہے نیز سات قبائلی ایجنسیاں بشمول شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سے ان۔ خوارج کو نکال باہر کیا ہے اور آج یہ علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا باقاعدہ حصہ ہیں پاکستان کے رقبے میں اضافہ ہو چکا ہے ورنہ پہلے یہ علاقے شتر بے مہار تھے چرس سے لے کر ہیروئین تک ہر قسم کی منشیات دستیاب تھی۔ ناجائز اسلحہ عام بنتا تھا اور پورے ملک میں سپلائی ہوتا تھا معصوم لوگوں کو اغواء کیا جاتا تھا اور تاوان کے لیے علاقہ غیر میں لے جاتے تھے اب ان سب کا خاتمہ ہو چکا ہے پاک فوج نے زبردست جانی نقصان برداشت کیا ہے۔ جنرل مشتاق بیگ اس دوران شہید ہو گئے۔ تھے ۔ لیکن حکومت کی رٹ بحال کی ہے۔ اس وقت ٹی ٹی پی کا مرکز افغانستان ہے (جہاں جانے کے لیے عمران خان کی حکومت نے ان کو راہداری دی تھی ) جہاں سے وہ اکا دکا کاروائیاں ،اور تخریب کاریاں وہ کرتے رہتے ہیں لیکن ان کا دائرہ کار سکڑ رہا ہے

لیکن یہ باتیں متعصب زہن کو کون سمجھائے ؟چند دن پہلے ماسکو (روس ) میں دھماکہ ہوا اور 160 افراد مر گئے تو کیا یہ کہا جائے کہ روسی فوج ناکام ہو گئ ؟
دہشت گردی کے گہرے اسباب ہیں۔ معاشی ، تاریخی ، مسلکی اسباب پس پردہ ہوتے ہیں فوج کا کام علاقہ فتح کرنا ہوتا ہے دلوں کو فتح کرنا سیاستدانوں کا کام ہوتا ہے۔ اب فوج تو کامیاب ہے لیکن سیاستدان ناکام ہو رہے ہیں
خدارا عقل کو ہاتھ ماریں اور سچ بتائیں اس وقت پاکستانی قوم کو سچ کی ضرورت ہے جس کو تلاش کرنے کے لیے (بیروزگار اور برسر روزگار ), سیاستدانوں کی دی گئ عینک اتارنے اور اللہ تعالیٰ کی دی گئ عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔