اپریل 17, 2026

پتنگ فروشی کی سزا سزائے موت ہونی چاہئے


بی ایس کے قلم سے

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سامنے آئی جس میں فیصل آباد کے رہائشی خوبصورت نوجوان کو اپنی جان سے ہاتھ دھوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ افطاری سے تھوڑی دیر قبل کسی کام سے گھر سے نکلنے والے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو سڑک پر ناکہ لگائے کھڑی خونی کیمیکل دھاتی ڈور نے قابو کر لیا۔ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اس ڈور نے نوجوان کا گلہ کاٹ دیا۔ جیسے کسی جانور کو ذبع کیا جاتا ہے۔ جسم کے کسی اور حصے پر لگی چوٹ کے تو کئی حل ہیں لیکن جب گلے کو اس طرح کٹ لگ جائے جیسے تیز دھار چھری سے ذبع کیا گیا ہو تو اس وقت سوائے موت کے کچھ نظر نہیں آتا۔ بہادر نوجوان نے گلہ کٹنے کے بعد اپنے گلے پر ہاتھ رکھ کر خون روکنے کی کوشش کی۔ پاس سے گزرنے والے ایک اور شخص نے گلے پر کپڑا رکھ کر خون روکنے کی کوشش کی لیکن خون تو اس رفتار سے نکل رہا تھا کہ اس طرح روکنا ممکن نہیں تھا۔ مختصر یہ کہ چند منٹوں میں نوجوان کی جان چلی گئی۔ ویڈیو کے مناظر ایسے تھے کہ ویڈیو دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ اسی طرح کچھ ماہ پہلے گجرات شہر میں ایک نوجوان اپنی بہن کو کالج چھوڑنے جا رہا تھا کہ رستے میں پڑی دھاتی ڈور نے اس کا گلہ کاٹ دیا۔ اس بہن نے اپنے بھائی کو اپنے ہاتھوں میں دم توڑتے دیکھا اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں لیکن ہوتا کیا ہے ہر دفعہ جب ایسا واقعہ پیش آتا ہے حکومتی نمائندے متحرک ہوتے ہیں۔ بیانات لگتے ہیں‘ پولیس آفیسران سختی کرتے ہیں‘ کچھ مقدمات درج کرتے ہیں چند روز بعد یہ خونی دھندا اور خونی کھیل پھر اسی طرح اپنے معمول پر آ جاتا ہے۔ ہم کچھ دنوں کی کاروائی کرنے کے لئے ہر دفعہ ایک حادثہ کا انتظار کرتے ہیں۔ اس حادثہ سے صرف ایک روز قبل ڈنگہ میں بھی آسمان پر پتنگ اڑتے نظر آ رہے تھے۔ حیرانگی ہوتی ہے پتنگ فروشی کا دھندہ کرنے والے بے ضمیر لوگوں پر اس سے بڑھ کر حیرانگی ہوتی ہے ان والدین پر جن کے سامنے ان کے بچے پتنگ لے کر آتے ہیں اور ان خونی کیمیکل ڈوروں سے پتنگ اڑا رہے ہوتے ہیں۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ پتنگ فروشی اور پتنگ بازی جرم تو بہت بڑے ہیں لیکن ان کی سزائیں بہت کم ہیں۔ اگر کوئی پتنگ فروش پکڑا بھی جائے تو لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کمانے کے بعد چند روز بعد وہ رہا ہو کر واپس آ جاتے ہیں تو یقینی طور پر وہ یہ سمجھتا ہو گا کہ یہ بہت مناسب ڈیل ہے۔ واپس آنے کے بعد مزید محتاط ہو کر دوبارہ وہی دھندہ شروع کر دیتا ہے۔ پتنگ فروشی کی سزا سزائے موت اور پتنگ بازی کی سزا کم از کم دس سال قید ہونی چاہئے۔ اتنی سزا ہونے کے بعد صرف تین سے چار مثالیں قائم ہونی چاہئیں اس کے بعد دیکھیں کیسے اس خونی کھیل پر قابو پایا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل سیوریج پائپ لائن پر ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے ایک بچہ اس میں گرا اور جاں بحق ہو گیا۔ پتہ چلا کہ سیوریج کے ڈھکن چوری کر لئے جاتے ہیں اس لئے اکثر ان کے اوپر ڈھکن نہیں ہوتے یہ معاملہ جب قومی سطح پر ڈسکس ہوا تو فوری طور پر قانون پاس کیا گیا۔ نئے قانون کے مطابق سیوریج پائپ لائن کا ڈھکن چوری کرنے کی سزا سزائے موت ہے۔ اگر اس معاملہ کو لے کر اس طرح کا قانون بنایا جا سکتا ہے تو اس پر بھی ضرور سزائیں سخت ہونی چاہئیں۔ بصورت دیگر اس کا کوئی حل نہیں۔ اس حادثہ کے 15 سے 20 دن بعد لوگ بات بھول جائیں گے۔ پولیس بھی ریلیکس ہو جائے گی۔ سوشل میڈیا پر بھی پوسٹیں آنا بند ہو جائیں گی اور یہ دھندہ اور کھیل دوبارہ معمول پر آ جائے گا۔ یقین جانیں کہ فیصل آباد والے حادثہ کے بعد اب موٹر سائیکل چلاتے ہوئے بھی ڈر لگا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کہاں سے ڈور کا سامنا ہو اور انسان چند منٹوں میں اپنی جان سے چلا جائے۔ حکومت پاکستان‘ حکومت پنجاب کو اس دھندے کو روکنے کے لئے سخت سے سخت قانون سازی کرنا پڑے گی۔ اس کے علاوہ ہم سب کو ایک بات ذہن میں بٹھانی چاہئے کہ پتنگ فروش اور پتنگ باز کو کبھی سپورٹ نہ کریں۔ سیاسی و سماجی‘ صحافتی‘ کاروباری شخصیات جن کی سفارشیں چلتی ہیں وہ اپنے آپ سے اس بات کا عہد کریں کہ کبھی بھی پتنگ فروش یا پتنگ بازی کرنے والے کی پولیس سے سفارش نہ کریں۔ اگر کوئی پکڑا جاتا ہے تو اس کو اس کی سزا بھگتنے دیں تا کہ اسے احساس ہو کہ جس ماں کا لال شادی سے چند روز قبل ان کے خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ گیا اس ماں نے وہ صدمہ کس طرح اپنے دل پر لیا ہو گا کہ بیٹے کی وفات کے ایک روز بعد ماں بھی دنیا سے چل بسی ہے۔ تمام با اثر شخصیات اس بات پر پکے ہو جائیں کہ ایسے کسی شخص کی سفارش نہیں کرنی اللہ تعالیٰ اس دھندے اور کھیل میں ملوث افراد کو ہدایت دے اور ہم سب کو محفوظ رکھے (آمین)