تحریر: چوہدری عابد محمود
جہلم سمیت صوبہ بھر کے سرکای اداروں میں ہونیوالی کرپشن مالی بدعنوانی اختیارات سے تجاوز کے خاتمے کیلئے اینٹی کرپشن کا محکمہ قائم کیا گیا جو درحقیقت آنٹی کرپشن کا روپ دھار چکا ہے، موجودہ وقت میں محکمہ اینٹی کرپشن کرپشن کرنیوالے افسران و اہلکاروں کو خود تحفظ فراہم کررہا ہے، اینٹی کرپشن کے ذمہ داران کبھی کبھار گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کیلئے پٹواری، کلرک یا درجہ چہارم کے اہلکاروں کیخلاف چند ہزار روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کرکے اُن کی جیبوں سے نشان زدہ نوٹ نکال لیتے ہیں، مگر یہ پٹواری، کلرک اور درجہ چہارم کے اہلکار اپنے جن افسروں کی ایما ء پر یہ سب کچھ کرتے ہیں، اُن پر کبھی محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران نے ہاتھ نہیں ڈالا، بلکہ یہ خودا نہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اسی لئے اب اس محکمے کو لوگ آنٹی کرپشن کہنا مناسب سمجھتے ہیں۔یہ بات مجھے ایک خبر پڑھ کر یاد آئی جو محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب ڈی جی سہیل احمد چٹھہ کے تعینات ہونے کے بعد اپنے ڈائریکٹروں سے ملاقات کے دوران پوچھا کہ انہوں نے کرپشن کے کون سے بڑے کیسز پکڑے ہیں تو وہ سب بغلیں جھانکنے لگے، کیونکہ اُن کی زنبیل میں تو صرف نچلے درجے کے ملازمین کی چند ہزار روپوں پر مشتمل کرپشن کے کیسز تھے۔ خبر کے مطابق ڈی جی نے انہیں 3 ماہ کا وقت دے کر کرپشن کے بڑے مگرمچھوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی کہ جو ایسا نہیں کرسکتا، وہ واپس اپنے اپنے محکمے میں جا سکتا ہے۔سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس محکمے کا اپنا خود کا سٹاف ہی نہیں، اس میں پولیس، انتظامیہ، مختلف کارپوریشنوں اور محکمہ پنجاب کے ذیلی اداروں سے افراد کو ڈپیوٹیشن پر لیا جاتا ہے، سب سے زیادہ پولیس کے محکمے سے ملازمین کو اینٹی کرپشن میں ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں، اس وقت جو ڈی جی پنجاب اینٹی کرپشن تعینات ہیں وہ بھی خود کسی اور ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔اب کوئی یہ فارمولا سمجھائے کہ پولیس کا 16ویں، 17ویں یا18ویں گریڈ کا افسر کسی دوسرے سرکاری محکمے کے کسی بڑے افسر کی کرپشن پر کیسے ہاتھ ڈال سکتا ہے، اس نے ڈیپوٹیشن کے بعد واپس اسی محکمے میں جانا ہے، وہاں اس کی کیا درگت بنے گی؟ یہ کوئی پوچھنے والی بات نہیں۔ آپ نے پویس کے کسی اے ایس آئی یا محرر کو تو رشوت لینے کے الزام میں اینٹی کرپشن والوں کے ہاتھوں گرفتار ہوتے دیکھا ہوگا، تاہم ایس ایچ او، ڈی ایس پی، یا ڈی پی او، تحصیلدار، اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنریا دیگر سرکاری اداروں کے ضلعی سربراہان کے بارے میں کبھی یہ خبر نہیں پڑھی یا سنی ہوگی کہ اسے لاکھوں،کروڑوں روپے کی رشوت لیتے ہوئے یا مالی بدعنوانی سامنے آنے پر گرفتار کیا ہو۔ اس کا بظاہر نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ محکمہ مال، بلدیات،صحت، تعلیم،انہار، ہائی وے، جنگلات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ،پولیس میں محرر اور اے ایس آئی کے سوا پورا محکمہ فرشتوں پر مشتمل ہے، اسلئے اینٹی کرپشن والوں کو موقع ہی نہیں ملتا کہ اُن کی پارسائی پر انگلی اٹھاسکیں، مگر اصل قصہ یہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے دوسرے سرکاری محکموں سمیت پولیس والے اپنے پیٹی بھائیوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ پولیس والے تو اسے اپنا دوسرا محکمہ سمجھتے ہیں، کوئی اُن کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواست دینے کی جرأت کرے تو کارروائی سے پہلے ہی درخواست دہندہ کو عبرت کا نشان بنا دیا جاتاہے، جہاں تک سی ایس پی افسران کا تعلق ہے، تو وہ محکمہ اینٹی کرپشن کی دسترس سے باہر ہیں۔ کسی مجسٹریٹ کی جرات نہیں ہوتی کہ اینٹی کرپشن سٹاف کے ہمراہ جا کر کسی ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کو رشوت وصولی پر رنگے ہاتھوں پکڑے اور اس کی جیب یا دراز سے نشان زدہ نوٹ برآمد کرے۔ سو یہ محکمہ صرف ڈراوا دیکر خود کرپشن کرنیوالے ڈیپوٹیشن سٹاف کی جنت بنا ہوا ہے۔ جو اس محکمے میں چند سال تعینات رہا، اس کی زندگی بدل گئی، وہ کار، کوٹھیوں اور جائیداد وں کا مالک بن جاتا ہے۔ کسی نے نہیں پوچھنایہ مال اپنی محدود تنخواہ سے تم نے کیسے بنایا؟ نیب تو کہتا ہے کہ وہ 2 کروڑ روپے سے کم کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈالتا، جبکہ یہاں خلقِ خدا جن بدعنوان سرکاری اہلکاروں سے تنگ ہے وہ پرچون فروشوں کی طرح تھوڑی تھوڑی رشوت لیتے ہیں، تاہم شام تک وہ لاکھوں میں جمع کر لیتے ہیں۔ اس رشوت سے چھٹکارہ مل جائے تو عوام کی زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس کے سدباب کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن بنایا گیا،لیکن یہ تو خود اس دھندے میں گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کئی کئی ماہ بعد کسی بدعنوان کلرک یا درجہ چہارم کے اہلکار کے پکڑے جانے کی خبر آ جاتی ہے۔ باقیوں کے ساتھ زیادہ تر مک مکا چل رہا ہوتا ہے۔ جہلم کے صوبائی محکموں کے بارے میں ہر روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ لاکھوں روپے کی رشوت لی جارہی ہے،رشوت کے بغیر کسی سائل کا کوئی جائز کام کسی بھی سرکاری ادارے میں نہیں ہوتا۔ اب یہ محکمہ اینٹی کرپشن کے لئے کون سا مشکل کام ہے کہ وہاں سر عام ہونے والی سودے بازیوں پر گرفت نہ کر سکے۔ ڈپٹی کمشنر جہلم ہر محکمے میں جاتے ہیں اس محکمے کا رخ نہیں کرتے حالانکہ ڈپٹی کمشنر سرکل دفتر اینٹی کرپشن کے سربراہ ہوتے ہیں، کیونکہ اسی محکمے سے گلشن کا کاروبار چلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے اکاؤنٹس آفس، محکمہ جیل خانہ جات، محکمہ مال، محکمہ ہیلتھ، محکمہ تعلیم، محکمہ ذراعت، محکمہ معدنیات، محکمہ پبلک ہیلتھ،محکمہ بلدیات، محکمہ انہار، محکمہ پراونشل ہائی وے، لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر جتنے بھی صوبائی محکمے ہیں میں محکمہ اینٹی کرپشن نے کتنی بار ان سرکاری محکموں کے خلاف کارروائیاں کیں؟، اگر نہیں کی اور سرکاری محکموں کے افسران و عملے کو کھل کھیلنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے تو اس کے پیچھے راز کیا ہے؟ جو کہ سوالیہ نشان ہے۔کل ہی میری نظر سے اینٹی کرپشن ملتان ریجن کے ڈائریکٹر کا یہ بیان گزرا کہ کرپشن صرف پیسے کے لین دین کا نام ہی نہیں، بلکہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا، کرپشن کی نیت سے بروقت کام نہ کرنا، جو کام سونپا گیا اسے معیار کے مطابق نہ کرنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے کہ کرپشن کو اس نظر سے بھی دیکھا جانے لگا ہے،لیکن جو کچھ کہا گیا ہے وہ تو ہر جگہ اور ہر ادارے میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ہر جگہ خلقِ خدا دھکے کھا رہی ہے، پریشان ہو رہی ہے جو افسران من مانی کر رہے ہیں اور جو کلرکوں اور اہلکار وں نے اپنی سلطنت قائم کر رکھی ہے۔ کوئی بے چارہ زبان کھول بیٹھے تو اس کا حشر نشر کرنے کیلئے اس کے خلاف ایسا جال تیار کیاجاتا ہے کہ وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ اس طرح آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کروایا دیاجاتا ہے۔ جبکہ اینٹی کرپشن کا محکمہ صرف کسی کی شکایت کنندہ کی شکایت پر ہی حرکت میں آتا ہے، وگرنہ یہ خواب خرگوش کے مزے لیتے دکھائی دیتے ہیں، اس محکمے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے۔ پھر اس کے قوانین میں ترمیم ہونی چاہیے، تاکہ یہ اپنے طور پر ایک فعال کردار ادا کر سکیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے کرپشن کے حوالے سے سخت موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اسی لئے انہوں نے بارہا کہا ہے کہ وہ نیب کو مضبوط اور خود مختار ادارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ غالباً وہ اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ قومی خزانے کے میگا کرپشن سکینڈلز نیب دیکھتا ہے اور اُن کا تعلق براہ راست عوام سے نہیں ہوتا، جو کرپشن سرکاری دفاتر، محکموں، ٹھیکوں اور پولیس میں ہے، اس کے لئے اینٹی کرپشن کے محکمے کو فعال بنائے بغیر کوئی چارہ نہیں، کیونکہ اس کرپشن کا تعلق براہ راست عوام کی زندگیوں سے ہے اور گڈگورننس اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی، جب تک اس کرپشن پر قابو نہیں پایا جاتا۔ پنجاب میں ڈی جی ڈائریکٹر، سرکل آفیسر، سی او اینٹی کرپشن ہمیشہ سیاسی اور افسران کی سفارشوں پر تعینات کئے جاتے رہے ہیں۔ اب چونکہ وفاق اور پنجاب میں نئی حکومتیں قائم ہوچکی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ کم از کم صوبے سے کرپشن کو ختم کیا جائے۔ پنجاب ہر لحاظ سے اُن کا بنیادی ہدف ہے، وہ پنجاب کے ہر شعبے میں تبدیلی کی خواہاں ہیں، ایک فعال اور مضبوط اینٹی کرپشن نظام کا متقاضی ہے، قواعد و ضوابط تو موجود ہیں، لیکن انہیں استعمال کرنے والے کمزور ہیں، اگر سہیل ظفر چٹھہ اس مردہ گھوڑے میں جان ڈالتے ہیں، تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ اُن کے لئے ایک آئیڈیل صورت حال ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف یہ اعلان کرچکی ہے کہ سیاسی مداخلت اب کسی محکمے میں نہیں ہوگی، پھر دوسرا وہ کرپشن کے بارے میں بالکل واضح اشارہ دے چکی ہیں کہ اسے کسی سطح پر بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گویا پنجاب میں ڈی جی انٹی کرپشن کے لئے کچھ کرنے کے لئے میدان ابھی کھلا ہے۔تاہم اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں سالہاسال سے ڈیپوٹیشن پر بیٹھے ہوئے افسران و اہلکاروں کو فوری تبدیل کیا جائے۔ کیونکہ ان میں سے کئی تو کرپٹ افسران کے مخبر بن جاتے ہیں اور کسی بھی کارروائی سے پہلے انہیں باخبر کردیتے ہیں، جب تک بڑے کرپٹ افسران پر ہاتھ ڈالنے کی پالیسی اختیار نہیں کی جاتی، کرپشن کی گنگا زور و شور سے بہتی رہے گی اور عوام اسی طرح لٹتے رہیں گے اور دفتروں میں ذلیل و خوارہوتے رہیں گے۔




