اپریل 17, 2026

وارث علوم شیخ الاسلام

تحریر:ڈاکٹر محمد اجمل

23 مارچ بروز ہفتہ کو تحریک منہاج القرآن پھالیہ کے چھ روزہ ماڈل دروس عرفان القرآن کا چھٹا اور آخری پروگرام تھا جس میں خصوصی خطاب کے لیے جناب صاحبزادہ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری تشریف لاۓ۔ تحریک منہاج القرآن ڈنگہ و جوڑہ کی نماٸندگی کرتے ہوۓ علامہ نجیب اکرم قادری صاحب،محترم وحید اقبال قادری صاحب،حاجی محمد یونس صاحب،محمد عارف بٹ صاحب کے ساتھ راقم الحروف نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی۔ہم صبح سحری کے فوری بعد یہاں سے روانہ ہوۓ اور چھ بجے گریس مارکی حال پھالیہ پہچ گۓ۔جب ہم حال میں داخل ہوۓ تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آ رہا تھا حال میں لگی کرسیاں تو مکمل ہو چکی تھیں اس کے علاوہ سینکڑوں لوگ کھڑے تھے چند منٹ بعد ڈاکٹر حسن محی الدین قادری صاحب نعروں کی گونچ میں حال میں تشریف لاۓ اور چھ بجے خطاب شروع ہو گیا

بھاٸ وحید اقبال قادری صاحب نے کوشش کر کے ہمارے لیے کرسیوں کا انتظام کر دیا ورنہ ڈھاٸ گھنٹے کا خطاب کھڑے ہو کر سننا مشکل کام تھا خیر جیسے ہی خطاب شروع ہوا حال میں خاموشی چھا گٸ ”شکر“ کے موضوع پہ ڈاکٹر صاحب نے نہایت مدلل علمی اور فکری خطاب کیا۔ شیریں لہجا دلوں پہ اثر کر رہا تھا قرآن و حدیث کے دلاٸل کے ساتھ ساتھ تصوف کا رنگ بھی گفتگو میں نظر آ رہا تھا ایسے علمی موتی بکھر رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا خود حضور شیخ اسلام بیان کر رہے ہیں ڈھاٸ گھنٹے ایسے گزر گۓ کہ پتا ہی نہیں چلا اوردل چاہتا تھا کہ حسن بھاٸ گفتگو کرتے رہیں اور ہم سنتے رہیں خیر ساڑھے آٹھ بجے خطاب ختم ہوا اور ڈاکٹر صاحب نے دعا فرماٸ۔تحریک منہاج القرآن پھالیہ نے بہترین انتظمات کیے پھالیہ کے قاٸدین نے تحریک منہاج القرآن ڈنگہ و جوڑہ کو کامیاب دروس عرفان القرآن پر مبارک باد پیش کی۔یوں اس یادگار پروگرام کے بعد ہم دس بجے واپس پہنچے۔