اپریل 17, 2026

پاکستانی صاحب اختیار کا ظلم، اور اللہ کی گرفت ۔۔۔!!

کالمکار : جاوید صدیقی

مائی جندو کے انتقال کا جب مجھے علم ھوا تو میری زبان اور روح سے آواز بلند ھوئی کہ بیشک اللہ سے بڑھ کر کوئی بھی طاقتور نہیں، انسان جو ایک گندے نطفہ سے پیدا ھوا ھے، ذرا معمولی سی طاقت، اختیارات، دولت و شہرت مل جائے تو وہ زمین پر اکڑ اکڑ کر چلنا اور اپنے سے کمزروں پر بہمانہ ظلم و بربریت کرنا اپنی شان سمجھ بیٹھتا ھے۔ وہ بھول جاتا ھے کہ جس واحد لاشریک کل کائنات مالک دوجہاں نے یہ سب کچھ عطا کیا ھے لمحہ بھر میں چھین بھی سکتا ھے اور نشان عبرت بھی بناسکتا ھے، پاکستان دنیا کے چند ان ممالک میں سرفہرست ھے جہاں کی اشرفیہ، ایلیٹ جماعت اور ون ٹو فور اسٹارز سمیت تاجر و صنعت کار اور میڈیا مالکان قرآن میں وارد، فرعون، نمرود، شداد اور یذید کے ظلم و بربریت اور شرک کے تمام قصہ پارینہ سے بھی بہت آگے نظر آتا ھے لیکن اس غلیظ ترین اور خبیث ترین نظام حکومت و نظام ریاست میں ایسے ایسے بیشمار بہادر، مضبوط، ایماندار اور دیانتدار انہیں میں موجود ھیں جو عدل و انصاف، سچائی و دیانتداری اور ایمانداری پر آخری وقت تک کھڑے رہتے ھیں ان میں کئی شہادت کے منصب پر پہنچ جاتے ھیں اور کئی غازی بنکر حق و سچ کی شمع جلا کر قوم میں بیداری پیدا کرتے رہتے ھیں۔ آج پاکستان غلاظت کی ڈھیر میں پچانوے فیصد ڈوب چکا ھے۔ یہ پانچ فیصد محب وطن، عاشق رسول ﷺ، ایمان یافتہ طبقہ ان پچانوے فیصد غلیظ و خبیث مافیا سے شب و روز نبردآزما رہتے ہیں اور ان پچانوے فیصد طبقہ میں قادیانی، مادیت پرست، دنیا پرست، اور دین محمدی ﷺ سے دوری کے طبقہ وافر مقدار میں موجود ھیں انکی کوشش رہی ھے کہ اس سرزمین پاک کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کردیا جائے۔ جہاں اس ملک کو جمہوریت نے تباہ و برباد کردیا ھے وہیں ھماری اسٹبلشمنٹ کی چند ایک غلط پالیسی کے سبب لٹیرے خائن ڈاکو جھوٹے مسلط رھے اور ھیں۔ اس بات کا سب سے بڑا آئینہ خود مائی جندو تھی، آپ کو یاد ھوگا کہ پانچ جون سنہ انیس سو بیانوے جس وقت وزیر اعظم نواز شریف جبکہ صدر غلام اسحٰق خان اور آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ تھے۔ ٹنڈو بہاول سندھ کے گاؤں میں حاضر سروس میجر ارشد جمیل نے پاک فوج کے دستے کے ساتھ چھاپہ مار کر نو کسانوں کو گاڑیوں میں بٹھایا اور جامشورو کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے لے جا کر قتل کردیا، اور پھر میجر ارشد جمیل نے الزام لگایا کہ یہ افراد دہشتگرد تھے انکا تعلق بھارت کے ادارے ریسرچ اینڈ اینالائسس ونگ سے تھا۔ لاشیں گاؤں آئیں تو نہ صرف گاؤں بلکہ پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ہر ماں اپنے بیٹے کی لاش پر ماتم کررہی تھی، انکے بین دل دہلا رہے تھے۔‏ خاموشی سے میتیں دفنانے کا مشورہ دیا گیا کیونکہ قاتل طاقتور ہیں، کسانوں کا ان سے کیا مقابلہ، مائی جندو کو رونے کیلئے کہا گیا تو اس نے وحشت ناک نگاہوں سے میتیوں کی طرف دیکھا اور بولی بس!! مائی جندو ایک ہی بار روئے گی, جب بیٹوں کے قاتل کو پھانسی کے پھندے میں لٹکتا دیکھے گی۔ سب جانتے تھے ایسا ممکن نہیں تھا پھر جنازے اٹھے تو مائی جندو نے سر کی چادر کمر سے باندھی سیدھی کھڑی ہوئی بیٹوں کو الوداع کیا، مسئلہ یہ تھا کہ یہ ٹنڈو بہاول دریائے سندھ کے کنارے پر قتل ہونے والوں کی ویڈیو بنانے کیلئے موبائل کیمرہ بھی نہیں آیا تھا۔ خبر چلی کہ دشمن کے ایجنٹ مار کر ملک کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا ھے، ایسے ہی واقعہ کو انڈین فلمی انداز اپنایا گیا کہ قاتل کی واہ واہ ھو اور مظلوم زمانے بھر میں بدنام ھو۔ بھارت نے اسی طرح کے موضوع پر فلم بھی بنائی تھی "بادل” خیر اس اخبار کی خبر کو جس نے پڑھا سُنا اس نے شکر کیا۔ جب سارا ملک شکرانہ ادا کررہا تھا تب مائی جندو نے احتجاجی چیخ ماری۔ اس چیخ نے پرنٹ میڈیا کی سماعتیں چیر کے رکھ دیں، مائی جندو بوڑھی تھی، جسمانی لحاظ سے کمزور مگر وہ تین مقتولوں کی ماں تھی اس نے اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر قاتلوں کیخلاف اعلان جنگ کردیا، سوشل میڈیا کی غیر موجودگی میں یہ جنگ آسان نہ تھی مگر نقارے بج چکے تھے، کشتیاں جل چکی تھیں اور واپسی محال تھی۔ ‏اخباروں اور صحافیوں کے ہمراہ مائی جندو نے اس چیخ کو طاقتی مراکز کے سینوں میں گھونپ دیا، پہلی جھڑپ ختم ہوئی اور گرد چھٹی تو معلوم ہوا کہ قتل ہونے والے دہشت گرد نہ تھے بلکہ میجر ارشد جمیل کا انکے ساتھ زرعی زمین کا جھگڑا تھا، جس کی سزا میں انہیں قتل ہونا پڑا تھا۔‏ چوبیس جولائی سنہ انیس سو بیانوے کو جنرل آصف نواز جنجوعہ نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی جس میں یہ معاملہ زیر غور آیا اور جنرل آصف نواز جنجوعہ نے میجر ارشد جمیل کا کورٹ مارشل کرنے کا حکم دے دیا، انتیس اکتوبر کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے میجر ارشد جمیل کو سزائے موت اور تیرہ فوجی اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی. سپہ سالار نے رحم کی اپیل چودہ ستمبر سنہ انیس سو تیرانوے کو مسترد کی، اس کے بعد رحم کی اپیل صدر فاروق لغاری سے کی گئی جو اکتیس جولائی سنہ انیس سو پچانوے کو مسترد ہوئی لیکن سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا، میجر کے بھائی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے جج سعید الزمان صدیقی نے حکم امتناع جاری کیا اور سزا روک دی۔ سزائے موت پر عمل نہ ہونے سے گیارہ ستمبر سنہ انیس سو چھیانوے میں مائی جندو پھر میدان میں نکلی۔ اس کی دو بیٹیوں نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا کر جان دے دی۔ ملک میں ایک بار پھر کہرام مچ گیا، بالآخر اٹھائیس اکتوبر سنہ انیس سو چھیانوے کو طاقت کی دیواریں مائی جندو کے مسلسل دھکوں کے سامنے ڈھیر ہوگئیں۔‏ حیدر آباد سنٹرل جیل میں مائی جندو کو لایا گیا، سامنے تختہ دار پر اس کے گاؤں کے نو بیٹوں کا قاتل میجر ارشد کھڑا تھا. تختہ دار کھینچا گیا، قاتل میجر ارشد جمیل کا جسم جھول گیا، سامنے کھڑی مائی جندو کی بوڑھی مگر زورآور آنکھ سے ایک اشک نکلا اسکے رخسار کی جھریوں میں تحلیل ہوگیا۔ مائی جندو تمہیں دنیا کے تمام کمزور اور مظلوم سلام کرتے ہیں۔ اب مائی جندو ھمارے درمیان نہیں رہی مگر اس کیس میں واضع طور پر ثابت ھوگیا کہ جمہوریت اور عدالت ہی انصاف کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ رہیں۔ پاک افواج نے اپنے مجرم افسر کو بچانے اور انصاف میں مداخلت کرنے یا دباؤ ڈالنے کا قطعی عمل نہ رکھا بلکہ آئین و قانون کے مطابق سزاوار قرار دیا اور مجرم بناکر عوامی عدالت میں پیش کیا۔ اس وقت کے فور اسٹار آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ سمیت تمام اعلیٰ افسران نے دین محمدی ﷺ پر چلتے ھوئے عدل و انصاف کو کمزور ھونے نہ دیا جبکہ جمہوری پارٹی کے صدر فاروق لغاری اور منصف اعلیٰ کے منصب پر فائز جج سعید الزمان صدیقی نے فیصلہ روکنے کا عمل کرکے گناہ میں ملوث ھوئے۔ آج بھی اگر عدل و انصاف پاکستان میں نظر آتا ھے تو وہ عدالت میں نہیں بلکہ ھماری اسٹبلشمنٹ اور افواج پاکستان میں موجود ھے۔ پاک افواج اور اسکے ذیلی ادارے ہرگز ہرگز اپنے ملک کے بےگناہ، نہتے شہریوں پر بندوق نہیں اٹھاتے ھیں اور اس عمل کو ملک سے غداری سمجھتے ھیں یہی سبب ھے کہ عوام اور افواج کا رشتہ انتہائی گہرا اور مضبوط ھے، اگر کوئی غلطی کر بھی دے تو اس کے خلاف سخت ترین قدم اٹھایا جاتا ھے لیکن یہ جذبہ یہ رشتہ ھماری پولیس میں کیوں نہیں کاش وہ بھی اپنی افواج سے کچھ سیکھ لیں۔ اللہ ھماری افواج کو دنیا بھر میں ہمیشہ بلند، طاقتور اور سرخرو رکھے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔!!