وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہیں، جن کی باتوں کو سنجیدہ لینا اور ان پر اعتماد کرنا بے فائدہ ہے۔ پاکستانی فورسز انتہائی ڈسپلن کا مظاہرہ کرتی ہیں جبکہ طالبان کے پاس کوئی ضابطہ، نظم و نسق یا کوڈ آف کنڈکٹ موجود نہیں۔ ان کے مطابق طالبان سے کسی مثبت اقدام کی امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی مذہب یا معاشرے میں یہ رویہ قابلِ قبول نہیں کہ کوئی گروہ کسی ملک کی سرزمین پر رہ کر خونریزی کرے اور آگ لگائے۔ انہوں نے پوچھا کہ طالبان آخر کس شریعت کا حوالہ دیتے ہیں، کیونکہ ان کے اعمال کسی بھی معروف اصول کے مطابق نہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے کیونکہ استحکام آئے گا تو تمام ممالک اس کے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آ رہی اور وہ اپنے ملک و قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان تجارت کے لیے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا حق ہے، اور اگر وہ بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتا ہے تو اس پر بھی پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں۔





