نومبر 4, 2026

جامعہ گجرات کے شعبہ تاریخ و مطالعہئ پاکستان کے زیر اہتمام ایک سیمینار”پاکستان میں مہماتی سیاحت“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا

گجرات(پ۔ر)جامعہ گجرات کے شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے زیر اہتمام ایک سیمینار”پاکستان میں مہماتی سیاحت“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ سیمینار کا مقصد طلبا و طالبات میں سیاحت کے ذوق و شوق کو فروغ دیتے ہوئے مہم جوئی اوربہادری کی عظمت کو اجاگر کرنا تھا۔سیمینار کے مہمان خصوصی پاکستان کے نوجوان کوہ پیما احمد کمال تھے۔ احمد کمال نے اپنے والد معروف کوہ پیما و موٹر سائیکلسٹ کمال حیدر کے ہمراہ شرکت کی۔ سیمینار کی صدارت چیئرپرسن ڈاکٹر غلام شبیر نے کی۔ سینئر فیکلٹی ڈاکٹر محمد کاشف علی نے پاکستان میں سیاحت کے تناظر و احکامات کے حوالہ سے کلیدی خطاب پیش کیا۔ مہمانان اعزاز میں ڈائریکٹر امور طلبہ ڈاکٹر طاہر اقبال اعوان، ڈائریکٹرORICڈاکٹر عادل رشید، ڈاکٹر مشتاق علی عباسی، بابر امتیاز، سید حسن شاہ، مبین الرحمان، مرزا عامر بیگ ودیگر شامل تھے۔ حیاتین ہسٹاریکل سوسائٹی کے عہدیداران و نمائندگان نے سیمینار کی کامیابی میں کلیدی کردار اداکیا۔ سیمینار میں مختلف شعبہ جات کے طلبہ و اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہوئے استفادہ کیا۔ احمد کمال نے اپنی کوہ پیمائی اور مہم جوئی کی داستان شگفتہ انداز میں بیان کرتے ہوئے پاکستان کی معروف چوٹی سپانتک(7027میٹر) کو سر کرنے میں پیش آنے والے مہماتی واقعات کا تفصیلی تذکرہ کیا۔ شرکاء نے احمد کمال کو ان کی مثالی کامیابی پر کھل کر داد دی اور ان کی کوہ پیمائی کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ احمد کمال کم عمری میں ایک قلیل وقت میں سپانتک کی چوٹی کو سرکرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما ہیں۔ڈاکٹر محمد کاشف علی نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹورزم کو انڈسٹری کے طور پر لیا جاتا ہے۔ پاکستان ایک متنوع ملک ہے۔ سیاحت ہمیں مختلف مقامات کے قدرتی حسن سے روشناس کرواتی ہے۔ پاکستان میں ہمالیہ اور قراقرم کی چوٹیاں، موہن جوڈارو،ہڑپہ وغیرہ اہم مقامات ہیں۔ سیاحت پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سیاحت پاکستان کے دور دراز خوبصورت مقامات پر معاشی انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ پاکستان کے پر افتخار ثقافتی و تہذ یبی ورثہ کو عیاں کرنا لازم ہے۔ پاکستان میں 77زبانیں اور لہجے پائے جاتے ہیں۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک سیاحت سے وابستہ انڈسٹری سے کمائی کرتے ہوئے معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ پاکستان میں دنیا بھر کی سب سے اونچی چوٹیاں اور وسیع تر گلیشئیر پائے جاتے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب دریاؤں کے کنارے پر آباد ہوئی۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ثقافتی و تہذیبی مراکز کے مقامات موجود ہیں۔ پاکستان میں سیاحت کو کئی چیلنج بھی درپیش ہیں۔ سیاحت کوکامیاب بنانے کے لیے عملی تجاویز پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر طاہر اقبال اعوان نے کہا کہ SSCطلبہ کی مثبت ہم نصابی سرگرمیوں کی معاونت احسن انداز میں جاری رکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کرے گی تاکہ وہ کسب کمال کن کی جانب راغب ہوتے ہوئے مادر علمی کا نام روشن کریں۔ بابر امتیاز نے کہ سفر وسیلہ ظفر ہے۔ احمد کمال نے سپانتک کو سر کرتے ہوئے قابل فخر کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ڈاکٹر غلام شبیر نے کہا کہ کامیابی محنت و ہمت کی متقاضی ہے۔ افراد کا عملی اشتراک ٹیم سپرٹ کو پروان چڑھاتے ہوئے کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی جانب پہلا قدم ہے۔ ڈاکٹر غلام شبیر نے حیاتین ہسٹاریکل سوسائٹی کے عہدیداران اور شعبہ کے طلبہ و اساتذہ کا کامیاب سیمینار کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔ سیمینار میں احمدکمال کی کوہ پیمائی بارے ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ مبین الرحمان اور سید حسن شاہ نے ہسٹاریکل سوسائٹی اور شعبہ کے طلبہ کو سرٹیفکیٹ پیش کئے۔ ڈاکٹر طاہر اقبال اعوان اور ڈاکٹر غلام شبیر نے حیاتین ہسٹاریکل سوسائٹی کے رخصت ہونے والے عہدیداران کو تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ احمد کمال کو ان کے کارنامہ پر یونیورسٹی آف گجرات کا سپیشل سووینیئر پیش کیا گیا۔