تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی نے متوسط اور بالخصوص نچلے متوسط طبقے کو ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ضروریاتِ زندگی پوری کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فریج، واشنگ مشین، موٹر سائیکل، موبائل فون یا دیگر گھریلو سامان خریدنا اب بہت سے خاندانوں کے لیے صرف خواب بن چکا ہے۔ یہی وہ مجبوری ہے جس نے قسطوں پر اشیا فروخت کرنے والے کاروبار کو غیر معمولی وسعت دی ہے۔ بظاہر یہ نظام عوام کو سہولت فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے پس پردہ کئی ایسے پہلو بھی ہیں جو نہ صرف شرعی بلکہ قانونی اور اخلاقی اعتبار سے بھی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔قسطوں پر خرید و فروخت بذاتِ خود ناجائز نہیں۔ اسلامی فقہ کے مطابق اگر معاہدے کے آغاز میں یہ واضح کر دیا جائے کہ سودا نقد ہے یا ادھار، کل قیمت متعین ہو اور بعد میں اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے تو نقد قیمت سے زیادہ رقم پر بھی سامان فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر قسطی کاروبار سود پر مبنی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ مارکیٹ میں یہی اصول اختیار کیے جا رہے ہیں؟مثال کے طور پر اگر 35 ہزار روپے مالیت کی ایک چیز گیارہ ماہ کی قسطوں پر 43 ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا واقعی صرف گیارہ ماہ میں اس چیز کی قیمت آٹھ ہزار روپے بڑھ گئی؟ یا یہ اضافہ صرف خریدار کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا؟ بلاشبہ کاروباری شخص نقد قیمت پر بھی اپنا منافع وصول کر چکا ہوتا ہے، اس کے بعد اتنی بڑی اضافی رقم اخلاقی طور پر ضرور غور طلب ہے، اگرچہ شرعی طور پر پہلے سے طے شدہ قیمت بعض شرائط کے ساتھ جائز ہو سکتی ہے۔اصل تشویشناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تاخیر پر جرمانے، سود در سود اضافے اور سخت شرائط کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ متعدد علماءکرام واضح کر چکے ہیں کہ اگر قسطوں کے معاہدے میں تاخیر کی صورت میں اضافی رقم یا جرمانہ وصول کرنے کی شرط شامل ہو تو یہ شرعاً جائز نہیں رہتا۔ قرض خواہ کو اصل رقم کا حق حاصل ہے، لیکن صرف تاخیر کی بنیاد پر اضافی رقم وصول کرنا اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو وہ ضمانتیں ہیں جو قسطوں پر سامان لینے والے افراد سے حاصل کی جاتی ہیں۔ بلینک بینک چیک، دو ضامن، شناختی دستاویزات اور یوٹیلٹی بل وصول کیے جاتے ہیں۔ خریدار دراصل اپنی مجبوری کے باعث ایسی دستاویزات پر دستخط کر دیتا ہے جن کے نتائج کا اسے مکمل اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ اگر کسی وجہ سے دو یا تین قسطیں تاخیر کا شکار ہو جائیں تو بعض کاروباری افراد یہی بلینک چیک استعمال کرکے لاکھوں روپے کے دعوے اور فوجداری مقدمات کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔اگرچہ پاکستانی عدالتوں نے مختلف فیصلوں میں یہ واضح کیا ہے کہ صرف ضمانت کے طور پر دیا گیا چیک ہر صورت میں فوجداری کارروائی کی بنیاد نہیں بن سکتا، لیکن عملی طور پر عام آدمی عدالتوں کے چکر، وکیلوں کے اخراجات اور مقدمات کے خوف سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہی خوف بعض کاروباری افراد کے لیے طاقت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ قسطیں ادا نہ کر سکنے والا ہر شخص بدنیت نہیں ہوتا۔ بیماری، بے روزگاری، کاروباری نقصان یا کسی گھریلو حادثے کے باعث وقتی مالی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسے افراد کو مہلت دینے کے بجائے اگر ان پر ڈیفالٹر کے مقدمات قائم کیے جائیں اور انہیں مجرم بنا کر پیش کیا جائے تو یہ نہ صرف معاشرتی بے حسی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے، جن میں تنگ دست مقروض کو مہلت دینے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ کاروبار مکمل طور پر جائز اور منصفانہ ہے تو پھر چند برسوں میں اس کے مالکان کروڑوں روپے کے اثاثے اور درجنوں شاخیں کیسے قائم کر لیتے ہیں، جبکہ ان کے بیشتر گاہک سالہا سال قسطوں، قرضوں اور ذہنی دباؤ کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں؟ یہ تضاد اس پورے نظام پر سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام قسطی کاروبار ناجائز ہیں۔ بہت سے ادارے دیانت داری سے کاروبار کرتے ہیں، شرائط واضح رکھتے ہیں، تاخیر پر سود یا جرمانہ وصول نہیں کرتے اور صارفین کے ساتھ حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے کاروبار یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ لیکن جہاں لالچ، استحصال اور قانونی خلا سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے، وہاں ریاست کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے۔پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ سمیت مختلف قوانین صارفین کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ عام شہری کو اپنے حقوق کا علم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قسطوں کے کاروبار کے لیے سخت ضابطہ اخلاق نافذ کرے، بلینک چیک کے غلط استعمال کی روک تھام کرے، ناجائز جرمانوں کے خلاف موثر کارروائی کرے اور صارفین کو قانونی معاونت فراہم کرے۔قسطوں کا نظام معاشرے کے لیے آسانی بھی بن سکتا ہے اور استحصال کا ذریعہ بھی۔ فیصلہ کاروباری نیت، شرعی اصولوں کی پابندی اور قانون کے نفاذ پر منحصر ہے۔ اگر منافع انصاف کے دائرے میں رہے، معاہدے شفاف ہوں، خریدار کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے اور تاخیر کو سود کمانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے تو یہی نظام معاشی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ضرورت مند انسان کی بے بسی کو کاروبار کی بنیاد بنا لیا جائے تو پھر یہ تجارت نہیں بلکہ معاشی استحصال کہلائے گی۔وقت آ گیا ہے کہ ریاست، علما، تاجر تنظیمیں اور عوام سب مل کر یہ سوال اٹھائیں کہ کیا ہمارا قسطوں کا موجودہ نظام واقعی انصاف پر قائم ہے، یا پھر یہ خاموشی سے ہزاروں خاندانوں کو قرض، ذہنی دباؤ اور قانونی مسائل کی دلدل میں دھکیل رہا ہے؟٭





