اپریل 17, 2026

اساتذہ کی عدم تعیناتی ایک سنگین مسئلہ

تحریر: راجہ اظہر محمود ( ٹھوٹھہ رائے بہادر)

ہمارے معاشرے کی ترقی کا انحصار تعلیم پر ہےاور تعلیم میں لڑکیوں کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ایک پڑھی لکھی لڑکی نہ صرف خود با اختیار بنتی ہے بلکہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل دیتی ہے ۔بد قسمتی سے ہمارے گاؤں ” ٹھوٹھہ رائے بہادر” تحصیل کھاریاں میں قائم گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول میں گزشتہ پندرہ سال سے گیارویں اور بارہویں جماعت کی اساتذہ تعینات نہیں کی گئیں اور نہ ہی اس سکول میں روز اوّل سے پرنسپل کی تعیناتی کی گئی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک سکول کا نہیں بلکہ پورے علاقے کے تعلیمی مستقبل کا سوال ہے ۔جب ایک طالبہ میٹرک کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے گاؤں میں سہولت میسر نہیں ہوتی،اساتذہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بچیوں کو تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑتی ہے یا پھر دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے جو کہ ہر خاندان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ دیہی علاقوں میں پہلے ہی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کئی سماجی اور معاشی رکاوٹیں موجود ہیں ایسے میں اگر حکومت کی طرف سے بنیادی سہولیات بھی فراہم نہ کی جائیں تو یہ صورت حال انتہائی افسوسناک ہے پندرہ سال کا طویل عرصہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے بہت کافی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود متعلقہ حکام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔والدین اپنی بچیوں کو دور بھیجنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی کے مسائل اور اخراجات دونوں ہی ان کے لئے بڑی رکاوٹ ہیں نتیجتاً کئی ذہین، باصلاحیت اور محنتی طالبات اپنے خوابوں کو دفن کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں یہ صرف ان کے ساتھ نا انصافی ہے بلکہ ملک کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے بڑے بڑے دعوے تو کرتی ہے مگر زمینی حقائق اس کے بر عکس ہیں اگر ایک گاؤں جس کی آبادی چھ سات ہزار پر مشتمل ہے اس گاؤں کے سکول میں پندرہ سال سے نہ انٹر کلاسز کی ٹیچرز تعینات کی گئی ہیں نہ ہی ہائیر سیکنڈری اسکول میں پرنسپل تعینات ہو سکیں تو یہ انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ اساتذہ کی عدم تعیناتی صرف تعلیمی نقصان ہی نہیں بلکہ سماجی پسماندگی کا بھی سبب بن رہی ہے جب بچیاں تعلیم سے محروم رہیں گی تو وہ عملی زندگی میں پیچھے رہ جاتی ہیں یہ صورتحال خواتین کی خود مختاری کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے گاؤں کے لوگ اس حوالے سے شدید بے چینی کا شکار ہیں اگر بر وقت اقدامات نہ کیے گئے تو اہل دیہہ کی مایوسی اور بے چینی مزید بڑھے گی اور طالبات کا تعلیمی نقصان ہو گا۔مقامی افراد نے کئی بار متعلقہ اداروں کو درخواستیں دیں، احتجاج کیا اور اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار انہیں صرف وعدوں پر ٹال دیا گیا یہ صورتحال عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہےاور انہیں مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔اخبارات اور میڈیا کا کردار ایسے مسائل کو اجاگر کرنے میں نہایت اہم کردار ہوتا ہے کہ شاید حکام کی توجہ اس جانب مبذول ہو سکے یہی وجہ ہے کہ اس کالم کے ذریعے ہم حکام بالا سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے ۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہےاور اگر ہم اپنی بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھیں گےاور انہیں مناسب تعلیمی مواقع فراہم نہیں کریں گے تو ہم ترقی کے خواب کبھی بھی پورے نہیں کر سکیں گے اس لئے حکومت کو چاہیئے کہ دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کو ترجیح دے اور جہاں جہاں اساتذہ کی کمی ہے فوری طور پر پورا کیا جائے تاکہ تعلیمی روانی متاثر نہ ہو۔ ہماری بچیاں بھی اس ملک کا مستقبل ہیں انہیں بھی وہی مواقع ملنے چاہئیں جو شہروں کی بچیوں کو حاصل ہیں۔ یہ ان کا حق ہے اور اس حق کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے ہم حکومت پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن گجرات کو ہدایت کریں کہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول ٹھوٹھہ رائے بہادر میں پرنسپل اور تین سبجیکٹ سپیشلسٹ کی فوری تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔