تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں اپنی پرانی مگر وقار سے بھری بیٹھک میں سیدھے کمر کے ساتھ ایسے بیٹھا ہے جیسے وقت کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس سے جواب مانگ رہا ہو اس کے سامنے رکھی ہوئی پیالی کی چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی ہے مگر اس کی سوچ کی آنچ تیز ہے وہ خبروں کے شور سے نہیں بلکہ حقیقت کی خاموشی سے باتیں کرتا ہے اور آج اس کے ذہن میں جو منظر چل رہا ہے وہ کسی ایک ملک یا ایک واقعے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی بساط پر بچھے ہوئے اس کھیل کا ہے جس میں مہروں کو اکثر اپنی چال کا علم نہیں ہوتا بندن میاں آہستہ سے کہتا ہے بات سادہ نہیں جتنی تم سمجھ رہے ہو بلکہ سادگی کے پردے میں لپٹی ہوئی پیچیدگی ہے اور پیچیدگی کے اندر چھپی ہوئی وہ مجبوری ہے جسے ہر ریاست اپنے مفاد کا نام دیتی ہے وہ کہتا ہے پاکستان کی خواہش کہ اسرائیل اس کے پڑوس میں نہ ہو یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تاریخی موقف ہے جو فلسطین کے زخموں سے جڑا ہوا ہے اور ساتھ ہی ایک جغرافیائی حقیقت بھی ہے کہ اگر خطے میں ایک اور مستقل تنازعہ جنم لے گا تو اس کی آگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ معیشت سے لے کر داخلی امن تک ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی بندن میاں اپنی چھڑی کو زمین پر ہلکا سا ٹک ٹک کر کے جیسے دلیل کو وزن دیتا ہے اور کہتا ہے تم سمجھتے ہو کہ یہ صرف نظریاتی مسئلہ ہے نہیں یہ بقا کا سوال بھی ہے کیونکہ پاکستان کے پاس نہ تو اتنی معاشی گنجائش ہے کہ وہ کسی بڑے تنازعے کا بوجھ اٹھا سکے اور نہ ہی اتنی سیاسی یکسوئی کہ وہ کسی ایک کیمپ میں پوری طرح کھڑا ہو جائے اس لیے وہ بظاہر خاموش رہ کر دراصل ایک مشکل توازن قائم رکھتا ہے پھر بندن میاں اپنی آنکھیں ذرا سکیڑ کر کہتا ہے اور جہاں تک ایران اور چین کی بات ہے تو یہ بھی کوئی سیدھی لکیر نہیں ہے بلکہ ایک جال ہے جس میں توانائی سیاست اور طاقت ایک دوسرے میں گندھی ہوئی ہیں تم کہتے ہو ایرانی تیل چین کی شہ رگ ہے تو سنو شہ رگ وہ ہوتی ہے جس کے بغیر جسم ایک لمحہ بھی نہ چل سکے چین نے اپنی معیشت کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ کسی ایک ذریعہ پر انحصار نہ کرے اس کے پاس روس ہے خلیجی ریاستیں ہیں افریقہ ہے اور اندرونی ذخائر بھی ہیں مگر ایران کی اہمیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ وہ راستہ ہے وہ پل ہے وہ جغرافیہ ہے جو ایشیا کو مشرق وسطیٰ اور یورپ سے جوڑتا ہے بندن میاں کہتا ہے یہ کھیل صرف تیل کا نہیں راستوں کا ہے راہداریوں کا ہے بندرگاہوں کا ہے اور ان خوابوں کا ہے جو طاقتور ملک اپنی آئندہ نسلوں کے لیے دیکھتے ہیں وہ ذرا مسکرا کر کہتا ہے تم نے سٹیلتھ طیارے کے گرنے کی بات کی تو یاد رکھو جنگ صرف گولی اور بم کی نہیں ہوتی بلکہ خبر کی بھی ہوتی ہے اور خبر اکثر وہی ہوتی ہے جو دکھانا مقصود ہو آج اگر کوئی طیارہ گرتا ہے تو اس کے ساتھ سو کہانیاں بھی اڑتی ہیں کچھ سچ کچھ آدھا سچ اور کچھ مکمل فسانہ بندن میاں کہتا ہے اصل جنگ ریڈار اور میزائل سے پہلے ذہنوں پر لڑی جاتی ہے اور جو ذہن جیت لے وہی اصل فاتح ہوتا ہے وہ کہتا ہے امریکہ اور چین دونوں آسمان پر آنکھیں رکھتے ہیں مگر آنکھ ہونا اور سب کچھ دیکھ لینا دو الگ باتیں ہیں کیونکہ ہر آنکھ کے سامنے ایک پردہ بھی ہوتا ہے جسے مفاد کہتے ہیں اور مفاد اکثر حقیقت کو دھندلا دیتا ہے بندن میاں اپنی نشست پر ذرا آگے جھک کر کہتا ہے ایران کا معاملہ بھی تم نے سادہ کر دیا ہے کہ وہ مار کھا کر ہرجانہ مانگ رہا ہے نہیں بیٹا یہ مار کھانا نہیں بلکہ برداشت کی وہ حد ہے جس کے بعد ہر چوٹ کو سیاسی ہتھیار بنا لیا جاتا ہے ایران جانتا ہے کہ وہ براہ راست جنگ میں امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ خطے میں اپنی موجودگی کو نظر انداز نہیں ہونے دے سکتا اس لیے وہ ہر نقصان کو ایک پیغام میں بدل دیتا ہے کہ میں موجود ہوں اور رہوں گا بندن میاں کہتا ہے یہ وہی حکمت عملی ہے جسے کمزور کا صبر اور مضبوط کا غرور دونوں ایک ساتھ سمجھا جاتا ہے پھر وہ بات کو پاکستان اور سعودی عرب کی طرف لے جاتا ہے اور کہتا ہے پاکستان کا کردار یہاں سب سے زیادہ نازک ہے ایک طرف مذہبی اور تاریخی تعلقات ہیں دوسری طرف جغرافیائی اور سیاسی ضرورتیں ہیں پاکستان نہ ایران کو ناراض کر سکتا ہے نہ سعودی عرب کو اور نہ ہی امریکہ سے مکمل لاتعلقی اختیار کر سکتا ہے اس لیے وہ بظاہر خاموش رہ کر دراصل ہر طرف سے آنے والے دباؤ کو توازن میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے بندن میاں کہتا ہے یہ توازن ایک تلوار کی دھار پر چلنے جیسا ہے ذرا سی لغزش اور سب کچھ بکھر سکتا ہے وہ اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے کہتا ہے تم نے کہا کہ امریکہ اور ایران دونوں پھنس چکے ہیں تو میں کہتا ہوں ہاں پھنسے ہیں مگر یہ پھنسنا کمزوری نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے امریکہ مکمل جنگ نہیں چاہتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک اور بڑی جنگ اس کی معیشت اور عالمی ساکھ کو مزید کمزور کر دے گی اور ایران مکمل جھکاؤ نہیں چاہتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ ایک بار جھک گیا تو پھر اس کے لیے سر اٹھانا مشکل ہو جائے گا بندن میاں کہتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کو گرانا بھی چاہتے ہیں اور مکمل ٹکراؤ سے بچنا بھی چاہتے ہیں یہی وہ کیفیت ہے جسے تم پھنسنا کہتے ہو اور میں اسے مجبور توازن کہتا ہوں بندن میاں اپنی بات کے آخر میں گہری سانس لے کر کہتا ہے دنیا اب سادہ نہیں رہی یہ نہ اچھے اور برے کی سیدھی کہانی ہے نہ ہی طاقتور اور کمزور کی واضح جنگ یہ مفادات کا جنگل ہے جہاں ہر درخت اپنی جگہ کے لیے لڑ رہا ہے اور ہر سایہ کسی نہ کسی روشنی کو چھین رہا ہے تم اگر اسے سمجھنا چاہتے ہو تو نعروں سے باہر نکلنا ہوگا جذبات سے اوپر اٹھنا ہوگا اور حقیقت کی عینک پہن کر دیکھنا ہوگا کیونکہ حقیقت نہ تو اتنی سادہ ہے کہ ایک جملے میں سمٹ جائے اور نہ ہی اتنی پیچیدہ کہ اسے سمجھا نہ جا سکے بس شرط یہ ہے کہ تم سننے کے لیے تیار ہو دیکھنے کے لیے تیار ہو اور ماننے کے لیے تیار ہو کہ دنیا وہ نہیں جو تمہیں دکھائی جاتی ہے بلکہ وہ ہے جو پردوں کے پیچھے خاموشی سے اپنا کھیل کھیل رہی ہے بندن میاں یہیں نہیں رکتا بلکہ اپنی بات کو اور گہرا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کھیل میں سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ ہر فریق خود کو مظلوم بھی ثابت کرتا ہے اور طاقتور بھی دکھاتا ہے امریکہ اپنے آپ کو عالمی امن کا نگہبان کہتا ہے مگر اس کی پالیسیوں کے سائے میں کئی خطے آج بھی بے یقینی اور خوف کا شکار ہیں ایران اپنے آپ کو مزاحمت کی علامت کہتا ہے مگر اس مزاحمت کی قیمت اس کے عوام مہنگائی اور تنہائی کی صورت میں ادا کرتے ہیں چین خاموشی سے اپنے معاشی جال کو پھیلاتا ہے اور دنیا کو ترقی کا خواب دکھاتا ہے مگر اس خواب کے ساتھ ایک ایسا انحصار بھی جڑتا ہے جو کمزور ممالک کو آہستہ آہستہ اس کے مدار میں لے آتا ہے بندن میاں کہتا ہے یہ وہ شطرنج ہے جس میں بادشاہ کم اور کھلاڑی زیادہ ہیں اور ہر کھلاڑی اپنی چال کو آخری چال سمجھ کر چل رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا صرف کھلاڑی بدلتے ہیں مہرے بدلتے ہیں اور کہانیاں بدل جاتی ہیں بندن میاں اپنی بات کو مزید وسعت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ عام آدمی اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس نہ تو معلومات کی مکمل رسائی ہوتی ہے اور نہ ہی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت وہ صرف نتیجہ بھگتتا ہے کبھی مہنگائی کی صورت میں کبھی جنگ کے خوف میں اور کبھی بے یقینی کے اندھیرے میں بندن میاں کہتا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیت رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ کون قیمت ادا کر رہا ہے اور جواب ہمیشہ ایک ہی نکلتا ہے کہ قیمت وہی ادا کرتا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت نہیں ہوتی بندن میاں کی آواز میں ایک درد بھی ہے اور ایک تلخی بھی وہ کہتا ہے کہ ہمیں جذباتی نعروں سے نکل کر حقیقت کی زمین پر کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ جب تک ہم صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے رہیں گے تب تک ہم اس کھیل کے تماشائی رہیں گے کھلاڑی نہیں بن سکیں گے بندن میاں آخر میں خاموش ہو جاتا ہے مگر اس کی خاموشی بھی ایک سوال بن کر فضا میں گونجتی ہے کہ کیا ہم کبھی اس قابل ہو سکیں گے کہ حقیقت کو حقیقت کی طرح دیکھ سکیں یا ہم ہمیشہ مفادات کے اس جال میں الجھے رہیں گے جہاں ہر سچ ایک نئے جھوٹ کے ساتھ سامنے آتا ہے اور ہر جھوٹ ایک نئے سچ کا لباس پہن لیتا ہے یہی وہ لمحہ ہے جہاں بندن میاں کی بیٹھک صرف ایک کمرہ نہیں رہتی بلکہ ایک آئینہ بن جاتی ہے جس میں دنیا کی سیاست طاقت اور مفادات کی اصل شکل نظر آنے لگتی ہے اور جو اس آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت کر لیتا ہے وہی دراصل حقیقت کو سمجھنے کے سفر پر نکلتا ہے اور یہی وہ سبق ہے جو بندن میاں اپنی خاموش مگر گہری گفتگو سے دینا چاہتا ہے کہ دنیا کو سمجھنے کے لیے صرف آنکھیں نہیں بلکہ ایک بیدار شعور بھی چاہیے اور جب تک یہ شعور بیدار نہیں ہوگا تب تک ہر سچ ایک کہانی ہی لگے گا اور ہر کہانی ایک سچ کا دھوکہ دیتی رہے گی بندن میاں اپنی چھڑی کو سہارے کے طور پر تھامے اٹھتا ہے اور کھڑکی کے پار دیکھتے ہوئے جیسے وقت سے مخاطب ہوتا ہے کہ یہ کھیل ابھی جاری رہے گا نئے نام آئیں گے نئی خبریں آئیں گی مگر حقیقت وہی رہے گی کہ طاقت ہمیشہ اپنے مفاد کے گرد گھومتی ہے اور انصاف اکثر اس کے پیچھے کہیں دب کر رہ جاتا ہے اور جو قومیں اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہیں وہ اپنے فیصلے خود کرنے لگتی ہیں اور جو نہیں سمجھتیں وہ دوسروں کے فیصلوں کا بوجھ اٹھاتی رہتی ہیں بندن میاں کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آتی ہے جیسے وہ سب کچھ سمجھ کر بھی خاموش رہنے کا ہنر جانتا ہو کیونکہ بعض اوقات سچ بولنے سے زیادہ ضروری سچ کو سمجھنا ہوتا ہے اور آج اس کی بیٹھک میں یہی سچ گونج رہا ہے یہی حقیقت سانس لے رہی ہے اور یہی پیغام ہے کہ دنیا کو نعروں سے نہیں شعور سے سمجھو کیونکہ شعور ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے اور جو اس چراغ کو بجھا دیتا ہے وہ خود بھی اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔




