مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ہائی آکٹین اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہائی آکٹین کو “اشرافیہ کا آئل” قرار دے کر اس پر تقریباً 300 روپے فی لیٹر لیوی عائد کی، جس کے بعد اس کی قیمت 534 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
مزمل اسلم کے مطابق یہ مؤقف یک طرفہ ہے کیونکہ اسی فیصلے کے ساتھ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو عام اور کم آمدنی والے طبقے کی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیروسین آئل کی قیمت میں 248 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 430 روپے تک پہنچا دیا گیا، جس سے غریب صارفین پر براہ راست بوجھ پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اندازے کے مطابق ہائی آکٹین پر لیوی سے تقریباً 9 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، تاہم عملی طور پر صارفین کی بڑی تعداد مہنگے ایندھن سے سستے متبادل کی طرف منتقل ہو جائے گی، جس سے مقررہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
مشیر خزانہ نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ چاند رات کے موقع پر پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کو عوام کے لیے ریلیف قرار دیا گیا، مگر چند ہی دن بعد دیگر پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ عوامی توقعات کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے فیصلے عوامی اعتماد پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور پالیسی سازی میں توازن کی ضرورت ہے۔





