اپریل 18, 2026

کیا شوشل میڈیا کا ہر اینکر صحافی ھے؟؟؟

تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

صحافت ایک انتہائی ذمہدار پروفیشنل ھے، آج سے آزاد نجی سٹلائٹ سے قبل پرنٹ میڈیا یا پھر الیکٹرونک میڈیا میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان ھوتے تھے جہاں مطلوبہ تعلیمی قابلیت کیساتھ ساتھ صحافتی اصولوں اور ٹینکس کو بہتر بنانے کیلئے مختلف ورکشاپ کرائے جاتے تھے اکثر ورکشاپ خود حکومت وقت بیرون ملک سے بھی کراتی تھی تاکہ ملازمین بہتر امور سے ماہرانہ انداز میں اپنی خدمات پیش کرسکیں۔ پھر وہ دور آیا جب سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل سید پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں جہاں کئی نئے ادارے ریاست کو بہتری کی جانب گامزن کیلئے بنائے وہیں میڈیا کو انڈسٹری کا درجہ دیتے ہوئے اس کیلئے اخلاقی قانونی اور آئینی جائز حدود میں رہنے کیلئے ایک اتھارٹی تشکیل دی جس کا کام نئے لائسنس کا اجراء، ملازمین کے مشاہروں اور روزگار کا تحفظ بھی شامل تھا یوں تو بیشمار شرائط ہیں اس وقت میرے عنوان کا یہ موضوع نہیں بحرحال پوچھنے کا مقصد یہ ھے کہ جب پیمرا تشکیل ھوا تو نجی چینلز نے اپنی تقرریوں میں شعبہ نیوز کیلئے ماہرین صحافت کو منتخب کیا اور انکی سرپرستی دیکھ بھال جانچ پڑتال کیساتھ ٹیمیں مرتب کی جاتی ہیں ہر ٹیم اپنے اپنے احاطہ میں رہ کر اپنے امور کو مکمل شفافیت اور ذمہداری کیساتھ پیش کرتا چلا آرھا ھے لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ شوشل میڈیا نے عام عوام کو لالچ دیکر ہر ایک کو جعلی صحافی بناتے ہوئے صحافتی دنیا کو داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پہلے پہل نجی سٹلائٹ چینلز نے اپنے اپنے شوشل اکاؤنٹ بنا ڈالے جس سے لاکھوں کڑوروں نہیں بلکہ اربوں رقم کمانا شروع کردیا اور حکومت کی آنکھوں کو دھول پھینکتے رہے جو تاحال سلسلہ جاری ھے حکومت کے سامنے نقصان ظاہر کرتے ہوئے کبھی اپنی ملازمین کو خارج کرتے ہیں تو کبھی تنخواہ میں کمی اور مراعات چھین لیتے ہیں ان میڈیا مالکان کو خبر ھے کہ حکومت اور پیمرا کو بلیک میل کرنا کوئی مشکل کام نہیں سو یہ کررھے ہیں اور کرتے رہینگے۔ دوسرا یہ کہ جب عوام نے ان سٹلائٹ چینلز کے شوشل اکاؤنٹس کو دیکھا مطالعہ کیا تو انکے یوٹیوب، فیس بک، ٹیوٹر، اسکائپ، انسٹاگرام، ٹک ٹاک سمیت دیگر اکاؤنٹس پر ناظرین کی تعداد کڑوروں میں ہیں جس پر بیرون و اندرون ملک کے اشتہارات کی مد میں بھی اربوں کی کمائی دیکھی گئی پھر کیا ہونا تھا ایک عام شہری بلکہ گاؤں دیہات کا رہنے والا جاننے لگا کہ اس فلیٹ فارم سے لکھ پتی نہیں بلکہ کڑور پتی بن سکتے ہیں آج پاکستان میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے ہیں جو مالدار سیٹھ بن چکے ہیں۔ لیکن زیادہ تر تعداد ہزاروں کمانے والوں کی ھے اب یہ عوام یعنی شوشل ایکٹیویٹ خود کو صحافی کہلواتے ہیں انہی لوگوں کی کثیر تعداد اداروں لوگوں کو بلیک میل کرکے اپنے منفی مزموم عظام پورے کرتے ہیں اور معاشرے میں پروفیشنل صحافی اور صحافت انکے بد نما کردار اور بدکاریوں کے سبب پروفیشنل صحافی اور صحافت پر براہ راست متاثر ھورہے ہیں، یہ شوشل میڈیا کے کارکنان نہ تو یوجیز اور پریس کلبز کے ممبر ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی مستند تنظیم گروہ کی سرپرستی میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ جو اصل پروفیشنل صحافی ہیں وہ شوشل میڈیا میں اپنی پروفیشنل ازم اور ذمہدارانہ امور کو اسی طرح قائم و دائم رکھتے ہیں جس طرح وہ اپنے سٹلائٹ چینلز یا اخبارات میں اپنی ذمہداریاں پیش کرتے ہیں۔ میں حکومت پاکستان پیمرا اور چیف جسٹس صاحبان سے یہی استدعا اور درخواست کرتا ھوں کہ ان جعل ساز شوشل میڈیا ایکٹیویٹ پر حدود قانون بنایا جائے اور انہیں خود کو صحافی کہلوانے اور صحافت سے جوڑنے کو قانوناً جرم ٹہرایا جائے تاکہ صحافی برادری کی تشویش اور صحافتی میدان کو ان جیسے جعل سازوں سے پاک رکھا جاسکے، اس بابت صحافتی تنظیموں گروہ گروپس اور کلبز کو بھی اپنے اپنے پلیٹ فارم سے وضاحتی پیغام جاری کرنا چاہئے تاکہ عام عوام حقیقت سے آشنا ہوسکیں اور جعل سازوں کو پہچانے میں مدد مل سکے۔۔۔۔!!