تحریر:محمد انور بھٹی
ایک زمانہ تھا جب دنیا کی تقدیر سمندروں کے لہروں کے ساتھ لکھی جاتی تھی اس زمانے میں ترکوں کی سلطنت نے بحری طاقت کے ذریعے عالمی قوت حاصل کی تھی نہ صرف یورپ بلکہ ایشیا اور افریقہ کے ساحلوں میں بھی ان کے پرچم لہراتے تھے عثمانی سلطنت کی قوت کا راز اس کی مضبوط بحریہ تھی اس نے سمندر کو نہ صرف فوجی میدان بلکہ تجارت اور ثقافتی رابطوں کے لیے بھی استعمال کیا تھا جب ایک قوم سمندر پر غالب ہوتی ہے تو وہ نہ صرف فوجی برتری حاصل کرتی ہے بلکہ تجارتی روابط کو محفوظ بناتی ہے اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہوتی ہے اور دنیا کے اہم راستوں پر اپنا کنٹرول قائم کرتی ہے عثمانیوں کی بحریہ نے انہیں ان تمام میدانوں میں برتری دی تھی جو کسی بھی عظیم سلطنت کے لیے لازمی سمجھی جاتی ہیں لیکن تاریخ نے یہ بھی سکھایا ہے کہ جب بحری طاقت کمزور پڑتی ہے تو سلطنتیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں عثمانیوں کے لیے بھی یہی ہوا ان کی بحری قوت کمزور پڑی اور یورپی طاقتوں نے جلد ہی اس خلا کو پر کر لیا ترقی اور زوال کے راستے ہمیشہ سیدھے نہیں ہوتے تاریخ میں کئی عظیم سلطنتیں تھیں جنہوں نے وقت کے ساتھ اپنی طاقت کھو دی جس کی بنیادی وجہ ان کی طاقت کے مرکز کا متزلزل ہو جانا تھا عثمانی سلطنت کے زوال کے اسباب میں بحری طاقت کی کمی کے علاوہ اقتصادی بحران سیاسی انتشار اور داخلی خلفشار بھی تھے مگر بحری طاقت کی کمی سب سے واضح علامت تھی جس نے ان کا زوال شروع کیا اور یہی وہ لمحہ ہے جس سے آج کی دنیا نے سبق لینا ضروری کر لیا ہے اسی طرح آج امریکہ دنیا کی سپر پاور کے طور پر پہچانا جاتا ہے مگر اس کی طاقت بھی کئی دہائیوں کے بعد تنہائی اور چیلنجز کا شکار نظر آتی ہے امریکہ کی فوج دنیا کی سب سے بڑی ہے اور اس کی معیشت عالمی معیشتوں میں سرفہرست ہے مگر طاقت صرف فوجی اعداد شمار تک محدود نہیں ہوتی طاقت وہ ہوتی ہے جو اپنے اتحادی نظام کو مضبوط رکھے معاشی استحکام کو برقرار رکھے سیاسی اتحاد کو قائم رکھے اور بین الاقوامی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کا تسلسل برقرار رکھے۔آبنائے ہرمز دنیا کے چند سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے وہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل گزرتا ہے اور عالمی معیشت اسی توانائی کے گرد گھومتی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھی تو آبنائے ہرمز کا معاملہ عالمی میڈیا کا موضوع بن گیا اس سارے معاملے میں امریکہ کے فوجی اور بحری اقدامات کا جو منظرنامہ سامنے آیا اس نے عالمی سطح پر امریکہ کی بحری طاقت کے بارے میں سوالات اٹھا دیے امریکہ اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی بحریہ رکھتا ہے مگر اس بحریہ کو حساس سمندری راستوں پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے یہی وہ نقطہ ہے جہاں تاریخی مثال واضح ہوتی ہے عثمانیوں کی طرح امریکہ کو بھی عالمی سطح پر اپنے بحری تسلط کو برقرار رکھنا ہوگا کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کر سکا تو اس کے عالمی اثر و رسوخ میں کمی آ سکتی ہے امریکہ کو اب اس حقیقت کا ادراک ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ اسے عالمی سیاست میں اپنے اتحادیوں کے تعاون کے بغیر بعض بڑے فیصلوں میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
تاریخ کئی عظیم طاقتوں کی داستانیں سناتی ہے ان میں سے ہر ایک نے اپنے آغاز میں مضبوط بحریہ مستحکم معیشت اور سیاسی یکجہتی کو اپنی برتری کا راز بنایا تھا مگر جب یہ عناصر کمزور پڑتے گئے تو ان سلطنتوں کی بنیادیں ڈگمگا گئیں اگر ہم اس منظرنامے کو آج کے عالمی سیاسی نظام پر لگائیں تو ہمیں ایک پیچیدہ مگر قابل فہم حقیقت نظر آتی ہے امریکہ کی عالمی پوزیشن مضبوط ہے لیکن وہ بھی داخلی تناؤ اقتصادی چیلنجز اور فوجی و بحری مسائل کا سامنا کر رہا ہے جو مستقبل میں اس کی عالمی پوزیشن پر اثرانداز ہو سکتے ہیں امریکہ کا شمار آج دنیا کے سب سے بڑے تجارتی ممالک میں ہوتا ہے لیکن تجارتی توازن بجلی و توانائی کے بحران عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی اقتصادی مسابقت اسے چیلنج کر رہی ہے چین روس یورپی یونین جیسے طاقتور بلاکس عالمی تجارت و سیاسی اثر میں اپنا حصہ بڑھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب تنہائی کا شکار ہو چکا ہے اسے اپنی عالمی حکمت عملی میں خود مختاری کے ساتھ اتحادیوں اور دیگر طاقتور ممالک کے درمیان توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے۔امریکہ کی موجودہ تنہائی صرف ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ عالمی معیشت اور فوجی اتحادوں کی نوعیت میں تبدیلی کا بھی ثبوت ہے اب وہ اپنے بعض روایتی اتحادیوں کے ساتھ بھی بے یقینی کے شکار نظر آتا ہے اس کی خارجہ پالیسیاں گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں شدید تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہیں جس کی وجہ سے اس کے اتحادی اس کی پشت پر کم اعتماد محسوس کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ کو ایسے حالات کا سامنا ہے جس میں اسے خود اپنی طاقت، اپنے اتحاد اور اپنے اثر کے لیے مسلسل جتن کرنا پڑ رہا ہے امریکہ نے طویل عرصے سے نیٹو جیسا فوجی اتحاد برقرار رکھا ہے لیکن جب اتحاد کے اندر اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو وہ بھی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں علاوہ ازیں امریکہ کو کئی خطوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے چیلنجز بھی درپیش ہیں خاص طور پر مشرق وسطی بحر ہند و بحر ارضیہ کے خطوں میں جہاں عالمی طاقتوں کے مابین مفادات مختلف ہیں اور یہی پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی حالات امریکہ کی تنہائی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔بحری طاقت کی اہمیت صرف فوجی قابو تک محدود نہیں ہے بلکہ اقتصادی تجارتی اور سیاسی اثر و رسوخ کے لیے بھی بحری راستوں پر تسلط ضروری ہے تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ دنیا کی تجارت سمندر کے راستوں کے ذریعے ہوتی ہے کسی بھی طاقت کو اگر سمندروں پر اپنا تسلط برقرار نہیں رکھنا ہوتا تو وہ عالمی تجارت میں حصہ نہیں لے سکتی وہ اپنے سیاسی مفادات کو محفوظ نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی عالمی سطح پر اپنا اثر بڑھا سکتی ہے عثمانیوں نے جب اپنی بحری قوت کھو دی تو وہ افریقہ کے ساحلوں سے یورپ کی تجارت پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے اور یورپی طاقتوں نے تجارتی راستوں اور نوآبادیاتی علاقوں پر قبضہ کر لیا اسی طرح امریکہ کو بھی بحری صلاحیت کو برقرار رکھنے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھنے ہوں گے تاکہ وہ تنہائی میں مزید محدود نہ ہو
آج عالمی سیاست میں امریکہ کو نہ صرف اقتصادی اور فوجی چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ عالمی تعلقات میں اس کی پوزیشن کمزور پڑ رہی ہے اس کی تنہائی اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اب وہ اکیلا ہے اسے اپنے اتحادیوں کے تعاون اور عالمی مفادات کے تحفظ کے لیے مستقل کوششیں کرنی ہوں گی امریکہ کا عالمی اثر و رسوخ اگر تنہائی کے سبب کمزور ہوا تو نہ صرف اس کی فوجی طاقت بلکہ اقتصادی اور سیاسی قوت بھی متاثر ہوگی اس کے عالمی فیصلے متاثر ہوں گے اور اس کی سپر پاور کے کردار میں کمی واقع ہوگی امریکہ کی تنہائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں جیسے چین اور روس عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں اور امریکہ کو عالمی سیاست میں ہر فیصلے کے لیے خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ محتاط بھی رہنا پڑ رہا ہے۔چین نے اپنی اقتصادی اور فوجی طاقت کے ذریعے عالمی سطح پر نئی پوزیشن حاصل کی ہے اس نے سمندروں میں اپنی موجودگی کو بڑھایا ہے اپنے بیلسٹک میزائل جدید جنگی جہاز زیر آب بیڑے اور بحری اڈے قائم کیے ہیں اور عالمی تجارت میں اپنے مفادات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے چین نے اپنی معاشی طاقت کو سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں ایک طرف بی آر آئی جیسے منصوبوں کے ذریعے اپنی اقتصادی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے اور دوسری طرف جنوبی چین کے سمندر پر اپنے دعووں کے ذریعے عالمی بحری راستوں میں اثر و رسوخ بڑھایا ہے روس بھی اپنے فوجی اثر و رسوخ کے ذریعے امریکہ کے عالمی موقف کو چیلنج کر رہا ہے۔یورپی یونین اقتصادی اور سیاسی سطح پر امریکہ کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے امریکہ کی اس تنہائی اور بڑھتے ہوئے چیلنجز کی وجہ سے اسے اپنی عالمی حکمت عملی مسلسل نظر ثانی کرنی پڑ رہی ہے۔تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سپر پاور وہ نہیں ہوتی جس کے پاس محض فوجی طاقت ہو بلکہ وہ طاقتور ہوتی ہے جو اپنی اقتصادی سیاسی اور ثقافتی طاقت کو عالمی سطح پر برقرار رکھ سکے عثمانیوں کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر بحری طاقت کمزور ہو جائے تو سلطنت زوال پذیر ہو جاتی ہے امریکہ کو بھی اپنی بحری طاقت اقتصادی توازن سیاسی اثر و رسوخ اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط رکھنا ہوگا تاکہ وہ اپنی سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھ سکے اور تنہائی کے اس نئے عالمی منظرنامے میں اپنی پوزیشن قائم رکھ سکے۔لہذا امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اتحادی نظام کو مضبوط کرے بحری طاقت میں اضافہ کرے عالمی تجارت میں اپنا اثر بڑھائے اقتصادی توازن قائم رکھے سیاسی اتحاد کو مستحکم کرے اور دنیا کی جدید حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرے تاکہ وہ تنہائی کے اس دور میں بھی سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھ سکے تاریخ کے سبق سے سیکھتے ہوئے امریکہ کو تمام داخلی اور خارجی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اپنی عالمی طاقت کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔




