اپریل 17, 2026

ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کا منصوبہ: عالمی تجارت کے لیے نیا چیلنج

تہران: ایران نے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ‘ٹرانزٹ فیس’ اور ‘ٹول ٹیکس’ عائد کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اقدام کا مقصد اس اسٹریٹجک شاہراہ پر اپنے کنٹرول کو معاشی فائدے اور سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا ہے۔

​ایرانی پارلیمان میں زیرِ غور ایک نئے بل کے تحت، اس گزرگاہ سے گزرنے والے تمام ممالک کے تجارتی جہازوں، چاہے وہ توانائی (تیل و گیس) لے جا رہے ہوں یا خوراک، انہیں ایران کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر، محمد مخبر کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے ایک بالکل نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

​اس نئے نظام کے تحت ایران ان ممالک کے جہازوں پر سمندری پابندیاں بھی عائد کر سکے گا جنہوں نے ماضی میں ایران پر معاشی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ محمد مخبر کے مطابق، ایران اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے جہازوں کا راستہ بھی روک سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران پہلے ہی ان جہازوں کی نقل و حرکت متاثر کر چکا ہے جنہیں وہ اپنے مخالفین سے منسلک سمجھتا ہے