اپریل 17, 2026

ڈنگہ اور ڈنگہ کا مستقبل ؟

تحریر: شیخ توصیف رستم

جب کبھی ہم کسی دوسرے شہر میں مہمان بن کر جاتے اور اپنا تعارف کرواتے تو لوگ ہمارے شہر کا نام سن کر مسکرا دیتے۔ بعض اوقات ہنستے ہوئے کہتے:
“کیا واقعی آپ کے شہر کا نام بھی ڈنگہ ہے اور وہاں کے لوگ بھی ڈنگے ہیں؟”

ہم بھی مسکرا کر جواب دیتے اور فخر سے کہتے کہ کبھی ہمارے شہر کا وزٹ کیجیے، آپ خود دیکھیں گے کہ ڈنگہ صرف نام ہی نہیں بلکہ ایک زندہ دل اور کاروباری شہر ہے۔

مگر افسوس، آج ہم کسی کو اپنے شہر آنے کی دعوت دینے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔ کیونکہ آج کا ڈنگہ وہ ڈنگہ نہیں رہا جو کبھی رونقوں، تجارت اور زندگی سے بھرپور تھا۔ آج شہر کی حالت کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی ہے، جبکہ معاشی صورتحال اس سے بھی زیادہ نازک ہو چکی ہے۔

صرف ایک سال پہلے تک ہم ڈنگہ کو کاروباری اعتبار سے ایک خوشحال شہر سمجھتے تھے، مگر ناجائز تجاوزات کے خلاف شروع ہونے والا آپریشن ڈنگہ کی معاشی شہ رگ پر ایسا وار ثابت ہوا جس نے ہزاروں لوگوں کے روزگار کو متاثر کر دیا۔

ہم ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، جو اپنے شہریوں کا سہارا بنتی ہے۔ لیکن ڈنگہ کے تاجروں اور شہریوں کے لیے یہی ریاستی اقدامات ایک ڈراؤنے خواب کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

تھانہ روڈ جو کبھی ڈنگہ کا اہم کاروباری مرکز بن چکا تھا، آج سینکڑوں تاجروں کو مالی مشکلات اور دیوالیہ پن کے دہانے پر لے آیا ہے۔

انجمن تاجران کی نااتفاقی اور سیاسی قیادت کی مسلسل خاموشی نے ڈنگہ کو ترقی کے راستے سے ہٹا کر کم از کم دس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔

آج سینکڑوں دکاندار روزانہ ایسی کیفیت سے گزر رہے ہیں جیسے زندگی اور موت کی کشمکش ہو۔ ایک طرف کرایہ دار مالکان کا دباؤ ہے تو دوسری جانب بلدیہ کے بعض افسران قانون کے نام پر ایسی سختیاں کر رہے ہیں جو تاجروں کے لیے مسلسل آزمائش بنی ہوئی ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک کلومیٹر سے بھی کم رقبے پر مشتمل سڑک کی تعمیر کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر حکومتی مشینری اور ٹھیکیدار اکثر غائب دکھائی دیتے ہیں۔ کام کے نام پر عوام کو صرف تسلیاں دی جا رہی ہیں اور تعمیراتی عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
کیا ہمارے سیاست دان واقعی نئے اور نا تجربہ کار ہیں؟
یا پھر وہ اس قدر سست ہیں کہ عوامی مسائل ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں؟
یا پھر انہیں عوام کے ووٹ اور مشکلات سے کوئی سروکار ہی نہیں؟

یہ تمام سوالات آج ڈنگہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنے کھڑے ہیں۔

کیا ڈنگہ کے عوام مزید یہ صورتحال برداشت کریں گے؟
کیا شہری اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے؟
کیا تاجر برادری متحد ہو کر “ساڈا حق ایتھے رکھ” کا نعرہ بلند کرے گی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہی ڈنگہ کے آنے والے کل کا تعین کریں گے۔