پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات میں اگرچہ کوئی جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق ضرور ہوا ہے۔
یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں منعقد ہوئے، جو قطر، ترکیے اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کا تسلسل تھے۔ ان اجلاسوں کا مقصد اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
رائٹرز کے مطابق دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی اب تک بڑی حد تک برقرار ہے، مگر گزشتہ ماہ استنبول میں ہونے والے فالو اپ مذاکرات بھی کسی طویل مدتی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ حالیہ مذاکرات بھی سعودی عرب کی ایک پیشکش کے تحت منعقد کیے گئے۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں پاک—افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی۔ پاکستان کا یہ مؤقف ہے کہ افغان طالبان تحریری طور پر یقین دہانی کرائیں کہ وہ پاکستان مخالف مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کریں گے، تاہم طالبان حکام اس مطالبے پر آمادہ نہیں۔





