نومبر 6, 2026

زندگی ،جدوجہد، یقین اور روشنی کا وہ سفر جو رکتا نہیں

تحریر: محمد انور بھٹی

زندگی یہی وہ لفظ ہے جس کے اندر پوری کائنات کی حرکت، ہر دھڑکتے دل کی امید، ہر آنکھ کا خواب، ہر آنسو کی کہانی، ہر دعا کی لرزش اور ہر انسان کے مقامِ سفر کا راز پوشیدہ ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کوئی نقشہ نہیں ہوتا، کوئی رہنمائی نہیں ہوتی، کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ راستہ ہموار ملے گا، پہاڑ نرم ہوں گے، ہوائیں موافق چلیں گی یا قسمت ہر قدم پر مسکراتی رہے گی۔ مگر اس کے باوجود، یہ زندگی اپنی تمام تر تلخیوں، الجھنوں، تکلیفوں اور رکاوٹوں کے باوجود بھی کائنات کی سب سے حسین حقیقت ہے، کیونکہ یہ وہ نعمت ہے جس کے ذریعے انسان کو جدوجہد کا موقع ملتا ہے، بڑھنے کا موقع ملتا ہے، اپنے وجود کی قیمت پہچاننے کا موقع ملتا ہے، اور اپنے اندر چھپے اس چراغ کو روشن کرنے کا موقع ملتا ہے جو اندھیری راتوں میں راستہ دکھاتا ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کے سائے یا قد سے نہیں بلکہ اس کی ہمت، اس کے صبر، اس کی استقامت اور اس کی لگن سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہےاپنے مقصد میں کامیابی تک ہمت مت ہارو اور نہ ہی ٹھہرو، کیونکہ پہاڑ سے نکلنے والی نہروں نے آج تک راستے میں کسی سے نہیں پوچھا کہ سمندر کتنی دور ہے۔
یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں، بلکہ زندگی کا خلاصہ ہے، ایک فلسفہ ہے، ایک اصول ہے کہ منزل چاہے جتنی بھی مشکل ہو، راستہ جتنا بھی طویل ہو، رکاوٹیں کتنی بھی سخت ہوں، مگر وہی لوگ جیتتے ہیں جو رکتے نہیں، جو بہاؤ کے ساتھ نہیں بہتے بلکہ اپنا بہاؤ خود بناتے ہیں جو راستوں کا انتظار نہیں کرتے بلکہ راستے تراشتے ہیں۔
پہاڑ سے نکلنے والی ایک ننھی سی نہرجس کے آگے چٹانیں کھڑی ہیں، پتھر بکھرے ہیں، اونچے نیچے موڑ ہیں، تنگ راستے ہیں، گھاٹیاں ہیں، بند گلیاں ہیں، مگر پھر بھی وہ نہر رکتی نہیں۔ وہ کسی سے سوال نہیں کرتی کچھ مطالبہ نہیں کرتی کسی کے سامنے التجا نہیں کرتی کہ اے راستو میرے لئے آسان ہو جاؤ اے پتھرو میرے لئے ہٹ جاؤ۔ نہیں وہ اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ کبھی چٹانوں کو کاٹتی ہے، کبھی پتھروں کو روندتی ہے، کبھی رستہ موڑ لیتی ہے، کبھی خاموشی سے بہہ کر مشکل کو عبور کرتی ہے مگر اس کی منزل ایک ہی ہے اس کا خواب ایک ہی ہےسمندر
انسان کا سفر بھی اسی نہر کی طرح ہے۔ اگر انسان اپنے مقصد کے سامنے پہاڑ جیسی مشکلات دیکھ کر رک جائے تو پھر وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔ کامیابی اس کے قدم چومتی ہے جو قدم روکتا نہیں، جو تھکتا ضرور ہے مگر ہارتا نہیں، جو گرتا ضرور ہے مگر دوبارہ اٹھتا ہےاور جو ہر آزمائش میں اللہ کا سہارا لے کر آگے بڑھتا ہے۔
ہماری زندگی میں تلخیاں بھی ہیں، آزمائشیں بھی ہیں، زخم بھی ہیں اور دکھوں کے پہاڑ بھی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی تلخیوں نے ہمیں مضبوط بنایا، انہی آزمائشوں نے ہمیں انسان بنایا، انہی زخموں نے ہمیں نرم دل بنایااور انہی مشکلات نے ہمیں اللہ کی طرف جھکنا سکھایا۔ اگر زندگی ہمیشہ آسان ہوتی، تو انسان کبھی کامل نہ ہوتا، اس کی روح کبھی پختہ نہ ہوتی اور اس کی شخصیت کبھی مضبوط نہ ہوتی۔
زندگی کی خوبصورتی اسی جدوجہد میں ہے، اسی سفر میں ہے، اسی تلاش میں ہے، اسی تڑپ میں ہے، اسی درد میں ہے، اسی دعا میں ہے، اسی امید میں ہے کہ شاید اگلا قدم بدل جائے، شاید اگلا لمحہ روشن ہو جائے، شاید اگلی صبح کوئی نئی راحت لے آئے۔
یہ حقیقت تو اٹل ہے کہ زندگی تلخ ضرور ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی تلخی کے اندر میٹھاس کا ایک ایسا خزانہ چھپا ہے جو صرف انہیں ملتا ہے جو صبر کرتے ہیں، جو کوشش کرتے ہیں، جو اللہ سے دل لگا کر بیٹھتے نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ کرکے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ہر انسان کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب دل ٹوٹ جاتا ہے، امید بجھ جاتی ہے، راستے دھندلا جاتے ہیں، حالات کڑے ہو جاتے ہیں، اور انسان احساسِ تنہائی میں ڈوب جاتا ہے۔ مگر وہ لمحہ ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ اسی ایک پل میں فیصلہ ہوتا ہے کہ انسان مایوسی کے بوجھ تلے دب جائے گایا وہ اپنے باطن کے چراغ کو روشن کرکے اندھیروں سے نکل جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کبھی بھی بے سہارا نہیں چھوڑا۔ اس نے ہر دل میں امید کا ایک چراغ رکھا ہے اور ہر مشکل کے ساتھ آسانی رکھی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اکثر مشکل کو دیکھتے ہیں، آسانی کو نہیں؛ اندھیرے کو دیکھتے ہیں روشنی کو نہیں؛ رکاوٹوں کو دیکھتے ہیں راستوں کو نہیں؛ اور اپنی کمزوریوں کو دیکھتے ہیں قوتوں کو نہیں۔
اسی لیے دعا کی جاتی ہےاللہ تعالیٰ ہمیں ہر آزمائش پر قابو پانے اور منزل کو فتح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ دعا صرف ایک درخواست نہیں، بلکہ اپنے رب کے سامنے یہ اعلان ہے کہ ہم تھک تو سکتے ہیں، مگر رکیں گے نہیں ہم پریشان تو ہو سکتے ہیں مگر ہاریں گے نہیں ہم گِر تو سکتے ہیں، مگر دوبارہ کھڑے ہونے سے انکار نہیں کریں گے۔
زندگی کی خوبصورتی اس کے رنگوں میں نہیں، بلکہ اس کے سفر میں ہے۔ اس کے اندر وہ جادو ہے جو انسان کو ہر لمحہ کچھ نیا سکھاتا ہے۔ کبھی خوشی دیتی ہے، کبھی غم دیتی ہے، کبھی دوستی دیتی ہے، کبھی تنہائی دیتی ہے، کبھی کامیابی دیتی ہے، کبھی شکست دیتی ہے، مگر ہر صورت میں انسان کو آگے بڑھنے کا سبق دیتی ہے۔
اگرانسان بیٹھ جائے، رنج میں ڈوب کر خود کو چھوڑ دے، تو زندگی کی ساری رونق اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔ مگر جو شخص ہر صبح نئے عزم کے ساتھ آنکھ کھولے، ہر رات امید کے ساتھ سوئے، وہی اصل زندہ انسان ہے۔
زندگی ہمیں روز یہ پیغام دیتی ہے کہ،اگر راستہ دشوار ہے تو منزل قیمتی ہے،اگر رکاوٹیں زیادہ ہیں تو مقصد بلند ہے،اگر آزمائشیں سخت ہیں تو انسان کا مقام اونچا ہے،اگر اللہ آزماتا ہے تو نوازنے کے لیے آزماتا ہے۔
دنیا کا ہر عظیم انسان کسی نہ کسی پہاڑ سے نکلتی ہوئی نہر کی طرح اپنے سفر میں مشکلات سے گزرا ہے۔ کوئی بھی کامیابی سستی نہیں ملی، کوئی بھی منزل بغیر جدوجہد کے نہیں ملی، کوئی بھی خواب بغیر قربانی کے پورا نہیں ہوا۔زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر خوبصورت ہمیشہ رہتی ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی طرف سے دیا ہوا وہ تحفہ ہے جس میں ہر لمحے نئی کہانیاں، نئے اسباق، نئی آزمائشیں اور نئی خوشیاں چھپی ہوتی ہیں۔
انسان جب اپنے مقصد کے لیے چل پڑے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ کیونکہ ارادہ جب اللہ پر چھوڑ دیا جائے، اور کوشش انسان خود کرے، تو پھر سمندر خود راستے کھول دیتا ہے۔ایسے میں انسان کو صرف ایک بات یاد رکھنی چاہیے: رکنا نہیں، مایوس نہیں ہونا، ٹوٹنا نہیں، گر کر بیٹھ جانا نہیں۔ بلکہ پہاڑ کی نہر کی طرح بہتے رہنا ہے، ہر مشکل کا مقابلہ کرنا ہے، ہر چٹان کو کاٹنا ہے، ہر رکاوٹ کو پار کرنا ہے، اور یقین رکھنا ہے کہ اللہ کے ہاں دیر ضرور ہے، اندھیرا ضرور ہے، مگر ناامیدی نہیں ہے۔
جو لوگ یا تو موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں، یا پھر مشکلات انہیں مجبور کر دیتی ہیں، وہ ہمیشہ راستے میں رہ جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ موقع خود پیدا کرتے ہیں، وہی منزل کا ذائقہ چکھتے ہیں۔
زندگی کی خوبصورتی اسی جدوجہد میں ہے کہ انسان اپنی منزل کی تلاش میں کبھی تھکتا نہیں، کبھی رکتا نہیں اورکبھی مایوس نہیں ہوتا اسے معلوم ہے کہ آج اگر رات ہے تو کل صبح ضرور آئے گی، آج اگر درد ہے تو کل سکون ضرور آئے گا، آج اگر آزمائش ہے تو کل آسانی ضرور آئے گی۔زندگی وہ تحفہ ہے جو تب حسین بنتی ہے جب انسان اس میں ہمت کا رنگ گھول دے، صبر کی خوشبو شامل کر دے، یقین کا چراغ جلا دے، دعا کا سہارا لے لے، اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کر لے۔
آخر میں یہی حقیقت ہے کہ زندگی، اپنی تمام تر تلخیوں کے باوجود بھی، اللہ کا سب سے خوبصورت انعام ہے۔ جو اس نعمت کو شکر، صبر اور جدوجہد کے ساتھ گزار لے، وہی کامیاب ہے، وہی سرخرو ہے، وہی روشنی کا مسافر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کے ہر امتحان میں سرخرو کرے، مشکل کے مقابلے میں ثابت قدم رکھے، راستوں کو روشن کرے، عزت کی منزل تک پہنچائے، اور ہمارے قدموں کو بھٹکنے نہ دے۔ آمین یا ربّ العالمین۔