نومبر 6, 2026

اسرائیل کا یہودی آبادی بڑھانے کیلئے بھارت کے بنی میناشے قبیلے کو منتقل کرنے کا منصوبہ منظور

تل ابیب میں اسرائیل نے یہودی آبادکاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے بھارت میں آباد بنی میناشے قبیلے کو اسرائیل منتقل کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ابتدائی مرحلے میں قبیلے کے 1200 افراد کو 2026 میں منتقل کیا جائے گا، جبکہ مزید 6 ہزار افراد کو 2030 تک اسرائیل میں آباد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس وقت بھی بھارت سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5 ہزار بنی میناشے یہودی پہلے ہی اسرائیل میں رہائش پذیر ہیں۔

غیر ملکی رپورٹس کے مطابق یہ قبیلہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میزورام اور منی پور سے تعلق رکھتا ہے۔ حکومتِ اسرائیل انہیں لبنان اور شام کی سرحد کے قریب واقع شمالی علاقے گلیلے میں بسائے گی، جو گزشتہ برسوں میں حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے، اور جہاں سے ہزاروں مقامی شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس فیصلے کو "اہم اور صیہونی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے شمالی حصے کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔ رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ بھارتی حکومت کے تعاون اور شراکت سے ترتیب دیا گیا ہے۔

بھارت کے بنی میناشے کون ہیں؟
بنی میناشے قبیلہ خود کو بنی اسرائیل کے گمشدہ قبیلوں میں سے ایک—قبیلہ مناشے—کی نسل قرار دیتا ہے۔ یہ لوگ روایتی یہودی مذہبی رسومات پر عمل کرتے ہیں اور سکوت جیسے تہوار بھی مناتے ہیں۔ 2005 میں اسرائیل کے سفاردی چیف ربی نے انہیں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی نسل کے طور پر باضابطہ تسلیم کیا، جس کے بعد ان کی اسرائیل منتقلی کو سرکاری سطح پر اجازت مل گئی۔