اپریل 18, 2026

عربی کہانی سے منسوب چار بـیـویـاں۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

ہمارے ایک ہمدرد نے ہمیں ایک تحریر شیئر کی جو عربی کہانی سے منسوب ھے جسکا عنوان چار بیویاں ھے ٹائٹل دیکھ کر ہم سمجھے کہ وہ ہمیں چار شادیوں یعنی چار بیویوں کے رکھنے کی طرف رغبت دلا رھے ھیں جبکہ ھم ایک ہی بیوی سے خوش بھی ہیں اور مطمعین بھی کیونکہ وہ بہت خوب سیرت ھونے کیساتھ، سلیقہ مند، کرینہ شعار اور خدمت گزار بھی ھے۔ ھم ایک ہی پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر بجا لاتے ھیں خیر جب کہانی مکمل پڑھی تو ہمیں احساس ھوا کہ کہانی کے اندر کس قدر خوبصورت اور بہترین ہدایت و احساس اور بیداری شامل ھے۔ بیشک ھم غافل ہیں دنیا میں مست ھوچکے ہیں، حیات زندگی کا اصل مقصد و مقصود فراموش کر بیٹھے ھیں۔ ہمارے ہمدرد عربی کہانی کا اقتباس لکھتے ہیں کہ” ایک شخص کی چار بیویاں تھیں، چوتھی بیوی سے وہ بہت محبت کرتا تھا اور اس کو بنانے سنوارنے میں ہر وقت لگا رہتا تھا، تیسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا کیونکہ وہ بہت خوبصورت تھی جو اسے دیکھتا گرویدہ ہوجاتا اسی لئے اسکو یہ خوف لگا رہتا تھا کہ یہ کسی اور کی نہ ہوجائے اس لئے اسے چھپا چھپا کر رکھتا تھا، دوسری سے بھی اسے بہت محبت تھی اس لئے کہ وہ اسکی ساری پریشانیوں کا حل اسے بتاتی اور ہمیشہ اسکی مدد کرتی رہتی مگر پہلی سے وہ محبت نہیں کرتا تھا لیکن وہ اس سے بدستور محبت کرتی تھی اب ہوا یہ کہ ایک دن وہ شخص اتنا بیمار ہوا کہ مرنے کے قریب ہوگیا اس نے سوچا میرے پاس چار بیویاں ہیں کسی ایک کو تو مرتے ہوئے ساتھ لے جاؤں اس نے چوتھی بیوی سے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو میں نے تم پر اتنی توجہ دی اور اپنا مال بھی تم پر سب سے زیادہ خرچ کیا جواب میں اس نے صاف صاف انکار کردیا تیسری بیوی سے کہا تو اس نے جواب دیا کہ دنیا میں ابھی میرے چاہنے والے بہت ہیں میں کسی کی بھی ہو جاؤنگی، دوسری بیوی نے کہا کہ میں صرف قبر تک تو ساتھ آجاؤنگی مگر اس سے آگے میں نہیں آسکتی اب یہ بڑا پریشان ہوا اچانک پیچھے سے آواز آئی کہ میں تمہارے ساتھ قبر تک چلونگی اگرچہ تم نے کبھی میری طرف توجہ نہیں کی جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسکی پہلی بیوی تھی جو عدم توجہی اور غذا کی کمی کی وجہ سے بالکل کمزور ہوچکی تھی جسکے سبب قبر میں اس کے کسی کام کی نہ تھی اب یہ افسوس کرتا رہا کہ میں نے سمجھنے میں غلطی کی اگر میں اس پر توجہ دیتا تو آج یہ قبر میں میری اچھی رفیق اور ساتھی ہوتی۔۔۔۔معزز قارئین!! چوتھی بیوی سے مراد ہمارے اعضاء تھے جنکو بنانے سنوارنے میں تو ہم لگے رہتے ہیں مگر مرتے ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، تیسری بیوی سے مراد ہمارا مال و منال دولت جائیداد وغیرہ ھے کہ ساری زندگی لوگوں سے چھپا کر رکھا مگر مرنے کے بعد یہ دوسروں کے ہوجاتے ہیں، دوسری بیوی سے مراد ہمارے اہل و عیال رشتہ دار اور دوست احباب ہیں دنیا میں یہی لوگ ہمارے کام آتے ہمارے مسائل حل کرواتے ہم ان سے جتنی اور جیسی چاہیں مدد لیتے رہیں مگر یہ لوگ بھی زیادہ سے زیادہ قبر تک ہمارے ساتھ رہتے ہیں، پہلی بیوی سے مراد ہمارے اعمال ہیں جو قبر میں ساتھ جائیں گے لیکن ہم نے انکی طرف توجہ نہ دیکر قبر کے حقیقی دوست رفیق اور ساتھی سے مرحوم رہ جائیں گے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج کا کالم لکھنے کیلئے اس مضمون کا انتخاب اس لئے کیا کہ جسطرح وقت تیزی سے گزر رھا ھے دنیا کے موسمی و جغرافیائی حالات بہت تیزی سے تبدیل ھورہی ہیں اس تبدیلی کے سبب بیماریوں سے لے کر سیلاب و زلزلوں میں نہ صرف اضافہ دیکھا جارھا ھے بلکہ اموات کی شرح میں بے پناہ اضافے کی اطلاعات بھی ہیں، دنیاوی تبدیلیوں میں اجناس و خوراک کی کمی تو دوسری جانب بڑھتی غربت کے سبب جینا محال نظر آرھا ھے ان حالات میں دین محمدی ﷺ کی اصولوں کی پابندی اور سنت رسول ﷺ کی پیروی ہی ھم مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت ھے دعا ھے کہ اللہ ہمیں ایمان کی حالت میں موت عطا فرمائے اور دنیا کے بجائے آخرت کی تیاری اور اللہ و رسول ﷺ سے والہانہ عملاً سچی محبت کی سعادت نصیب فرمائے اور من حیث القوم سمیت امت مسلمہ بشمول پاکستانی حکمران، ججز، جنرلز، پارلیمینٹرین، علماء و مشائخ سمیت تمام سیاسی رہنماؤں اور بااختیار افسران کو شریعت پر با عمل اور کاربند رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک کو سود، زناکاری، شراب نوشی اور تمام حرام کاری سے پاک فرمادے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!