تحریر: پروفیسر مبشر اقبال
لوگوں کے اذہان کو تبدیل کرنے اور انہیں کنٹرول کرنے کے لیے مختلف قسم کی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں جس سے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کا طور پر موجودہ سیاق و سابق میں دیکھا جائےتو مغربی میڈیا اور دیگر ادارے مسلسل یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ پ و ٹ ن انتہائی غلط بندہ ہے، روسیوں کو نہیں کہیں گے کہ آپ غلط ہیں بلکہ یہ اکیلا غلط ہے، آپ بہت اچھے ہیں اور آپ کو ہماری مدد سے اس سے نجات پانے چاہیے! اچھا اس سے نجات پالی، اب؟ اب اگر بندہ ان کی پالیسی پر چلنے والا ہے تو سب اچھا ورنہ پھر اس نئے بندے کے خلاف شروع ہو جائے گے جب تک وہ بندہ نہیں آ جاتا جو ان کے فائدے کے لیے کام کرے! فریق مخالف بھی اسی طرح کاکام کریں گے!
اسی طرح کچھ طاقتیں اور کچھ ناسمجھ لوگ منافقت سے بھرے فرقہ پرست “مولوی” کے خلاف بہت کچھ لکھیں گے اور عوام کا اعتقاد ان سے اٹھائے جانے میں مصروف ہیں۔ ایک مولوی غلط ہے تو اس کا نام لے کر غلط نہیں کہیں گے بلکہ “مولوی” کو بطور ادارہ غلط ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں! اس سے جو انسان بھی اسلام یا مسلمانی کی بات کرے گا، اسے مولوی کہا جائے گا، اور مولوی سے نفرت کی جائے گی! اگر کوئی فرشتہ نما شخص بھی کوئی اسلام یا مسلمانی کی بات کرے گا تو اس کی بھی خیر نہیں ہو گی کیونکہ وہ بھی مولوی ہی ہو گا!
یہاں ایک ذاتی واقعہ بھی لکھے دیتا ہوں: میرے ساتھ میرا ایک دوست تھا اور ہماری ایک غیر مسلم بندے سے ملاقات ہوئی، وہ ہمارے ہاں کسی کام کی وجہ سے ایک مہمان کی حیثیت سے آیا تھا- ہم ایک ریسٹرنٹ کے پاس سے گزر رہے تھا کہ وہاں ایک بندہ جس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی، کام کر رہا تھا۔ یہ دوست اس غیر مسلم کو مخاطب ہوا اور کہتا ہے کہ دیکھیں یہ جو سامنے بندہ ہے، آپ کو پتا ہے یہ کون ہے؟ یہ مولوی ہے اور اس نے داڑھی اس لیے رکھی ہوئی کہ یہ لوگوں کو گمراہ کر سکے اور دھوکہ دے سکے۔میں اب اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور اس سے چپکے سے پوچھا کہ آپ اس جانتے ہو؟میرا گمان تھا کہ میرا دوست اس مزدوری کرنے والے مولوی کو ذاتی طور پر جانتا ہے اور اس لیے یہ اس مہمان کو آگاہ کر رہا ہے۔ مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب یہ کہتا ہے کہ میں تو اس کو نہیں جانتا، میں نے تو اسے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے، میں نے پوچھ پھر تم اس کی برائی کیوں کر رہے ہو! کہتا ہے نظر نہیں آ رہا وہ مولوی ہے! میں نے پوچھا پہلی بات تمہیں کیا پتا وہ مولوی ہے بھی کہ نہیں، صرف ویسے ہی داڑھی رکھی ہوئی ہو، اور اگر مولوی بھی ہو تو تم اس جانتے بھی نہیں اور اس کے خلاف ایک ایسے بندے کو بڑھکا رہے ہو جو اسلام کو یا مسلمانوں کا زیادہ جانتا بھی نہیں۔ اور جب تم “مولوی” کو بطور ادارہ ہی برا کہہ دیا تو اس بندے سے مستقبل میں اگر کوئی بھی مسلمان اسلام کی بات کرے یا اسلام کی دعوت ہی دے تو اس کے ذہن میں تو پہلے سے ہی یہ بات ہو گی کہ اسلام پڑھنے اور پڑھانے والے ہی برے ہیں تو مسلمان کہاں سے اچھے ہو سکتے ہیں! خیر اب اس کے پاس کوئی جواب نہ رہا اور جو نقصان یہ کر چکا تھا، اب واپس نہیں آ سکتا تھا!
اگر کوئی کسی خاص مولوی کا نام لے کر تنقید کرتا ہے تو اس کو دیکھا اور پرکھا جانا چاہیے، اور اگر کوئی فقط “مولوی” پر تنقید کر رہا ہے تو آپ کو اذہان کو کنٹرول کر کے آپ کو آپ کے “اصل” سے دور کرے گا اور باطل کا پیروکار بنا کے آپ کو بیحیثیت قوم نقصان پہنچائے گا! رہی یہ بات کہ مولوی کی تعلیم مدرسہ میں ہونی چاہیے یا یونیورسٹی میں، یا ان کے نصاب میں کیا شامل ہونا چاہیے اور کیا نہیں، یہ قابل بحث ٹاپک ہے اور مختلف ممالک میں مختلف چیزیں ہو سکتی ہیں۔




