اپریل 17, 2026

مملکت خدا داد پاکستان۔۔۔میرا وطن ، میرا فخر


تحریر: راجہ شہزاد احمد(کھاریاں)

تمام پاکستانیو ں کو 27 رمضان المبارک ، یوم تشکیل پاکستان مبارک ہو

مملکت خداداد پاکستان وہ واحد اسلامی مملکت ہے جو نسل پرستی یا زبان پرستی کی بجائے خالصتا” اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا پورے برصغیر پاک و ہند کے مسلمان مینار پاکستان لاہور میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے رنگ و نسل کے بتوں کو ترک کر کے، حصول پاکستان کے لیے، جدوجہد کا عزم کیا تا کہ یہاں اسلام کو بحثیت نظام زندگی نافذ کیا جا سکے۔یہ دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو 27 رمضان المبارک کو وجود میں آیا اور اگلے دن جمعتہ الوداع تھا۔لیلتہ القدر اور جمعتہ الوداع کی اہمیت، فضیلت اور برکتیں محتاج بیان نہیں ہیں 27 رمضان کو قرآن نازل ہوا اور اسی رات برصغیر کے مسلمانوں کو پاکستان عطا کر کے اللہ نے اپنا خصوصی فضل و کرم ہم پر نازل کیا۔الحمد للہ رب العالمین۔وہ ریاست مدینہ جس کی بنیاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی تھی اور جس کو خلفائے راشدین نے اپنے خون جگر سے وسعت اور استحکام عطاء کیا تھا، اس میں،اور مملکت پاکستان میں درجنوں مماثلتیں اور مطابقتیں پائی جاتی ہیں چند ایک کا تذکرہ مندرجہ ذیل ہے۔
مدینہ ریاست بنی تو دستور مدینہ، میثاق مدینہ میں یہودیوں اور غیر مسلم قبائل کو بھی شریک کیا گیا اور عزم کیا گیا کہ بیرونی حملہ آوروں کا مشترک طور پر مقابلہ کیا جائیگا۔یہی بنیادی نکتہ پاکستان کے1973ء کے آئین میں موجود ہے۔
مدینہ کا مطلب ہے پاک لوگوں کا شہر، پاکستان کا مطلب بھی یہی ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ۔ریاست مدینہ کے دو بنیادی دشمن تھے ایک مکہ کے بت پرست مشرک اور دوسرے یہودی، آج پاکستان کے بھی دو بنیادی دشمن ہیں، ہندوستان کے بت پرست مشرک ہندو اور اسرائیل کے یہودی۔ اسرائیل کے بانیوں کا اعلان ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں اسرائیل کا نظریاتی جواب ہے اور دشمن نمبر ایک ہے چنانچہ پاکستان کے پاسپورٹ پر آپ پوری دنیا کا سفر کر سکتے ہیں لیکن اسرائیل کا سفر نہیں کر سکتے۔
ریاست مدینہ کے لیے دو بار ہجرت کی گئی۔ پہلی ہجرت، ہجرت حبشہ تھی جبکہ دوسری ہجرت، ہجرت مدینہ تھی
اسی طرح پاکستان کے حصول کے لیے بھی دو بار ہجرت کی گئی۔ پہلی بار برصغیر کے علماء نے اس کو دارالحرب قرار دیا تو لاکھوں مسلمانوں نے، کروڑوں کی جائیدادیں چھوڑ کر افغانستان کو ہجرت کی، جبکہ دوسری مرتبہ کروڑوں بلکہ اربوں کی جائیدادیں چھوڑ کر 1947 ء میں پاکستان کو ہجرت کی۔
1973ء کا آئین اسلامی دنیا کا وہ آئین ہے جس پر تمام نسلی گروہوں، تمام مسالک اور اس وقت کی پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں یہ 100 فی صد متفقہ آئین ہے یعنی اس کو ” اجماع امت ” کی حیثیت حاصل ہے۔
ریاست مدینہ کو اپنی تشکیل کے فورا” بعد مسیلمہ کذاب جیسے جھوٹے مدعی نبوت کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان بھی وہ ریاست ہے جس کو قیام کے فورا” بعد مرزا قادیانی جیسے جھوٹے مدعی نبوت کا سامنا کرنا پڑا۔ مسیلمہ کذاب کا سر کچلنے کے لیے ہزارہا مسلمان صحابہؓ و حفاظ قرآن نے جام شہادت نوش کیا جبکہ پاکستان میں قادیانیت کا سر کچلنے کے لیے ہزارہا مسلمانوں نے خون دیا اور جبر کا سامنا کیا۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں ہزارہا مسلمان شہید کر دیے گئے۔ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں اس فتنے کا سر کچلنے کے لیے موثر قانون سازی ہوئی اور ملت اسلامیہ پاکستانیہ نے کینسر کا یہ پھوڑا اپنے جسد سے جدا کردیا۔ الحمد للہ رب العالمین
میثاق مدینہ کا بحثیت دستور مطالعہ کریں اور 1973 کے آئین کا جائزہ لیں تو ان میں 99٪ مماثلت نظر آتی ہے۔(مسئلہ صرف عملدرآمد کا ہے)
ریاست مدینہ نے قیام کے بعد مسلسل جنگوں کا سامنا کیا اسی طرح مملکت خداداد پاکستان نے بھی 1947، 1965ء میں باقاعدہ جنگوں کا سامنا کیا اور پاک فوج نے پاکستان کا کامیاب دفاع کیا۔ 1971ء میں جب بنگالیوں کو حق نہ دیا گیا تو ان کی بغاوت کی وجہ سے شکست ہوئی لیکن اسلامی نظریے کی عملی شکل پاکستان کی صورت میں موجود ہے اور پاکستان بدستور اسلامی دنیا کی آنکھوں کا مرکز ہے۔ یاد رہے کہ ریاست مدینہ بھی اپنے قیام کے بعد چوتھے خلیفہ راشد جناب حضرت علی علیہ السلام کے دور میں دو حصوں میں بٹ گئی تھی دوسرے حصے کے سربراہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔کچھ عرصے بعد جب بادشاہت بنو امیہ کا خاتمہ ہوا اور بادشاہت بنو عباس کا آغاز ہوا تو مملکت اندلس ایک اموی شہزادے کی زیر قیادت باقاعدہ طور پر الگ ملک بن گیا جو آٹھ سو سال تک قائم رہا۔ آٹھ صدیاں بعد اس مملکت کے ولی عہد شہزاد عبداللہ نے عیساء بادشاہ فرڈی نینڈ اور ملکہ ازابیلا کے سامنے ہتھیار پھینک دیے اور اندلس (غرناطہ) کا خاتمہ ہو گیا۔
پاکستان کے 1973 ء کے آئین میں اسلام اور اسلامی نظریے سے عملی وابستگی کا ببانگ دہل اعلان کیا گیا ہے۔ اس لیے 1974 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی یہودیوں کے خلاف عملا” جنگ میں حصہ لیا، اسرائیلی راہنماء بن گوریان نے پاکستان ایئر فورس کے ہاتھوں زبردست نقصان اٹھانے کے بعد اعلان کیا کہ یہ ہمارا دشمن نمبر ایک ہے۔
اسی طرح سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کا ساتھ دیتے ہوئے بھی جنگ میں حصہ لیا اور پاکستان کی مدد اور اعانت سے سوویت یونین کے درجن کے لگ بھگ ٹکڑے ہوئے۔ آج دنیا میں سوویت یونین نام کا کوئی ملک وجود نہیں رکھتا۔ یہ اتنا بڑا کارنامہ پاکستانیوں اور افغانیوں نے مشترکہ طور پر انجام دیا ہے کہ ابھی ہماری موجودہ نسلوں کو اس کا شعور ہی نہیں ہے لیکن مستقبل کا مورخ اس کا بہتر انداز میں تجزیہ کرے گا اور پاکستان کے مین رول کو تسلیم کرے گا۔ان شاء اللہ
ریاست مدینہ اپنے قیام کے فورا” بعد جغرافیائی لحاظ سے مسلسل پھیلنے لگی اسی طرح مملکت پاکستان بھی اپنے قیام کے بعد آج تک مسلسل پھیل رہی ہے اس میں 1947ء سے لے کر 1970 ء تک مندرجہ زیل ریاستوں نے شمولیت کا اعلان کیا۔دیر، چترال، قلات، بہاولپور، خیر پور، لسبیلہ، خاران، مکران، اسی طرح گوادر کا علاقہ فیروز خان نون کے دور میں مسقط سے باقاعدہ طور پر خریدا گیا۔ 1974ء کے زمانے میں وادی سوات پاکستان میں شامل ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں بحیرہ عرب میں مزید 2000 مربع میل کا علاقہ باقاعدہ طور اقوام متحدہ کی منظوری سے شامل کیا گیا جس کو پاکستان کا سمندری صوبہ کہا جاتا ہے۔اس دوران گلگت بلتستان کا علاقہ (1948) میں ڈوگرہ فوج سے گلگت سکاؤٹس (پاک فوج) نے چھینا ہے 1971 ء میں سارا افتخار آباد اور وادی لیپا بھی بھارت سے چھینی گئی ہے۔2010ء کے زمانے میں سارا قبائلی علاقہ خوارج سے چھینا گیا ہے یہ پاک فوج کی بڑی کامیابی ہے اور آج سات قبائلی ایجنسیاں باقاعدہ طور پر صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں۔ پہلے یہ علاقے شتر بے مہار تھے۔ریاست مدینہ میں قومیت کی بنیاد اسلام تھا۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اعلان کیا کہ
”لوگو! کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے تھے تم میں برتر وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے“۔
یہ اعلان فرما کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو مملکت مدینہ (حجاز مقدس) کے سربراہ و بانی تھے انہوں نے رنگ،زبان اور نسل پرستی کے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادنی اُمتی اور مملکت پاکستان کے بانی و پہلے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خطبہ حجتہ الوداع کی پیروی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ
”آپ نہ پنجابی ہیں نہ سندھی نہ بلوچی نہ پٹھان نہ بنگالی نہ کشمیری بلکہ آپ سب پاکستانی ہیں“۔ اسی طرح قائد اعظم محمد علی جناح رح نے بھی اسلامی نظریہ قومیت کی پیروی کرنے کا اعلان کر دیا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے جو وعدہ اللہ سے کیا تھا کہ اے اللہ ہمیں ملک عطاء کر ہم وہاں تیرا قانون نافذ کریں گے، ہم اس وعدے کو نبھائیں اور ملک میں ہر سطح پر اسلامی قانون کو رائج کریں تا کہ ملک عزیز میں استحکام آئے، انصاف ہو، ترقی و خوشحالی ہو۔ جب تک ہم اپنا وعدہ پورا نہیں کریں گے اس وقت تک ہمارا ملک گرداب سے باہر نہیں آئے گا۔