اپریل 17, 2026

ھوشیار خبردار، وسل کا استعمال۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

کراچی میں بڑھتی ڈکیتیوں، چوریوں، اسٹریٹ کرائم، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت سے خبردار ھوشیار رکھنے کیساتھ ساتھ خود کو اور دوسروں کو محفوظ بنانے کیلئے اب سنجیدگی سے سوچنا ھوگا اور ترکیب رائج کرنی ھوگی تاکہ جرائم کا خاتمہ خود سے یقینی بناسکیں، یہ حقیقت مسلمہ ھے کہ علاقے کے تھانے اور وہاں کے اہلکار ہی درحقیقت اس جرائم کی پیدائش میں مصروف رہتے ھیں اور پشت پناہی کی بھاری رقم بھی حاصل کرتے ھیں، وسل ایک چھوٹی سی چیز ھے جو کراچی کو اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار اور ڈکیتوں سے چھٹکارا دلا سکتی ھے۔ تقریباً کراچی کے شہریوں کی جیب میں مہنگے موبائل فون، بٹوا اور اسی طرح کی اور چیزیں ھوتی ھیں۔ کراچی کا ہر شہری اپنی جیب میں وسل کا اضافہ بھی کر لے، اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار اور ڈکیتی کے وقت اکثر لوگ تھوڑے فاصلے سے جرم ھوتا دیکھ رہے ھوتے ھیں۔ جانی و مالی نقصان کے خوف سے کوئی مدد کو نہیں آتا جس کے باعث متاثر شخص سامان کیساتھ ساتھ اپنی قیمتی اشیاء اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ھے۔ یاد رکھئے جرم ھوتے وقت ایک انسان بھی دیکھ لے اور اپنی جیب سے نکال کر وسل بجادے تو اطراف کے بہت سے لوگ ہوشیار خبردار اور اگاہ ھوجائیں گے اور وہ بھی وسل کا جواب وسل سے دیں اور فوراً اطراف کے راستے پر پوزیشن سنبھال لیں کچھ لوگ ڈکیت کی موٹر سائیکل اور دیگر ساتھیوں پر نظر رکھیں۔ وسل کی بہت سی آوازیں سن کر ڈکیت گھبرا جائیں گے اور فوراً شناخت میں آجائیں گے اور آپکا کام آسان ھوجائیگا۔ ڈکیت کی سواری اگر دسترس میں ھو تو اسے دھکا دے کر گراتے ھوئے بھاگ جائیں۔ بس دماغ میں انسانی فطرت کو ملحوظ خاطر رکھیں، حملہ آور انسان ھو یا جانور گھبراہٹ اس کی موت کا سبب بنتی ھے۔ جب ان ڈکیتوں پر قبضہ کرلیں اور انہیں بے بس کردیں تو سب سے پہلے دونوں ہاتھ اور پاؤں بری طرح کچل دیں تاکہ زندگی بھر نہ چل سکے نہ کچھ اٹھا سکے یہی عمل عوام متحد ھوکر اپنائے رکھیں ایک تو ڈکیت زندگی بھر عبرت کا نشان بن جائیگا دوسرا ڈکیتوں پر اس طرح کے عوامی رد عمل پر دیگر چور ڈاکو رہزن اور اسٹریٹ کرائم کراچی سے بھاگ نکلیں گے، یہی عمل منشیات فروشوں کیساتھ بھی کیا جائے اور اگر جرائم پیشہ افراد کی سہولت داری اور حفاظت کیلئے کوئی پولیس اہلکار یا تھانے دار آئے تو اس کے ساتھ ان ڈکیتوں سے کہیں زیادہ حال کردیں اس طرح ایک جانب جرائم پیشہ افراد کراچ سے بھاگ نکلیں گے اور ساتھ ہی تھانوں سے کالی بھیڑوں کا صفایہ بھی ھوجائیگا۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ کراچی والے بزدلی کمزوری اور بے بسی کا مظاہرہ کرتے ھیں یا زندہ بہادر غیور قوم کی طرح جرائم کے خلاف متحد ھوکر مقابلہ کرتے ھیں۔ یاد رھے کہ دنیا بھر میں بلوا کا کوئی کیس عمل میں نہیں آتا اور نہ ہی سزا کا مرتکب ھوتا ھے۔ جب ریاست اور حکومت جرائم اور جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں یرغمال بن جائے تو عوام کا متحد حملہ ہی ملک و قوم کو محفوظ بناتا ھے۔