جہلم(سید ناصر محمود)جہلم چکری رجروڑ کے رہائشی سمی اللہ ولد محمد افضل و عاقب نواز ولد عابد نواز نے ڈی پی او جہلم کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اپنے کزن سمی اللہ کومورخہ یکم اپریل 2024 بوقت دن 11 بجکر45 منٹ کو ڈگری کالج سے لے کر گھر کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں پولیس اہلکاروں نے روکا جو کہ ایک وردی میں تھا جبکہ دوسول کپڑوں میں تھے انہوں نے ہم دونوں کو روک کر لاتوں، ملکوں سے زدو کوب کرتے ہوئے گھسیٹا اور ہم دونوں کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں اور پولیس اہلکار علی نامی شخص نے پسٹل نکال کر اسکے بٹ مارے اور دوسرے دو پولیس اہلکاروں نے باندھ کر مارا اور بلاوجہ معافیاں منگواتے رہے اس دوران پولیس اہلکار ہمارے اوپر کئے جانے والے تشدد کی ویڈیو بھی بناتے رہے جو تشدد کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل کردی گئی، جس کی ویڈیوسائلین کے پاس بھی محفوظ ہے دوران ویڈیو بناتے ہوئے چار نا معلوم افرادبھی موجود تھے جو گندگی گالیاں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے اور للکارتے ہوئے نکل گئے مذکورہ بالا نا معلوم افراد میں سے زیبی گجر جو کہ ویڈیو بنا تا رہا جو ویڈیو میں سنے جا سکتے ہیں۔متاثرہ نوجوانوں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، آرپی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا سے نوٹس لینے اوربلا وجہ طلباء پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیاہے۔




