اپریل 17, 2026

ماں کی محبت اور قدر ۔۔۔۔ !!

کالمکار: جاوید صدیقی

بیٹا ھو یا بیٹی ماں کی شدت اور احساس اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک محسوس کرتی ھے ، جہاں باپ کی عظمت اور مقام کا حصہ گراں قدر ھے وہیں ماں کی شان اور ایثار و قربانی کی رقمیں دنیا بھر میں پھیلی ھوئی ھیں، جہاں تک ماں کے پیار اور ایثار و قربانی کی ھے وہیں انسان تو انسان جانور مادہ میں بھی وہی عظیم عنصر پایا جاتا ھے، دنیا کا ہر مذہب، ہر طبقہ ہر گروہ ہر قبیلہ ہر کمیونیٹی ہر تنظیم ہر ذی شعور تسلیم بجا لاتا ھے کہ ماں تو ماں ھوتی ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! اشفاق احمد اکثر کہا کرتے تھے کہ آدمی عورت سے محبت کرتا ہے جبکہ عورت اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے، اس بات کی مکمل سمجھ مجھے اس رات آئی، یہ گزشتہ صدی کے آخری سال کی موسمِ بہار کی ایک رات تھی۔ میری شادی ہوئے تقریباً دو سال ہوگئے تھے اور بڑا بیٹا قریب ایک برس کا رہا ہوگا، اس رات کمرے میں تین لوگ تھے، میں، میرا بیٹا اور اس کی والدہ!! تین میں سے دو لوگوں کو بخار تھا، مجھے کوئی ایک سو چار درجہ اور میرے بیٹے کو ایک سو ایک درجہ، اگرچہ میری حالت میرے بیٹے سے کہیں زیادہ خراب تھی تاہم میں نے یہ محسوس کیا کہ جیسے کمرے میں صرف دو ہی لوگ ہیں، میرا بیٹا اور اسکی والدہ۔۔۔ بری طرح نظر انداز کئے جانے کے احساس نے میرے خیالات کو زیر و زبر تو بہت کیا لیکن ادراک کے گھوڑے دوڑانے پر عقدہ یہی کھلا کہ عورت نام ہے اس ہستی کا کہ جب اسکو ممتا دیت کردی جاتی ہے تو اس کو پھر اپنی اولاد کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا حتیٰ کہ اپنا شوہر بھی اور خاص طور پر جب اسکی اولاد کسی مشکل میں ہو، اس نتیجہ کے ساتھ ہی ایک نتیجہ اور بھی نکالا میں نے اور وہ یہ کہ اگر میرے بیٹے کے درد کا درمان اسکی والدہ کی آغوش ہے تو یقینا میرا علاج میری ماں کی آغوش ہوگی۔ اس خیال کا آنا تھا کہ میں بستر سے اٹھا اور ماں جی کے کمرہ کی جانب چل پڑا۔ رات کے دو بجے تھے پر جونہی میں نے انکے کمرے کا دروازہ کھولا وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئیں جیسے میرا ہی انتظار کررہی ہوں پھر کیا تھا بالکل ایک سال کے بچے کی طرح گود میں لے لیا اور توجہ اور محبت کی اتنی ہیوی ڈوز سے میری آغوش تھراپی کی کہ میں صبح تک بالکل بھلا چنگا ہوگیا پھر تو جیسے میں نے اصول ہی بنالیا جب کبھی کسی چھوٹے بڑے مسئلے یا بیماری کا شکار ہوتا کسی حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے سیدھا مرکزی ممتا شفاخانہ برائے توجہ اور علاج میں پہنچ جاتا. وہاں پہنچ کر مُجھے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ بس میری شکل دیکھ کر ہی مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگالیا جاتا۔ میڈیکل ایمرجنسی ڈیکلئر کردی جاتی. مجھے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ "ماں” کے ہی بستر پر لٹادیا جاتا اور انکا ہی کمبل اوڑھا دیا جاتا، کسی کو یخنی کا حکم ہوتا تو کسی کو دودھ لانے کا، خاندانی معالج کی ہنگامی طلبی ہوتی، الغرض توجہ اور محبت کی اسی ہیوی ڈوز سے آغوش تھراپی ہوتی اور میں بیماری کی نوعیت کے حساب سے کبھی چند گھنٹوں اور کبھی چند پہروں میں روبہ صحت ہوکر ڈسچارج کردیا جاتا۔ یہ سلسلہ تقریباً تین ماہ قبل تک جاری رہا۔ وہ وسط نومبر کی ایک خنک شام تھی، جب میں فیکٹری سے گھر کیلئے روانہ ہونے لگا تو مجھے لگا کہ مکمل طور پر صحت مند نہیں ہوں، تبھی میں نے آغوش تھراپی کروانے کا فیصلہ کیا اور گھر جانے کی بجائے ماں کی خدمت میں حاضر ہوگیا لیکن وہاں پہنچے پر اور ہی منظر دیکھنے کو ملا. ماں کی اپنی حالت کافی ناگفتہ بہ تھی پچھلے کئی روز سے چل رہیے پھیپھڑوں کے عارضہ کے باعث بخار اور درد کا دور چل رہا تھا۔ میں خود کو بھول کر انکی تیمارداری میں جت گیا، مختلف ادویات دیں، خوراک کے معروف ٹوٹکے آزمائے، مٹھی چاپی کی، مختصر یہ کہ کوئی دو گھنٹے کی آؤ بھگت کے بعد انکی طبیعت سنبھلی اور وہ سو گئیں۔ میں اٹھ کر گھر چلا آیا۔ ابھی گھر پہنچے آدھ گھنٹہ ہی بمشکل گذرا ہوگا کہ فون کی گھنٹی بجی، دیکھا تو چھوٹے بھائی کا نمبر تھا، سو طرح کے واہمے ایک پل میں آکر گزر گئے، جھٹ سے فون اٹھایا اور چھوٹتے ہی پوچھا، بھائی سب خیریت ہے نا، بھائی بولا سب خیریت ہے وہ اصل میں ماں جی پوچھ رہی ہیں کہ آپکی طبیعت ناساز تھی اب کیسی ہے. اوہ میرے خدایا۔ اس روز میرے ذہن میں ماں کی تعریف مکمل ہوگئی تھی۔ ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر اپنا دکھ، اپنا آپ بھی بھول جاتی ہے۔ شاید اس تحریر کو پڑھنے سے کسی کو سیدھی راہ مل جائے اور کسی کے غم دور ہوجائیں۔ یاد رکھئے جنکی ماں حیات ھیں انہیں انکی اہمیت کو سمجھنا چاہئے اور قدر و منزلت پر رکھنا چاہئے کیونکہ جنکی ماں نہیں انہیں اب ماں کی کمی اور انکے پیار و ایثار و قربانی کا احساس شدید ھوتا ھے اور پچھتاوا بھی کہ کہیں خدمت اور پیار میں کمی نہ رہ گئی ھو یہ دیکھ کر مجھے بہت اطمینان اور خوشی ھوتی ھے کہ لائق اولادیں انکی لحد پر پہنچ کر اپنی حاضری اور ایثال و ثواب کے تحفے پیش کرتے ھیں۔ اپنے معزز قارئین کے علم میں لانا چاہتا ھوں کہ غالباٌ یہ سنہ دو ہزار تین یا چار ہزار عیسوی کا زمانہ تھا جب اےآروائی نے پہلی بار "ادبی ایوارڈ” کا انعقاد کیا تھا۔ میں اس پروگرام کی ریکارڈنگ کی ٹیم کا حصہ تھا اس پروگرام کے تین ڈائریکٹر تھے جنمیں ایک میں بھی تھا، بیشمار لیجینڈ ادبی شخصیات کی شرکت ھوئی ان میں لاہور سے بانو قدسیہ اور اشفاق احمد صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ ان سے تمام معززین سے میرا بنفس نفیس ملاقات کا شرف حاصل ھوا تھا۔۔۔۔!!