ستمبر 12, 2026

آج کل کے پریس کلبوں کا حال اور اصل صحافی کی تعریف

تحریر: سید حفیظ سبزواری سینئر جرنلسٹ

ایک وقت تھا جب ہم بال پوائنٹ پنسل سے خبریں لکھا کرتے تھے اور کاربن پیپر رکھ کر چار چار پانچ پانچ کاپیاں بنائی جاتی تھیں اور خبریں ڈاک میں بھیجی جاتی تھیں اگر کوئی ایمرجنسی خبر لکھوانی ہوتی تو 109 پر ٹرنک کال بک کی جاتی تھی اس وقت PTCL کا دور تھا پھر کچھ عرصہ کے بعد فیکس کا دور آگیا اور کالی پنسل سے خبریں لکھ کر ہم فیکس کے ذریعے بھیجا کرتے تھے جس کی اوکے کی رپورٹ بھی آتی تھی اور اگر فیکس درست نہ پہنچتی تو رپورٹ اوکے نہیں ہوتی تھی ادارہ سے باقاعدہ کنفرم کیا جاتا تھا کہ آپ کو فیکس مل گئی ہے یا نہیں
اس وقت خبر کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی تھی کسی بھی ادارے یا کسی کے خلاف خبر شائع ہوتی تھی تو اس کا فوری ایکشن ہوتا تھا کاتب سرخیاں نکالتے تھے پھر آہستہ آہستہ وقت تبدیل ہوتا گیا اور فیکس کی جگہ ای میل نے لے لی اب خبر بھیجنا اتنا آسان ہو گیا تھا کہ ایک ہی کلک کے ذریعے درجنوں ای میل ایڈریسز پر خبر بھیج دی جاتی اور خبر ایک ہی کلک میں سب کو موصول ہو جاتی لیکن پھر ای میل کے بعد واٹس ایپ کا زمانہ آگیا جو کہ ابھی تک چل رہا ہے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 90 فیصد خبریں واٹس ایپ کے ذریعے سے بھیجی جاتی ہیں جبکہ 10 فیصد خبریں ابھی بھی ای میل کے ذریعے سے ارسال کی جاتی ہیں
میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں آج کل ہمارے پریس کلبوں کا یہ حال ہے کہ پریس کلب کی ممبرشپ کے لیے کسی بھی اخبار یا چینل کا کارڈ ہونا ضروری ہے اس کے لیے کسی قسم کی تعلیم اور تجربے کی ضرورت نہیں خواہ کسی کو بولنا لکھنا آتا ہو یا نہ آتا ہو وہ پریس کلب کی ممبر شپ فیس ادا کرکے کسی وقت بھی ممبر بن سکتا ہے خواہ کوئی انپڑھ،ریڑھی بان،دکاندار،سبزی فروش، فروٹ فروش،مرغی فروش،جھاڑو پھیرنے والا،مزدوری کرنے والا، ہر کوئی پریس کلب کا ممبر بن سکتا ہے جس کے پاس کسی بھی اخبار یا چینل کا کارڈ ہو غرض یہ ہے کہ جو بھی شخص کسی بھی طریقے سے کسی ادارے کا کارڈ لے آئے وہ پریس کلب کا ممبر راتوں رات بن جاتا ہے
جب کہ سوشل میڈیا پر جن کے لاکھوں کی تعداد میں فالورز ہیں جو ریگولر ویڈیوز بھی اپلوڈ کرتے ہیں خبریں بھی اپلوڈ کرتے ہیں بہترین قسم کے تجزیے کرتے ہیں وہ کسی بھی پریس کلب کے ممبر بننے کے مجاز نہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہر میں کئی کئی پریس کلب بنے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو سینئر صحافی کہلوانے والے ان پریس کلبوں پر شیش ناگ کی طرح مسلط ہیں وہ کبھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کے مقابلے میں کوئی نیا صحافی آئے وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان سے پڑھا لکھا کوئی زیادہ ہو تاکہ ان کی صدارت یا چیئرمینی پر قبضہ نہ ہو جائے
آج کی سب سے بڑی طاقت سوشل میڈیا کی ہے کسی ٹی وی چینل یا اخبار کی اتنی طاقت نہیں کیونکہ ٹی وی چینل اور اخبارات والے سوشل میڈیا سے خبریں اٹھا کر لگاتے ہیں
تمام معزز سرکاری اداروں کے اپنے اپنے سوشل میڈیا سیل ہیں اور وہ اپنے معزز افسران کی کارکردگی کی خبریں اپنے اپنے پیجز پر اپلوڈ کرتے ہیں جن کے لاکھوں کی تعداد میں فالورز ہیں اس لیے سرکاری دفاتر میں صحافیوں کی وقعت بالکل ختم ہو چکی ہے اب صورتحال یہ ہے کہ کسی پریس کلب میں گروپ بندی ہو یا نہ ہو کوئی اکٹھا ہو یا علیحدہ علیحدہ ہو سرکاری اداروں کو اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہوں نے صحافیوں کو لفٹ کرانا چھوڑ دی ہے
اور ہمارے بیچارے انپڑھ صحافیوں کا یہ حال ہے کہ سرکاری اداروں کے پیجز پر جو خبریں اپلوڈ کی جاتی ہیں وہ ان میں بغیر کوئی تبدیلی کے اپنے نام سے آگے فارورڈ کر دیتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ پریس کلب کے ممبران ہوتے ہیں یہیں پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ انپڑھ اور ناتجربہ کار لوگ صحافت کی آڑ میں سرکاری اداروں کو بلیک میل کرنے کی بھی ناکام کوشش کرتے ہیں اور باولے کتوں کی طرح صبح اٹھ کر سرکاری دفاتر میں پہنچ جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سارے دن کا پلان کیا ہوتا ہے کہ آج ناشتہ کہاں سے کرنا ہے دوپہر کا کھانا کہاں سے کھانا ہے اور شام کو جاتے ہوئے سبزی کس سے مفت لینی ہے فروٹ کس سے مفت لینا ہے غرض یہ کہ ایسے لوگوں کی پانچوں گھی میں ہیں کیونکہ ایسے لوگ 100 بھی نہیں چھوڑتے اور ان کی حیثیت صرف 100 سے 500 کی ہے
میری وزارت اطلاعات حکومت پاکستان سے درد مندانہ اپیل ہے کہ سب سے پہلے جو شخص اپنے آپ کو صحافی کہتا ہے اس کے اور اس کے رشتہ داروں کے اثاثے چیک کیے جائیں کہ کتنا حرام کا مال کمایا ہے اور کتنا حلال کا اس کے ساتھ ساتھ ہر ایک صحافی کی باقاعدہ حکومتی سطح پر ٹریننگ کی جائے اسے چیک کیا جائے کہ اس میں لکھنے اور بولنے کی کتنی پاور ہے اور یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اسے ایک مستقل طور پر صحافت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے تاکہ سرکاری اداروں کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ بند ہو سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں قائم پریس کلبوں کی اجارہ داری بھی ختم ہو سکے اس سلسلہ میں راقم الحروف نے وزیراعظم پاکستان،وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر انفارمیشن کو بھی تحریری لیٹر لکھ دیے ہیں اور امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے اس کے بعد جو اس وقت صحافیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے وہ کم ہو کر شاید ہزاروں یاسینکڑوں میں آجائے اس کے ساتھ ساتھ میری معزز سرکاری اداروں کے افسران سے بھی اپیل ہے کہ دو نمبر اور بلیک میلر لوگ جو کہ صحافت کی آڑ میں سرکاری دفاتر میں پھرتے رہتے ہیں اپنے خفیہ کیمروں کے ذریعے ان کی لسٹیں بنائی جائیں اور انہیں ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ قانون اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں