برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلے جا رہے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں میزبان انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ انگلینڈ نے گزشتہ دونوں میچز جیتنے والی اپنی فاتح فائنل الیون کو برقرار رکھا، جبکہ پاکستان کی ٹیم 4 تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری۔ محمد رضوان، امام الحق، خرم شہزاد اور علی عثمان کی جگہ صائم ایوب کو شامل کیا گیا، جبکہ غازی غوری، عمران رندھاوا اور رضا اللہ کو اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنے کا موقع ملا۔ میچ کے آغاز سے ہی قومی بیٹنگ لائن بری طرح ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ جنوری 2025 کے بعد واپسی کرنے والے صائم ایوب تیسرے ہی اوور میں صفر پر آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد وکٹیں گرنے کا ایک ناقابلِ یقین سلسلہ شروع ہوا اور کھانے کے وقفے سے قبل ہی پاکستان کے 7 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ ٹاپ سیون بلے بازوں میں سے کوئی بھی ڈبل فیگر میں نہ پہنچ سکا اور بالآخر پوری ٹیم 33.5 اوورز میں محض 133 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ اس سیریز کی 5 اننگز میں یہ تیسرا موقع تھا جب قومی ٹیم 40 اوورز بھی نہ کھیل سکی۔ سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ نویں اور دسویں نمبر پر آنے والے بالترتیب رضا اللہ نے 11 اور محمد عباس نے 21 رنز کا اضافہ کیا۔ انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹونگے نے 42 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس اننگز کے دوران اولی رابنسن نے صائم ایوب کو آؤٹ کر کے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔
جواب میں پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک انگلینڈ نے 39 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 156 رنز بنا کر پاکستان کی پہلی اننگز کے جواب میں 23 رنز کی اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ انگلش اوپنر ایمیلو گے نے شاندار 60 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ دن کے اختتام پر ہیری بروک 52 اور ڈین لارنس 5 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بولر رضا اللہ نے زبردست بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ واضح رہے کہ اس آخری ٹیسٹ میچ کے آغاز پر وکٹ کیپر غازی غوری کو سعود شکیل نے، رضا اللہ کو محمد عباس نے اور عمران رندھاوا کو بابر اعظم نے ان کی یادگار ٹیسٹ کیپس پہنائیں۔ پاکستان کی پلیئنگ الیون میں صائم ایوب، اذان اویس، عبداللہ شفیق، بابر اعظم، شان مسعود، سعود شکیل، غازی غوری، عمران رندھاوا، رضا اللہ، محمد علی اور محمد عباس شامل ہیں۔ 3 ٹیسٹ میچز کی اس سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کو اننگز اور 103 رنز اور دوسرے میچ میں 194 رنز کی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔



