کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
تاریخ کے افق پر وہی ستارے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتے ہیں جن کا مقصدِ حیات اپنے عہد کی تاریکیوں کو انصاف اور مسیحائی کے چراغوں سے منور کرنا ہو، سیاست کی آزمائش طلب راہوں اور عوامی خدمت کے کٹھن سفر میں کچھ قد آور شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے نام کی گونج ہی انسانیت کی فلاح، محروم طبقوں کی دادرسی اور معاشرتی توازن کی ضمانت بن جاتا ہے، ایسی ہی ایک ہمہ جہت، علم دوست اور نہایت باوقار شخصیت ڈاکٹر نجمہ افضل کی ہے جنہیں حکومتِ پنجاب نے ان کی بے داغ پیشہ ورانہ ساکھ، جرات مندانہ فیصلوں اور غیر معمولی انتظامی و سیاسی بصیرت کے اعتراف میں "صوبائی محتسب پنجاب” کے اہم ترین منصب پر فائز کیا ہے، یہ فیصلہ نہ صرف پنجاب کی انتظامی مشینری میں شفافیت کی روح پھونکنے کا نہ صرف باعث بن رہا ہے بلکہ عام آدمی کے لیے انصاف کے حصول کو آسان اور یقینی بنانے کی جانب ایک انقلابی سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے، ڈاکٹر نجمہ افضل کا تعلق پنجاب کے زرخیز علمی و صنعتی شہر فیصل آباد سے ہے جہاں انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک مسیحا کے طور پر کیا اور پنجاب میڈیکل کالج سے طب کی اعلیٰ ڈگری مکمل کرنے کے بعد فیصل آباد کے نامور الائیڈ ہسپتال میں بطور میڈیکل آفیسر اور مختلف کلیدی انتظامی و طبی عہدوں پر طویل عرصہ گراں قدر خدمات سرانجام دیں، ایک معالج کی حیثیت سے انہوں نے ہسپتالوں کی راہداریوں میں عام آدمی کی تکالیف، بے بسی اور سماجی محرومیوں کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا اور یہی وہ انسانی تڑپ تھی جس نے انہیں سیاست کی شاہراہ پر تبدیلی لانے اور مظلوموں کی توانا آواز بننے پر مائل کیا، آخرکار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز نہایت وقار کے ساتھ کیا اور 2013 سے 2018 تک پنجاب اسمبلی کی ایک نہایت متحرک اور بااثر رکن کے طور پر اپنی پہچان بنائی جہاں بطور پارلیمانی سیکرٹری انہوں نے مختلف محکموں میں حکومتی پالیسیوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق، صحتِ عامہ کی بہتری اور تعلیمی اصلاحات کے لیے متعدد تاریخی بلز اسمبلی سے منظور کروائے، ایوان کے اندر ان کی علمی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت اور قائمہ کمیٹی برائے بہبودِ آبادی جیسی اہم کمیٹیوں کا حصہ بنایا گیا جہاں انہوں نے پالیسی سازی کے نشیب و فراز کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے طے کیا، صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا مقدمہ نہایت احسن انداز میں لڑا اور مختلف پارلیمانی وفود کی صورت میں دنیا کے کئی ممالک کے دورے کیے تاکہ عالمی سطح پر خواتین کے حقوق اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر تعاون کو فروغ دیا جا سکے، ان کی اسی بے لوث خدمت اور تابناک ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پنجاب نے انہیں 14 جولائی 2023 کو صوبائی محتسب پنجاب کے عہدے پر فائز کیا اور یہ امر پنجاب کی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ اس باوقار منصب پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون ہیں، موجودہ دور میں بطور صوبائی محتسب پنجاب ان کی خدمات کا دائرہ کار انتہائی وسیع اور قابلِ ستائش ہے جہاں وہ سرکاری اداروں میں رچی بسی بدانتظامی، دفتری گرداب اور فائلوں میں انصاف کو قید کرنے والی تاخیری روایت کے خلاف ایک آہنی دیوار ثابت ہوئی ہیں، ان کی اولین ترجیحات میں کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف بنائے گئے قوانین کا ان کی روح کے مطابق نفاذ اور سب سے بڑھ کر خواتین کو ان کے جائز وراثتی و قانونی حقوق کی فراہم شامل ہے، ان کا یہ پختہ ایمان ہے کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور رشتہ داریوں میں تلخی کی سب سے بڑی وجہ جائیداد کی غیر منصفانہ تقسیم ہے لہٰذا ڈاکٹر صاحبہ محتسب کے خصوصی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ان پیچیدہ تنازعات کا فوری اور منصفانہ حل نکال رہی ہیں تاکہ خاندانوں میں برسوں سے جاری دشمنیاں ختم ہوں اور محبت و بھائی چارے کی فضا دوبارہ قائم ہو سکے، وہ ایک ایسے روشن خیال معاشرے کی داعی ہیں جہاں صرف اور صرف میرٹ کی حکمرانی ہو، کوئی طاقتور کسی کمزور کا حق نہ چھین سکے اور انصاف کی فراہمی میں کوئی مالی یا سفارشی رکاوٹ حائل نہ ہو، ان کی شخصیت دانش و تدبر اور علمی وقار کے ساتھ ساتھ ایسی سنجیدگی اور بردباری کا وہ حسین امتزاج ہے جو ہر آنے والے سائل کی بات نہایت توجہ اور ہمدردی سے سن کر اسے انصاف کی فراہمی کا مکمل یقین دلاتی ہے، بلاشبہ ڈاکٹر نجمہ افضل کی یہ تعیناتی پنجاب کے مظلوم طبقات کے لیے ایک مسیحائی سے کم نہیں ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس عظیم اور مقدس مقصد میں مزید ہمت، استقامت اور کامیابی عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح دکھی انسانیت کی خدمت اور حق دار کو اس کا حق دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہیں۔ آمین




