تحریر:محمد انور بھٹی
بندن میاں آج پھر اپنی پرانی بیٹھک میں بیٹھے تھے مگر آج ان کی خاموشی عام دنوں جیسی نہیں تھی یہ خاموشی بوجھل تھی اس میں تاریخ کی آہٹ بھی تھی اور آنے والے وقت کا اندیشہ بھی سامنے پڑا اخبار جیسے ان سے سوال کر رہا تھا اور موبائل کی سکرین پر چلتی خبریں جیسے ایک ہی جملہ دہرا رہی تھیں کہ دنیا بدل رہی ہے مگر بندن میاں نے آہستہ سے سر اٹھایا اور کہا کہ دنیا نہیں بدل رہی دنیا کو بدلا جا رہا ہے اور یہ تبدیلی کسی قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبوں کی ایک زنجیر ہے جس کی ہر کڑی کسی نہ کسی مفاد سے جڑی ہوئی ہے بندن میاں نے ایک طویل سانس لیا اور ماضی کے اوراق کھولنے لگے وہ دن جب ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا آسمان سے اترتے ہوئے جہاز صرف عمارتوں سے نہیں ٹکرائے تھے بلکہ انسانیت کے اعتماد سے ٹکرائے تھے اور پھر اس ایک لمحے نے پوری دنیا کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں سے واپسی ممکن نہ رہی بندن میاں نے دھیرے سے کہا کہ اس دن صرف عمارتیں نہیں گری تھیں بلکہ سوال بھی گرے تھے اور پھر ان سوالوں کو اٹھنے ہی نہیں دیا گیا خوف کا ایسا حصار قائم کیا گیا کہ ہر سوال غداری لگنے لگا اور ہر شک جرم بن گیا بندن میاں نے اپنی آنکھیں نیم وا کیں اور کہا کہ جب خوف کو ایمان بنا دیا جائے تو پھر عقل خود بخود کفر بن جاتی ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قومیں سوچنا چھوڑ دیتی ہیں اور صرف ماننا شروع کر دیتی ہیں بندن میاں نے اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد دنیا نے ایک نئی لغت سیکھی جس میں جنگ کو امن کہا گیا حملے کو دفاع کہا گیا اور تباہی کو آزادی کا نام دیا گیا اور اسی لغت کے سہارے عراق کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا بندن میاں کی آواز میں تلخی بڑھ گئی انہوں نے کہا کہ عراق وہ سرزمین تھی جسے کبھی تہذیبوں کی ماں کہا جاتا تھا مگر چند برسوں میں اسے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا اور اس تباہی کا جواز وہ ہتھیار تھے جو کبھی ملے ہی نہیں بندن میاں نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ یہ کیسا انصاف تھا کہ پہلے الزام لگایا گیا پھر جنگ کی گئی اور بعد میں اعتراف کیا گیا کہ ہتھیار موجود نہیں تھے مگر اس اعتراف نے نہ تو مرنے والوں کو زندہ کیا نہ اجڑے ہوئے گھروں کو آباد کیا نہ یتیم بچوں کے آنسو خشک کیے بندن میاں نے گہری نظر سے فضا کو دیکھا اور کہا کہ یہ وہ لمحہ تھا جب سچ کو باقاعدہ دفن کیا گیا اور جھوٹ کو عالمی سچ کا درجہ دیا گیا بندن میاں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس جنگ نے صرف ایک ملک کو تباہ نہیں کیا بلکہ اس نے پوری دنیا کو ایک پیغام دیا کہ طاقت کے سامنے سچ کی کوئی حیثیت نہیں اور جو طاقتور ہے وہی سچ لکھتا ہے بندن میاں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ آج جب ایران کے میزائلوں کی بات ہوتی ہے تو مجھے وہی پرانا کھیل یاد آتا ہے وہی خوف وہی بیانیہ وہی تیاری کہ کسی طرح ایک نیا خطرہ پیدا کیا جائے تاکہ ایک نئی جنگ کا جواز پیدا ہو سکے بندن میاں نے سنجیدہ لہجے میں کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر خبر جھوٹ ہو مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر خبر پوری سچ ہو کیونکہ سچ اکثر ادھورا بتایا جاتا ہے اور ادھورا سچ مکمل جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے بندن میاں نے باہر گزرتے لوگوں کو دیکھا اور کہا کہ عام آدمی آج بھی اسی طرح اپنی زندگی میں مصروف ہے اسے نہ عالمی سیاست کی سمجھ ہے نہ جنگی حکمت عملی کی مگر اس کے باوجود وہی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہی اپنے بچوں کو کھوتا ہے وہی اپنے گھر سے بے گھر ہوتا ہے اور وہی مہنگائی اور عدم استحکام کا بوجھ اٹھاتا ہے بندن میاں نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی اور پھر بولے کہ دنیا کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جنگیں وہ لوگ شروع کرتے ہیں جو محفوظ کمروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ان جنگوں میں مرتے وہ لوگ ہیں جو کبھی کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہوتے بندن میاں نے اپنی انگلی میز پر ہلکی سی ماری اور کہا کہ ایران کا معاملہ ہو یا کسی اور ملک کا اصل سوال یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے بلکہ یہ ہے کہ اس طاقت کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کیا یہ طاقت دفاع کے لیے ہے یا غلبے کے لیے کیا یہ طاقت امن کے لیے ہے یا خوف پھیلانے کے لیے بندن میاں نے آہستہ سے کہا کہ جب طاقت کا استعمال خوف پیدا کرنے کے لیے کیا جائے تو پھر وہ طاقت نہیں بلکہ دہشت بن جاتی ہے اور جب دہشت کو جواز بنا لیا جائے تو پھر ہر ظلم جائز قرار پاتا ہے بندن میاں نے اپنی گفتگو کو مزید گہرا کرتے ہوئے کہا کہ آج میڈیا بھی اس جنگ کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے خبریں اب معلومات نہیں رہیں بلکہ ایک ہتھیار بن چکی ہیں جو ذہنوں کو نشانہ بناتی ہیں اور سوچ کو تبدیل کرتی ہیں بندن میاں نے ہنستے ہوئے کہا کہ پہلے گولیاں چلتی تھیں اب سرخیاں چلتی ہیں پہلے بارود پھٹتا تھا اب بیانیہ پھٹتا ہے اور اس بیانیے کے دھماکے زیادہ دور تک اثر کرتے ہیں بندن میاں نے اپنی کرسی سے ذرا سا آگے جھکتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خوف کی اس فضا میں سب سے بڑا نقصان سچ کا ہوتا ہے کیونکہ جب لوگ ڈر جاتے ہیں تو وہ سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور جب سوال ختم ہو جائیں تو پھر جواب دینے کی ضرورت بھی ختم ہو جاتی ہے بندن میاں نے ایک گہری سانس لی اور کہا کہ اگر واقعی دنیا امن چاہتی تو سب سے پہلے جھوٹ کے خلاف جنگ لڑی جاتی مگر یہاں تو جھوٹ کو ہی ہتھیار بنا لیا گیا ہے بندن میاں نے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ نائن الیون کے بعد کیا ہوا عراق میں کیا ہوا اور کس طرح ایک جھوٹ نے لاکھوں زندگیاں نگل لیں بندن میاں نے آخر میں کہا کہ آج اگر ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل کوئی اور کہانی ہمیں سنائی جائے گی کوئی اور خطرہ دکھایا جائے گا اور ہم پھر اسی طرح اس کھیل کا حصہ بن جائیں گے اور شاید پھر تاریخ ہمیں معاف نہ کرے کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کو بھلا دیتی ہے جو خوف کے سامنے جھک جاتے ہیں بندن میاں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا کہ ابھی وقت ہے سچ کو پہچاننے کا ابھی وقت ہے سوال کرنے کا ابھی وقت ہے اس کھیل کو سمجھنے کا کیونکہ اگر ہم نے یہ وقت بھی ضائع کر دیا تو پھر شاید ہمیں وہی انجام دیکھنا پڑے جو ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں اور اس بار شاید بچنے کا کوئی راستہ نہ ہو اور بندن میاں کی یہ بات ہوا میں گونجتی رہی جیسے کوئی سچ دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو اور ہم سب اس دروازے کے پیچھے کھڑے سوچ رہے ہوں کہ اسے کھولا جائے یا نہیں اور اسی تذبذب میں وقت گزرتا جا رہا ہو اور تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرانے کے لیے تیار کھڑی ہو اور انسانیت ایک بار پھر اسی دوراہے پر آ کھڑی ہو جہاں ایک راستہ سچ کا ہے اور دوسرا خوف کا اور بندن میاں خاموشی سے ہمیں دیکھ رہے ہوں جیسے کہہ رہے ہوں کہ فیصلہ تم نے ہی کرنا ہے اور یہی فیصلہ تمہاری تقدیر لکھے گا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی اسی فیصلے کی کوکھ سے جنم لے گا اور اگر تم نے سچ کا ساتھ نہ دیا تو پھر یاد رکھنا کہ جھوٹ کبھی کسی کا نہیں ہوتا وہ صرف وقتی سہارا دیتا ہے مگر آخرکار اپنے ماننے والوں کو بھی لے ڈوبتا ہے اور یہی وہ سبق ہے جو تاریخ بار بار دیتی ہے مگر ہم ہر بار اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور پھر وہی انجام دہراتے ہیں اور بندن میاں کی آنکھوں میں وہی پرانا درد جھلکنے لگتا ہے جیسے وہ سب کچھ پہلے بھی دیکھ چکے ہوں اور جانتے ہوں کہ اگر ہم نہ سمجھے تو آنے والا کل بھی ماضی جیسا ہی ہوگا بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ بھیانک ہوگا اور یہی وہ خوفناک حقیقت ہے جسے سمجھنا اب ہمارے لیے ضروری ہو چکا ہے ورنہ یہ دنیا واقعی بارود کے ڈھیر پر نہیں بلکہ اپنے ہی فریب کے بوجھ تلے دب کر بکھر جائے گی اور پھر کوئی آواز نہ بچے گی جو سچ بیان کر سکے اور نہ کوئی کان باقی رہیں گے جو اسے سن سکیں اور یہی انسانیت کی اصل شکست ہوگی جو کسی جنگ سے نہیں بلکہ اپنی ہی غفلت سے جنم لے گی۔




